کاش یہ نوبت آئندہ نہ آئے

20

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات ٹوٹنے پر مجبوراً ایمرجنسی لگائی کیونکہ ان کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے میں ناکام رہی، شرائط طے ہوئیں مگر آخری وقت پر پی ٹی آئی وعدوں سے مکر گئی کیونکہ ان کو حکم تھا کہ دوبارہ نو مئی کرنا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں جو سنسنی خیز انکشافات کیے ان سے بھی پتا چلتا ہے کہ موجودہ مذاکرات ہی نہیں 25 نومبر 2024 کے پی ٹی آئی کے دھرنے کے موقع پر اسیر بانی پی ٹی آئی سے نہ صرف ملاقاتیں کرائی گئی تھیں مگر بانی نے اپنے مطالبات مانے جانے کے بعد بھی عین موقع پر ویڈیو بیان سے انکار کر دیا تھا۔ اب بھی مذاکرات میں پی ٹی آئی نے چار بار ڈرافٹ تبدیل کرایا پھر بھی مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے جس کے بعد کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانا پڑی جس کی ذمے داری حکومت پر نہیں بلکہ وزیر اعلی کے پی کی ہے جو مذاکرات کے لیے بار بار افغانستان میں ایک مفرور سے رابطہ کرتے تھے جن کی منظوری نہ ملنے پر مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔

 قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کے پی میں حکومتی اقدامات کی وجوہات بیان کیں اور کہا کہ ایوان میں لگی قرآنی آیات کے زیر سایہ کسی کو بھی جھوٹوں سے گریز کرنا اور ماضی اور موجودہ حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ آج جو شکوے کیے جا رہے ہیں وہ صرف ایک شخص کی رہائی اور اسے مزید سہولیات کی فراہمی کے لیے ہیں مگر پی ٹی آئی حکومت میں ہم سب نے انتہائی تکالیف برداشت کی تھیں مگر ایوان میں رونا نہ رویا تھا اس لیے ماضی سب کو یاد رکھنا چاہیے جو عشروں نہیں چند سال قبل کی ہیں۔ حکومت نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ملک سے خیرخواہی کی بجائے دہشت گردوں کی مذمت نہ کرنے والی کے پی حکومت نے ہمیں دیوار سے لگا دیا تھا جس کے بعد ملک کے لیے حکومت کو انتہائی اقدام اٹھانا پڑے۔

 حکومتی موقف کے بر عکس پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور بانی پی ٹی آئی کی طرف سے نامزد کردہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس دونوں نے ہی حکومت پر الزامات عائد کیے۔ پی ٹی آئی رہنمائوں کو سابق پی ٹی آئی وزیر اعظم کے دور میں اپوزیشن کے ساتھ ہونے والے سلوک یاد نہیں آئے اور انھوں نے بھی صرف پی ٹی آئی سے وفاداری نبھائی اور دہشت گردی کے باعث پورے ملک میں ایمرجنسی کا مطالبہ کیا۔

قومی اسمبلی میں بانی کے حکم پر بنائے جانے والے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومتی اقدامات کی مذمت کی اور سیاسی لوگوں پر اعتماد کرنے کا مطالبہ کیا اور ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے قید کے بھی واقعات اور بانی کی اسیری کا بھی ذکر کیا اور کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوا وہ اب نہیں ہونا چاہیے ،ورنہ ملک کا نقصان ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں پر اعتماد کریں ایمرجنسی کا نفاذ غلط اقدام ہے۔

ماضی میں شریف فیملی کے انتہائی قریبی ساتھی محمود خان اچکزئی سینئر سیاستدان ہیں مگر ان کی منطق ہے کہ جس اسپیکر کے حکم پر وہ اپوزیشن لیڈر بنے مگر اب وہ اسی اسپیکر کے چیمبرز میں جانے اور ان سے ملنے کو تیار نہیں۔ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے بھی قومی اسمبلی میں کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی اور اپنے وزیر اعلیٰ کی ذمے داریاں بھی اپنے کندھوں پر اٹھانی چاہئیں اور کے پی میں دہشت گردی سے متعلق جو غیر ذمے داری دکھائی اور وزیر اعلیٰ نے جو غیر ذمے دارانہ بیانات دیے وہ بھی کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا باعث بنے اور پی پی کو مجبوراً حکومتی اقدامات کا ساتھ دینا پڑا۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ آئین میں اس کی مشروط اجازت ہے مگر پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم کا اسے غیر آئینی قرار دینا سیاست کا ایک حصہ ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی سندھ میں گورنر راج لگانے کی متعدد بار کوشش کی اور ان کے وزیر دھمکیاں دیتے رہے تھے۔ کے پی میں پہلی بار حکومت نے دہشت گردی کے باعث گورنر راج لگایا مگر ماضی میں صرف اپنی پارٹی کی حکومت بنوانے کے لیے پیپلز پارٹی کے حکمرانوں نے کے پی، بلوچستان اور پنجاب میں گورنر راج لگائے مگر بدامنی کے باعث بلوچستان میںپیپلز پارٹی اور سندھ میں مسلم لیگ ن نے گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر خود اپنی حکومتیں ختم کی تھیں اور یہ غیر آئینی ہے نہ پہلی بار یہ انتہائی اقدام اٹھائے گئے۔

ہر بار انتہائی اقدام کے لیے حکومتی وجوہات پیش کی گئیں جن میں زیادہ تر درست بھی تھیں مگر ذمے دار صرف حکومتیں نہیں ہوتیں اس لیے بے سروپا الزامات لگانے اور ایسے اقدامات کو غیر آئینی کہنا سیاست کے سوا کچھ نہیں اس لیے تینوں بڑی پارٹیاں آئین میں ترمیم کر لیں کہ ملک میں جو ہونا ہو جائے مگر یہ انتہائی قدم کوئی حکومت نہیں اٹھائے گی۔

وزیر اعظم اور چیئرمین پی پی نے کے پی میں اس اقدام کی وجوہات بتا دیں جس کا فیصلہ تو اعلیٰ عدالتیں ہی کریں گی مگر ہر حکومت فیصلہ کرے کہ کاش گورنر راج اور ایمرجنسی کی نوبت آئندہ کبھی نہ آئے۔ کے پی حکومت اگر ذمے داری کا مظاہرہ کرتی تو (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کو اس انتہائی اقدام کی حمایت نہ کرنا پڑتی۔ متاثرہ پارٹی اپنی سیاست کے لیے ایسے اقدامات کی مخالفت ماضی میں بھی کرتی آئیں اور آئین سے لاعلم رہنما بھی کر رہے ہیں اس لیے بہتر اور ملک کے مفاد میں ہوگا کہ پارلیمنٹ میں مل کر اس کا مستقل حل نکال لیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }