نئی نسل خوش کم اور زندگی سے مطمئن نہیں، ہر چار میں سے ایک ڈپریشن میں مبتلا

18

امریکا میں نوجوانوں کی زندگی سے اطمینان کے حوالے سے سامنے آنے والے ایک نئے سروے کے مطابق جنریشن زی کے افراد پہلے کے مقابلے میں خود کو کم خوش اور مستقبل کے بارے میں زیادہ پریشان محسوس کر رہے ہیں۔

گیلپ کے لائف ایویلیوایشن انڈیکس کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ 18 سے 29 سال کی عمر کے 27 فیصد افراد ڈپریشن کا علاج کروا رہے ہیں، جو 2019 کے مقابلے میں 11 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔

سروے کے مطابق اس عمر کے صرف 44 فیصد افراد نے اپنی زندگی کو ترقی اور خوش حالی کی جانب گامزن قرار دیا۔ 2010 میں اسی عمر کے گروپ میں یہ شرح 64 فیصد تھی۔ نوجوانوں نے دوستوں اور شریکِ حیات سے دوری، خوشی میں کمی اور مستقبل کے حوالے سے بے یقینی جیسے مسائل کی نشاندہی بھی کی۔ ایک تہائی سے بھی کم افراد کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ایک سال کے دوران اپنے زیادہ تر اہداف حاصل کر پائے ہیں۔

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ سے تعلق رکھنے والی ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کیٹرینا فیوری کے مطابق جنریشن زی نے اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا تک مسلسل رسائی کے ساتھ ساتھ کووڈ 19 کی وبا اور رہائش کے بڑھتے اخراجات جیسے مالی دباؤ کا بھی سامنا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانی کے اہم دور میں وبا کے باعث سماجی میل جول میں آنے والی کمی کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 2010 میں 64 فیصد نوجوان اپنی زندگی کو خوش حالی کی جانب بڑھتا ہوا سمجھتے تھے، جبکہ یہ شرح 2019 میں کم ہو کر 57 فیصد رہ گئی۔ کووڈ 19 کی وبا کے دوران 2020 میں یہ مزید گر کر 39 فیصد ہو گئی۔ 2023 میں کچھ بہتری کے بعد یہ شرح 51 فیصد تک پہنچی، لیکن بعد میں دوبارہ کمی دیکھی گئی۔

نوجوانوں کے تعلقات سے متعلق نتائج بھی تشویش ناک رہے۔ صرف 47 فیصد افراد نے کہا کہ ان کے شریکِ حیات، ساتھی یا قریبی دوست کے ساتھ تعلق پہلے سے زیادہ مضبوط ہے، جبکہ 2019 میں یہ شرح 65 فیصد تھی۔ اسی طرح صرف 64 فیصد نوجوانوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ روز خوشی محسوس کی، جو 2019 کے مقابلے میں 17 فیصد پوائنٹس کم ہے۔ گزشتہ ہفتے کے ہر دن خود کو متحرک اور پیداواری محسوس کرنے والوں کی شرح بھی صرف 28 فیصد رہی، جو پہلے کے مقابلے میں 16 فیصد پوائنٹس کم ہے۔

ڈاکٹر فیوری کا کہنا ہے کہ جنریشن زی پہلی ایسی نسلوں میں شامل ہے جس نے بچپن اور نوجوانی کا بڑا حصہ آن لائن گزارا۔ ان کے مطابق تحقیقی مطالعات میں سوشل میڈیا کے استعمال کے ساتھ کھانے پینے سے متعلق نفسیاتی مسائل اور ڈپریشن کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، اس لیے یہ عنصر بھی نوجوانوں کی کیفیت میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

مستقبل کے بارے میں امید دلانے والی شخصیت کی موجودگی سے متعلق سوال پر صرف ایک تہائی نوجوانوں نے کہا کہ ان کی زندگی میں کوئی ایسا رہنما موجود ہے جو انہیں مستقبل کے لیے پُرجوش کرتا ہے۔ 2019 میں 47 فیصد نوجوانوں نے کسی ایسی شخصیت کی موجودگی کا ذکر کیا تھا جسے وہ اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے۔

معیارِ زندگی کے بارے میں بھی نوجوانوں کی رائے میں کمی دیکھی گئی۔ صرف 41 فیصد نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے معیار سے اپنے اردگرد کے لوگوں کے مقابلے میں مطمئن ہیں، جبکہ 2019 میں یہ شرح 14 فیصد پوائنٹس زیادہ تھی۔ اسی طرح صرف 31 فیصد نوجوانوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ 12 ماہ میں اپنے بیشتر اہداف حاصل کر سکے، جبکہ پہلے یہ شرح 44 فیصد تھی۔

سروے کے مطابق زندگی سے کم اطمینان کا رجحان صرف جنریشن زی تک محدود نہیں۔ 30 سے 44 سال کی عمر کے ملینیلز میں بھی صرف 45 فیصد افراد نے خود کو خوش حالی کی جانب بڑھتا ہوا قرار دیا۔ 45 سے 64 سال کی عمر کے جنریشن ایکس میں یہ شرح 46 فیصد رہی، جو اس نسل کی 2008 کی کم ترین سطح کے برابر ہے۔ اس کے برعکس 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بیبی بومرز میں زندگی سے اطمینان کی شرح 2008 کے 38 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 53 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2021 کی بلند ترین سطح کے برابر ہے۔

یہ نتائج نوجوانوں کی ذہنی صحت، سماجی تعلقات اور معاشی دباؤ سے متعلق مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں، تاہم سروے کے اعداد و شمار بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتے کہ ان تبدیلیوں کی واحد وجہ سوشل میڈیا، وبا یا مالی مشکلات ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }