
اسلام آباد:
اسلام آباد(ارشاد انصاری سے)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں قدرتی، مصنوعی اور مخلوط ریشوں کی پروسیسنگ کی الیکٹرانک نگرانی کے لیے ویڈیو سرویلنس کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دے دی ہے اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نیسیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 30 جاری کردیا ہے جس کے تحت تمام رجسٹرڈ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پندرہ نومبر 2026تک مقررہ مقامات پر ویڈیو سرویلنس کیمرے نصب کریں۔ اس اقدام کا مقصد کپاس، پالئیسٹر، ویسکوز، اون اور ایکریلک سمیت قدرتی، مصنوعی اور مخلوط ریشوں کی کھلی، غیر گانٹھ شدہ یا دیگر غیر بیل شکلوں میں پروسیسنگ کی ویڈیو نگرانی اور ویڈیو اینالیٹکس کے ذریعے مانیٹرنگ کرنا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق یہ انتظام پہلے سے نافذ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 08 آف 2025 کے تحت کپاس کی گانٹھوں کی نگرانی کے علاوہ ہوگا نئے حکم کے تحت کیمرے ہاپر بیل اوپنرز، ہاپر فیڈرز، قدرتی اور مصنوعی ریشوں کو ملانے والے ویئنگ ہاپر اور بلینڈنگ فیڈرز، مصنوعی ریشوں کی مخصوص بلو روم لائنز، ویسٹ اوپنرز، ری سائیکلنگ لائنز اور ان مقامات پر نصب کیے جائیں گے جہاں ریشوں کو بلو روم میں منتقل کرنے سے پہلے ذخیرہ یا آپس میں ملایا جاتا ہے۔ ایف بی آر نے بورڈ سے منظور شدہ ویڈیو اینالیٹکس سسٹم فراہم کرنے والے وینڈرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ ان کیمروں کو اپنے نظام کے ساتھ منسلک کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ نظام کھلی یا غیر گانٹھ شدہ شکل میں فراہم کیے جانے والے ریشوں کی شناخت، گنتی اور مقدار کا تعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ حکم نامے کے مطابق نظام میں پیداواری عمل کی حقیقی وقت میں ویڈیو ریکارڈنگ، پیداوار سے متعلق ڈیٹا کی فوری وصولی، اشیا کی شناخت اور گنتی، ایف بی آر کے مرکزی کنٹرول یونٹ کو ڈیٹا کی فوری ترسیل، ریکارڈ محفوظ رکھنے، غیر متوقع طور پر کام رکنے کی نشاندہی، پیداوار کے مقداری تجزیے اور قانونی کارروائی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کی سہولت لازمی ہوگی ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 08 آف 2025 بدستور نافذ رہے گا اور نیا حکم اسی کے اضافے کے طور پر پڑھا جائے گا۔ نئے احکامات کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔۔۔