عالمی معاشی سیاسی تبدیلی کے امکانات

22

دنیا کی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں،جب اقتدارکے ایوانوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی گونج ہزاروں میل دورکسی غریب ملک کے بازاروں، پٹرول پمپ، بجلی کے بل اور مزدور کے چولہے تک پہنچتی ہے۔ پاکستان جسے اب درآمدات پر انحصارکرنے والا ملک کہا جاتا ہے، اس کے لیے امریکی سیاست کے نتائج بھی بیرونی خبر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ڈالر کی دوڑ میں مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر، بلکہ کچھ عرصے سے ایران امریکا کشیدگی کے باعث پیٹرولیم درآمدات سے ہوتا ہوا عام آدمی کی موٹر سائیکل کی ٹنکی سے نکل کر اس کی روٹی پر حملہ آور ہوچکا ہے۔

امریکا کے انتخابی نتائج جنوری 2027ء سے صدر ٹرمپ کے لیے مشکلات کھڑی کردیں گے، اگر نئے ممبران جنگی اخراجات، تجارتی محصولات اور حکومتی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھا لیتے ہیں تو واشنگٹن کی ترجیحات تبدیل ہوسکتی ہیں اور اس تبدیلی کا اثر عالمی سرمایہ کاری، دفاعی صنعت، ڈالر اور توانائی کی منڈی تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر اسرائیل میں ایسی حکومت قائم ہوتی ہے جیسا کہ تل ابیب میں یہودی مسلم اتحاد کی حکومت کے مطالبے سامنے آرہے ہیں تو ایسی صورت میں جنگی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات علاقائی مفاہمت کو ترجیح دی جاتی ہے تو عالمی سرمایہ کاروںکا اعتماد بحال ہونے کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں بھی کمی متوقع ہے۔

ابھی تک تو یہی دیکھاگیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل صرف ایک جنس نہیں ہے بلکہ جہاز، طیارے، ٹرک،کارخانے اور بجلی کی پیداوار تک توانائی کے نظام سے جڑے ہیں۔ چند روز پہلے جیسے ہی امن مذاکرات کی ایک کرن دکھائی دی، اس کے ساتھ ہی تیل کی قیمت میں 6 فیصد کی کمی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی تیل کی منڈی نے طلب و رسد کے معاشی اصولوں سے قطع تعلق کر لیا ہے اور پاکستان تو اس سمندری راستے پر ہی سارا انحصار کرتا ہے کہ آبنائے ہرمزکو چھینک آتی ہے تو پاکستان کی معیشت زکام کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔

پہلے ان انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے فایدہ یا نقصان، اس کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان نتائج کے باعث اگر واشنگٹن میں سیاسی پالیسی اعتدال پر مبنی ہوجاتی ہے، اگرڈیموکریٹس کے بیانات سنتے ہیں تو امکان ہے کہ جنگی اخراجات میں کمی ہوگی جس کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آئے گی۔ فی الحال نتائج کے فوری بعد تیل کی قیمت گرکر برینٹ کروڈ آئل 94ڈالر اور WTIکروڈ 87 ڈالر تک پہنچی ہے اورآئی ایم ایف پروگرام کے تحت جس طرح سے دباؤ ناک رگڑواؤ کی پالیسی تھی اس میں کمی سے پاکستان کو ریلیف مل سکتا ہے۔

 ادھر چین اور امریکا کی مسابقت میں توازن کی صورت میں تجارتی راستے اور دو طرفہ تعلقات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، اگر نئی انتظامیہ کا مقصد تجارتی اصلاحات ، درآمدی اخراجات میں کمی اور ملکی پیداوار کی حوصلہ افزائی رہا تو ایسی صورت میں پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ واشنگٹن اور بھارت کے مضبوط تجارتی اور دفاعی تعلقات کے امکانات سے پاکستان میں امریکی دلچسپی میں کمی سے بھارت کو ملنے والی حوصلہ افزائی کے باعث افغانستان سے دراندازی میں اضافے کا خدشہ ہے جو پاکستان کی سیکیورٹی توازن پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

اسرائیل کی داخلی سیاست اور وہاں حکومت کی تشکیل پر امریکی انتخابی نتائج کے انتہائی گہرے اور براہ راست اثر مرتب ہوتے ہیں چوں کہ امریکا اسرائیل کا سب سے اہم اسٹرٹیجک ، معاشی اور فوجی اتحادی ہے۔ اس لیے اب بھی پہلے کی طرح واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سیاسی، دفاعی اور معاشی فیصلے تل ابیب کی سیاست کے امکانات تو طے کریں گے۔ امید ہے کہ نیتن یاہو کے مقابلے میں نئی حکومت ڈیموکریٹس کے مزاج کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی صلاحیت کا اظہارکرے گی۔ اس کو یوں سمجھ سکتے ہیں کہ اگر جنگ کے مخالفین اور امداد پر تحفظات رکھنے والے اثر انداز ہوجاتے ہیں تو اسرائیل پر عالمی سطح پر نفسیاتی دباؤ بڑھ جائے گا۔امریکی انتخابات کے نتائج سے اسرائیل پر فوری اثرات ہونے جارہے ہیں کہ نیتن یاہو کو ہٹاکر اسرائیلی اپوزیشن کی حکومت کے امکانات جلد ظاہر ہوں گے۔

 ایسی صورت میں پاکستان کے لیے زیادہ مفید یہ ہوگا کہ تیل کی قیمتیں کم ہوں گی۔ عالمی کساد بازاری کم ہونے سے پاکستانی برآمدات میں اضافے کے لیے جی 24 کی سربراہی ملنے پر بھرپور تجارتی سفارت کاری بھی کام آئے گی کہ اس تنظیم کے 28 ملکوں میں سے زیادہ تر سے تجارتی آسامیوں کی امید کو عملی شکل دی جاسکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }