بی جے پی مسلمان ناموں سے خوفزدہ، 40 گاؤں کے نام تبدیل کرنے کا عندیہ

117

نئی دہلی میں روہنگیا اور بنگلادیشی تارکین وطن مسلمانوں کی دکانوں اور املاک کو مسمار کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی  دارالحکومت کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئی.

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہلی کے صدر آدیش گپتا مسلمان دشمنی پر مبنی مہم ’’بلڈوزر‘‘ چلا رہے ہیں۔

 جس میں روہنگیا اور بنگلادیش سے آئے مسلمان تارکین وطن کی دکانوں اور املاک کو غیر قانونی قرار دیکر مسمار کیا جا رہا ہے، کشمیر میڈیا سروس

آدیش گپتا نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ وزیراعلیٰ اروند کجروال سے ایسے 40 گاؤں کے نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن سے اسلام یا مسلمانوں کا تعلق ظاہر ہوتا ہو،

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دہلی کی اروند کیجریوال حکومت سے قومی دارالحکومت کے کم از کم 40 گاؤں کے مسلم ناموں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بی جے پی کی دہلی یونٹ کے سربراہ آدیش گپتا، جو ‘روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں’ کی طرف سے تجاوزات کے خلاف اپنی پارٹی کی ‘بلڈوزر’ مہم کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ حکومت کو ایک تجویز بھیجیں گے کہ ان گاؤں کے نام تبدیل کیے جائیں جو ‘غلامی’ کے دور کی علامت ہیں۔ .

آدیش گپتا کو کہنا تھا کہ کوئی بھی غلامی کی ذہنیت کے ساتھ نہیں جینا چاہتا ہے جس کا یہ نام ظاہر کرتے ہیں۔ مجھے کئی گاؤں والوں کی طرف سے اپنے گاؤں کے نام تبدیل کرنے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

گپتا کے مطابق، بی جے پی کے زیر اقتدار جنوبی ایم سی ڈی نے گاؤں محمد پور کا نام بدل کر مادھو پورم کرنے کی قرارداد پاس کی لیکن دہلی حکومت اس پر بیٹھی ہے اور اسے منظور نہیں کر رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }