اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026،ابوظہبی میں پاکستان کی پانچ کمپنیوں کی نمایاں شرکت۔ت

سفیرپاکستان شفقت علی خان نے پاکستان پویلین کا افتتاح کیا۔

12

اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026،ابوظہبی میں پاکستان کی پانچ کمپنیوں کی نمایاں شرکت۔

سفیرپاکستان شفقت علی خان نے پاکستان پویلین کا افتتاح کیا۔

 پاکستانی ٹیکنالوجی سیکٹر کی عالمی سطح پر پذیرائی کے نئے امکانات

  نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے پر زور۔

ابوظہبی(اردوویکلی):: مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے عالمی میدان میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی ایونٹ اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026   میں پاکستان نے نمایاں شرکت کی ہے۔ اس موقع پر پانچ پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید حل اور خدمات پیش کرتے ہوئے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا۔
اس عالمی ایونٹ میں 70 ممالک سے 500 سے زائد نمائش کنندگان اور 150 سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ یہ پلیٹ فارم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور صنعت کے نمائندوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور نئے کاروباری و تجارتی مواقع تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کا پویلین پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ  کے زیرِ اہتمام قائم کیا گیا، جہاں شریک پاکستانی کمپنیوں نے اپنی جدید تکنیکی مہارت، اختراعی صلاحیتوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات و خدمات کو بین الاقوامی شرکا کے سامنے پیش کیا۔ پاکستانی کمپنیوں کے پیش کردہ حل میں اے آئی ڈیٹا انٹیلی جنس، اے آئی سرویلنس، اے آئی سیلز سلوشنز اور سوورین اے آئی سمیت اہم ٹیکنالوجی شعبے شامل ہیں۔

سفیرپاکستان شفقت علی خان کے ہاتھوں پاکستان پویلین کا افتتاح

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے پاکستان پویلین کا افتتاح کیا اور نمائش میں شریک پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندگان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان کی فعال شرکت اور ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی صلاحیتوں کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا۔
سفیر شفقت علی خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستان کی ترقی اور عالمی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے جدید مہارتوں سے آراستہ افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔ بالخصوص نوجوان نسل کو مصنوعی ذہانت، کوڈنگ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی تربیت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نوجوانوں اور ماہرین کی تیاری نہ صرف پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کو مضبوط بنائے گی بلکہ پاکستانی کمپنیوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں پیدا ہونے والے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بھی بنائے گی۔
اے آئی ایوری تھنگ گلوبل 2026 میں پاکستان کی شرکت محض ایک نمائش میں شمولیت نہیں بلکہ ملکی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے عالمی سطح پر کاروباری روابط، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے امکانات پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔
اس ایونٹ کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں، عالمی ٹیکنالوجی اداروں اور صنعت کے سرکردہ نمائندوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع مل رہا ہے۔ اس سے پاکستانی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانے، ممکنہ تجارتی معاہدوں کی راہ ہموار کرنے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستانی مندوبین عالمی اسٹیک ہولڈرز اور ٹیکنالوجی ماہرین کے ساتھ ملاقاتوں اور تبادلۂ خیال کے ذریعے اے آئی پر مبنی جدت، ڈیجیٹل تبدیلی اور باہمی تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔

پاکستانی سفارتی مشن، پی ایس ای بی اور وزارتِ آئی ٹی کا تعاون

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کی اس شرکت کو پاکستانی سفارتی مشن کے کمرشل سیکشن کی جانب سے سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جس کی قیادت ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر علی زیب خان کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون جاری ہے۔
سرکاری اداروں اور سفارتی مشن کے درمیان یہ اشتراک پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے، برآمدات کے فروغ اور بیرونی منڈیوں میں کاروباری مواقع تک رسائی بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خدمات کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے لیے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات مالی سال 2024-25 میں 376 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 536 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو تقریباً 42 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
آئی ٹی برآمدات میں یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل خدمات اور تجارتی روابط کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید کاروباری تعاون، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امکانات بھی روشن ہیں۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }