اسرائیل اور تازہ سی آئی اے رپورٹ

12

امریکی سی آئی اے نے اسرائیل کی داخلی صورتِ حال کے بارے میں ’’ اندرونی فریکچر ‘‘ کے عنوان سے جو تجزیاتی جائزہ مرتب کیا ہے ، ڈراپ سائٹ نیوز کے مطابق اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ ستائیس اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے حلیفوں کے لیے سیاسی بقا کا مسئلہ ہے۔ رائے عامہ کے اب تک کے اندازوں کے مطابق کنیسٹ (پارلیمنٹ ) کی ایک سو بیس نشستوں میں سے حکومت سازی کے لیے کم ازکم اکسٹھ نشستیں درکار ہیں اور نفاق اتنا شدید ہے کہ کوئی بھی جماعت اپنے تئیں اکثریت حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

ہارنے کی صورت میں نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات میں جیل جانا پڑ سکتا ہے جبکہ جیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ سوال ہے کہ کیا قدامت پسند حریدی فرقے کے نوجوانوں کو لازمی فوجی خدمات سے جو استثنٰی حاصل ہے اسے جاری رکھا جائے یا ختم کر دیا جائے۔اگر جاری رکھا جائے تو ووٹروں کی بڑی تعداد مخالف ہو سکتی ہے جن کا موقف ہے کہ جب ہر اسرائیلی شہری کے لیے تین برس کی فوجی خدمات لازم ہیں تو ایک ایسے وقت جب لاکھوں ریزرو فوجی غزہ ، مقبوضہ مغربی کنارے ، جنوبی شام اور جنوبی لبنان میں لڑ رہے ہیں، کیا مذہبی طبقہ آسمان سے اترا ہے کہ اسے اس عذر کے بہانے ان خدمات سے الگ رکھا جائے کہ ان کا دھیان مدارس میں تورات کی تعلیم حاصل کرنے سے نہ بھٹکے۔اور اگر نیتن یاہو مذہبی طبقے کا استثنٰی ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر انیس سو چھیانوے سے اب تک ساتھ دینے والی دو انتہائی مذہبی جماعتوں یونائیٹڈ تورا جوڈا ازم ( یو ٹی جے) اور شاز کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ایسی صورت میں نیتن یاہو کا پھر سے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کا خواب دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔

نیتن یاہو کے لیے پہلے ہی مشکلات کیا کم تھیں کہ اتحادی جماعت یو ٹی جے کے ایک دھڑے کے روحانی قائد اور اسرائیل کے ایک سینیر ترین رباعی ڈوو لانڈو کے اس بیان نے ہلچل مچا دی کہ صیہونیت کے سبب نہ صرف عرب ہم سے نفرت کرتے ہیں بلکہ اس نظریے نے یہودیوں کو بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا ، صیہونی چور ہیں اور یہ کہ سیکولر یہودیوں کا یہودیت سے کوئی لینا دینا نہیں اور یہ کہ اگر اسرائیل نہ بنتا تو ہمارے لیے زیادہ بہتر تھا۔جب یہاں عرب حکمرانی تھی تو حالات بہت اچھے تھے۔

اگر کوئی عرب اسرائیلی شہری ایسا بیان دیتا تو اب تک سلاخوں کے پیچھے ہوتا مگر رباعی ڈوو لونڈو اور ان کے حامی بخوبی جانتے ہیں کہ اسرائیل میں ان کے اس بیان پر دانت پیسنے کے سوا ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ نیتن یاہو کے سیاسی حریفوں گادی آئزن کوٹ اور یائر لیپڈ نے رباعی لونڈو کے بیان کو شرمناک قرار دیا ہے جبکہ سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے سینیر ترین رباعی کو یہودیوں اور فوج کا دشمن بتایا ہے۔مگر نیتن یاہو بوجوہ اس بارے میں خاموش ہیں۔

حالانکہ نیتن یاہو کے ایک بار پھر وزیرِ اعظم بننے نہ بننے سے کم ازکم فلسطینیوں کو سوائے اس کے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس وقت ان کے گلے پر صیہونی فاشزم کی کند چھری ہے اور کوئی دوسرا وزیرِ اعظم آئے گا تو وہ اسی چھری پر ذرا سا روغن لگا کے چکنا کر لے گا۔

سی آئی اے کی مشاہداتی رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی ہو نہ ہو مگر اس کا مصالحہ تیار ہے۔سماج میں انتہاپسندی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔ فوجی خدمات انجام دینے والے شہریوں کو ملٹری گریڈ اسلحہ رکھنے اور اس کی نمائش کا حق حاصل ہے اور ایسے شہریوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کا لگ بھگ ہر یہودی آبادکار جدید اسلحے سے لیس ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر بین گویر نے گذشتہ تین برس میں ہتھیاروں کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ مزید لائسنس جاری کیے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں متعدد بار اسرائیلی فوجیوں اور مسلح آبادکاروں نے ایک دوسرے پر بندوق بھی نکالی ہے ۔

جن لاکھوں شہریوں نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے پر لازمی فوجی خدمات انجام دی ہیں بیشتر کے ذہنوں پر اس مدت کے دوران پیش آنے والے تلخ انسانی تجربات کے سبب گہرا منفی اثر پڑا ہے اور وہ طبعاً مزید متشدد ہو گئے ہیں۔ایسے حالات میں یہ امکان مسلسل رہتا ہے کہ کسی بھی وقت سیاسی اختلاف مسلح اختلاف میں بدل جائے۔ سی آئی اے کے مطابق اس وقت اسرائیلی ریاست کو درپیش یہ سنگین ترین اندرونی خطرہ ہے۔

اسرائیل جب سے تشکیل پایا مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔معیشت بھی جنگی بنیادوں پر استوار ہے۔ عدم تحفظ کا احساس انفرادی نہیں بلکہ قومی ہے۔اسی لیے دفاع اور جارحیت میں فرق کرنے سے اسرائیلی سماج قاصر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل میں پیدا ہونے والی سیاسی نسلوں کو بات چیت ، کچھ لو کچھ دو اور دلیل کے ساتھ امن جیسی اصطلاحات سمجھ میں نہیں آتیں۔یعنی ہمسائیوں کو اگر ڈرا دھمکا کے نہ رکھا تو وہ تم پر چڑھ دوڑیں گے۔اس سے پہلے کہ وہ یہ حرکت کریں تم ان پر چڑھ دوڑو۔یہ ہے وہ قومی نظریہ جسے اسرائیلی ذہن اپنی بقا کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جس کے آئین میں ملک کی کوئی متعین بین الاقوامی سرحدیں طے نہیں ہیں کیونکہ ریاست کا ایک ایک انچ غصب شدہ ہے۔

صیہونی نسل پرست غزہ اور مغربی کنارہ تو فلسطینیوں سے خالی کروانا ہی چاہتے ہیں مگر اب وہ اسرائیل میں بسنے والی بیس فیصد عرب آبادی سے بھی چھٹکارا چاہتے ہیں۔اگرچہ اسرائیلی عرب پہلے ہی سے عملاً درجہ دوم کے شہری ہیں مگر انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں اسرائیلی عربوں کی اس ثانوی حیثیت کو بھی ہضم کرنے کو تیار نہیں۔

سابق پارلیمنٹ میں پانچ عرب اسرائیلی نمائندے بھی تھے۔تاہم گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کی سینٹرل الیکشن کمیٹی نے متفقہ طور پر اسرائیلی عربوں کی دو بڑی سیاسی جماعتوں رام اور ہداش کے یونائیٹڈ عرب اتحاد اور تال اور بلاد پر مبنی اتحاد جوائنٹ لسٹ کے بارے میں فیصلہ دیا کہ ان کی سرگرمیاں ملکی سلامتی کے منافی ہیں لہذا وہ ستائیس اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ساتھ ہی ساتھ الیکشن کمیٹی نے عرب ہداش پارٹی کے یہودی رکن اوفر کسیف اور بلاد پارٹی کے سربراہ سمیع عبدالشہادہ کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

دونوں رہنماؤں پر اینٹی اسٹیٹ ہونے کی فردِ جرم عائد کی گئی۔سمیع عبدالشہادہ پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک اخباری مضمون میں سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کو ایک اہم تاریخی موڑ لکھا اور یوں وطن ( اسرائیل ) سے غداری کے مرتکب ہوئے۔

البتہ سپریم کورٹ نے ان پارٹیوں اور اوفر کسیف پر پابندی کو کالعدم قرار دے دیا تاہم بلاد پارٹی کے سربراہ سمیع عبدالشہادہ سے عدالت نے کہا کہ چونکہ ججوں کی اکثریت ان کی نااہلی کے حق میں ہے لہذا بہتر یہی ہوگا کہ وہ نااہلی سے بچنے کے لیے ازخود انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیں۔چنانچہ سمیع عبدالشہادہ نے بادلِ نخواستہ دستبرداری کا اعلان کر دیا۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }