کیلاش کی وادی – ایکسپریس اردو

10

بس ڈرائیور نے ہمیں صبح 6 بجے ایون وادی پہنچا دیا اور یہی وہ مقام ہے جو ہمیں کیلاش کی سحر انگیز وادی میں لے جائے گا ایون وادی کیلاش کا گیٹ وے ہے یہ پورا علاقہ دریائے چترال کے کنارے پر آباد ہے کیلاش ایک ایسی وادی جس کے رسم و رواج دنیا کے کسی اور علاقے اور مذہب میں نہیں ملتے۔ ایک ایسی وادی جہاں کسی کے مرنے پر غم نہیں بلکہ خوشی منائی جاتی ہے، جہاں منفرد قسم کے سال میں 4 تہوار منائے جاتے ہیں۔ ہم بھی انہیں میں سے ایک تہوار کا حصہ بننے کے لیے گھر سے نکلے ہیں۔ مہینہ ہے مئی کا اور تہوار ہے چلم جوشی۔

ہندو کش بس سروس لاری اڈا پیر ودھائی سے روزانہ رات 8 بجے چترال کے لیے روانہ ہوتی ہے۔ ہمارے اس سفر میں 6 دوستوں کا گروپ ہے۔ ہم 5 دوست پیر ودھائی سے ہی بس میں سوار ہوئے جب کہ ریاض بھائی نے ہمیں 26 نمبر سے جوائن کیا اور ساتھ میں نان اور تکے بھی لے آئے کیوںکہ اس بس کا اگلا پڑائو رات 12 بجے کے قریب لوئر دیر پر ہونا تھا۔ رات کے گھپ اندھیرے میں بس M1 موٹر وے پر 410کلومیٹر کے طویل سفر کو کم کرتی چلی جا رہی تھی۔ کرنل شیر خان انٹر چینج پر بس نے M1کو الوداع کہا اور سوات موٹر وے پر آگئی اور یہاں سے رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب لوئر دیر پہنچ گئی، یہاں ایک گھنٹے کا پڑائو تھا۔ اس بس میں کیلاش جانے والے ہم چھے ہی لوگ تھے باقی سب چترال جا رہے تھے۔ یہاں ہم نے نماز ادا کی، چائے پی اور بس نے ایک مرتبہ پھر چترال کی جانب اپنا سفر شروع کردیا۔ سارے راستے میں سڑک کی حالت بہت خراب تھی۔ بس ہچکولے کھاتی آگے بڑھتی رہی۔ ہم سو گئے آنکھ اس وقت کھلی جب بس لواری ٹنل میں سے گزر رہی تھی۔ تب کچھ اطمینان بھی ہوا کہ اب سفر زیادہ نہیں رہا اور منزل کے قریب ہیں۔ لواری سے چترال 80 کلومیٹر دور ہے جب کہ ایون 60 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ لواری ٹنل کا منصوبہ پاکستان کا سب سے قدیم منصوبہ تھا۔ پاکستان بننے کے بعد 1955ء میں انگریز دور کی تیار کردہ ڈرائنگ ہی کی بنیاد پر پہلی مرتبہ اس پراجیکٹ کے لیے سروے کا آغاز کیا گیا جس نے ایک سال کے اندر اپنی رپورٹ متعلقہ حکام کے حوالے کردی لیکن کچھ وجوہات کے باعث کام شروع نہ ہوسکا۔ 1970ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آئے تو 1975ء میں لواری ٹنل منصوبے پر دِیر کی طرف سے کام کا آغاز کردیا گیا۔ بدقسمتی سے 1976ء فنڈز کی کمی کی وجہ سے اس پر کام روک دیا گیا۔ اس کے بعد 2005ء تک یہ منصوبہ سردخانے کی نذر ہا۔ 2005ء میں جنرل پرویزمشرف نے دوبارہ اس منصوبہ پر کام کا اعلان کیا۔ لواری ٹنل صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال اور ضلع دیر کے درمیان درہ لواری میں پہاڑوں کے نیچے سے گزرتی ہے۔ سڑک کے ذریعے یہ سرنگ چترال اور دیر کو آپس میں ملاتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ دو سرنگیں ہیں ایک کی لمبائی 8.5کلومیٹر جب کہ دوسری کی لمبائی 1.9کلومیٹر ہے۔ یہ پاکستان کی طویل ترین سرنگ ہے۔ چترال کے عوام کے لیے جنوری 2009ء کا دن ایک یادگار دن تھا جب اس ٹنل کی کھدائی کا کام مکمل ہوا اور ہفتے میں 3 دن گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دے دی گئی۔ 2013ء میں دوبارہ کام کا آغاز ہوا اور بالآخر 20 جولائی 2017ء کو اس دیرینہ منصوبہ کا افتتاح کیا گیا۔ اس منصوبہ پر 26ارب 85کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت آئی جس کے ساتھ ہی چترال کے عوام نے سکھ کا سانس لیا کیوںکہ کئی گھنٹوں کا بے یقینی کا سفر اب چند منٹوں میں بہ آسانی طے ہو جاتا ہے۔

ایون سے کیلاش تک کا سفر مزید ڈیڑھ گھنٹے کا ہے جو چھوٹی گاڑی میں ہی ممکن ہے۔ ایون سڑک سے ہی جیپ اور چھوٹی گاڑیاں کیلاش تک مل جاتی ہیں۔ ہمیں بھی ایسی ہی ایک ڈاٹسن نما گاڑی مل گئی ایون سے کیلاش کا سارا راستہ بہت خطرناک ہے سڑک نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کئی مقامات پر پُرخطر موڑ آتے ہیں چار سیٹوں والی گاڑی میں ہم چھے لوگ جڑ کر بیٹھے ہوئے تھے میں اور قیصر اس گروپ کے سب سے اسمارٹ ٹورسٹ تھے، سو ہمیں فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا اعزار ملا۔ ہم بھی ایسے انداز میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دور سے دیکھنے والوں کو ایسا ہی لگ رہا ہوگا جیسے کوئی خاتون آٹا گوندھ رہی ہے۔ ہچکولے کھاتی گاڑی کیلاش کے سب سے مشہور گائوں بمبوریت کی طرف بڑھ رہی تھی۔ آدھے سفر کے بعد ایک چیک پوسٹ آئی جہاں سیاحوں کو اپنی شناخت کروانی ہوتی ہے اور بمبوریت میں داخل ہونے کی فیس بھی دینی ہوتی ہے۔ یہ چیک پوسٹ دریائے کیلاش کے اوپر بنے پل کے پار ہے اور یہ جنکشن ہے جس کے دائیں جانب کا راستہ 8 کلومیٹر کے فاصلے پر رمبور گائوں کی طرف جاتا ہے اور بائیں جانب 12 کلومیٹر کے فاصلے پر بمبوریت کی طرف جاتا ہے۔ گذشتہ روز چلم جوشی کا تہوار رمبور گائوں میں ہوچکا تھا۔ آج یہ تہوار بمبوریت میں ہے۔ بمبوریت میں ایک گیسٹ ہائوس میں ہم ایک کمرا بک کروا چکے تھے۔ یہ گیسٹ ہائوس گھنے درختوں کے بیچ میں خوب صورت لوکیشن پر ہے۔ ابھی تہوار میں وقت تھا اس لیے ہم نے گیسٹ ہائوس میں سامان رکھا اور مختصر تیاری کے بعد کچھ ہی دیر میں اس مقام پر پہنچ گئے جہاں 2 بجے تہوار ہونا تھا۔ ابھی کافی ٹائم تھا اس لیے ہم یہاں سے کچھ ہی دور کراکال گائوں میں آگئے۔ کراکال میں داخل ہوتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے رنگ زمین پر اتر آئے ہوں کیلاش خواتین کے شوخ رنگ لباس سر پر سجے موتیوں کے تاج اور بچوں کی معصوم ہنسی نے فضا کو خوشی سے بھرا ہوا تھا۔ بمبوریت، رمبور، بریر، باتریک کیلاش کے اہم گائوں ہیں مگر بمبوریت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں کیلاش سب سے زیادہ بستے ہیں۔ کیلاش پاکستان کی وہ قوم ہے جو سال میں سب سے زیادہ تہوار مناتی ہے۔ یہ لوگ دو بڑے اور دو چھوٹے تہوار مناتے ہیں۔ چلم جوشی اور چوموس دو بڑے تہوار ہیں۔ مئی کے مہینے میں چلم جوشی اور دسمبر میں چوموس کا تہوار منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار ان کی عبادت بھی ہے اور ثقافت بھی۔ ان تہواروں میں ان کی عورتیں لمبی کالے رنگ کی قمیصیں جن پر رنگین کڑھائی ہوئی ہوتی ہے پہنتی ہیں۔ ان کے لباس میں دل چسپ پہناوا ان کی ٹوپی ہے جو کمر تک لٹکی ہوتی ہے۔ اس پر مونگے اور سیپیوں کا خوب صورت کام ہوتا ہے۔ یہ سیاہ لباس غم کی علامت نہیں بلکہ ان کی شناخت ہے۔ یہ رنگ انہیں ارد گرد کی دوسری اقوام سے ممتاز کرتا ہے جو فطرت کی سنجیدگی، زمین کی مضبوطی اور روایت کی استقامت کی علامت بن کر سامنے آتا ہے جو اس وادی کی روح میں رچ بس چکا ہے اور ان کی پہچان بن چکا ہے۔ کیلاش خواتین اپنے یہ لباس خود بناتی ہیں۔ ان پر کڑھائی بھی اپنے ہاتھوں سے کرتی ہیں۔ وہ اپنا لباس کسی کو دیتی نہیں ہیں اور بیچتی بھی نہیں ہیں، جو لباس وہ بیچتیی ہیں وہ مشین سے بناتی ہیں۔ یہ لباس ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسے مقدس تصور کیا جاتا ہے۔ یہ لباس اکثر ماں سے بیٹی کو منتقل ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ لباس کئی سالوں بلکہ نسلوں تک محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس لیے اس کو فروخٹ کرنا اپنی روایات کو کم زور کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ایک روایتی لباس تیار کرنے میں مہینوں کی محنت اور ہاتھ کی کڑھائی شامل ہوتی ہے۔ خواتین اس میں وقت اور محنت لگاتی ہیں۔ اس لیے وہ اسے یادگار کے طور پر سنبھال کر رکھتی ہیں۔ اکثر غیرملکی سیاح ان کو ہزاروں ڈالر کی پیشکش کرتے ہیں مگر وہ ان کو بھی نہیں بیچتیں۔ کیلاش عورت کا لباس اس کی زینت ہی نہیں بلکہ اس کی شناخت، اس کا مان اور اس کی تہذیب کی امانت ہے جسے وہ بازار کی زینت نہیں بننے دیتی۔

 چوموس طویل تہوار ہوتا ہے جو 7 سے 22 دسمبر تک جاری رہتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ موسم سرما کے استقبال کا جشن ہوتا ہے جس کا آغاز اس دعا سے ہوتا ہے کہ اگلا سال خیریت اور خوش حالی سے گزرے۔ اس دوران دعائیہ تقریبات اور اجتماعی شادیوں کا اہتمام ہوتا ہے اور دل چسپ رسومات ادا کی جاتی ہیں ۔ اچائو کا تہوار1جون سے 20 جون تک ہوتا ہے۔ اس دوران کیلاشی پھل اور اناج کا استعمال نہیں کرتے۔ جونہی 20 جون شروع ہوتا ہے کیلاش لوگ سال بھر کے اناج اور پھل کی فصل کی خوشی میں جشن مناتے ہیں۔ شوشو موسم گرما کا تہوار ہے جو فصلوں کی کٹائی کی خوشی میں منایا جاتا ہے اور برجیو موسم خزاں کا تہوار ہے۔ یہ بھی فصلوں کی کٹائی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔

 کراکال میں کلاشیوں کا قدیم قبرستان ہے۔ ہم نے اس قبرستان کا دورہ کیا۔ کیلاش قبیلے میں جب کوئی فوت ہوجاتا ہے تو وادی میں اس کی وفات کو صرف غم کا موقع نہیں بلکہ زندگی کے ایک فطری مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کے عقائد کے مطابق موت ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ میت کو لکڑی کے تابوت میں رکھا جاتا ہے۔ لاش کو کمیونٹی سینٹر لایا جاتا ہے جہاں مخصوص پوجا اور رقص ہوتا ہے اور خوشی منائی جاتی ہے۔ کیلاشی کہتے ہیں کہ خوشی منانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مرنے والا دنیا کے غموں سے آزاد ہو گیا ہے۔ وفات کے بعد اہل خانہ اور برادری کے لوگ جمع ہوکر مرنے والے کی زندگی، اس کی خوبیوں اور یادوں کا ذکر کرتے ہیں۔ سوگ کے دنوں میں مخصوص رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ کیلاش مذہب میں موت ایک ذاتی غم کی بجائے اجتماعی تجربہ سمجھی جاتی ہے، جس میں پورا گائوں متوفی کے خاندان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے گھر میں تین دن تک رسم جاری رہتی ہے اور روزانہ کم وبیش 300 بکرے ذبح کر کے گائوں والوں کو کھلائے جاتے ہیں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ مردے کو دفن کرنے کے بجائے ایک قبرستان میں چھوڑ آتے۔ مردے کے ذاتی استعمال کی اشیاء اس کے ساتھ رکھ دی جاتیں۔ اس کی لاش کو پرندے اور جانور نوچ نوچ کر کھاتے رہتے۔ حتٰی کہ ہڈیاں ہی رہ جاتیں اور بارشوں اور موسمی اثرات سے تابوت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا، مگر اب ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں کے مسلمانوں نے ان کو سمجھایا کہ اس طرح لاش کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ کیلاشیوں نے اس بات کو سمجھا اور اب مردے کو دفن کیا جاتا ہے اور مرنے والے کے گھر میں بکرے ذبح کرنے اور مہمانوں کو کھلانے کی رسم بھی صرف ایک دن ہی ہوتی ہے۔ جنگل کے درختوں تلے پھیلے قبرستان میں جب درختوں کی شاخوں پر برف گرتی تھی تو وہ اس کے بوجھ سے جھک کر اسے تابوتوں پر گراتی تھیں اور انہیں بوسیدہ اور شکستہ کرتی تھیں۔ ہم اس قبرستان کی تنہائی میں گم شدہ روحوں کی طرح گھوم رہے تھے۔ سیکڑوں کی تعداد میں تابوت نظر آئے اور ان میں موجود کچھ انسانی ہڈیاں اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایک جگہ سرخ کپڑے میں لپٹی ہوئی ایک چیز نظر آئی بتایا گیا کہ یہ کیلاشیوں کے سردار کا سر ہے جو اس کپڑے میں لپیٹ کر قبرستان میں رکھا گیا ہے۔ یہ قبرستان اب متروک ہو چکا ہے۔ برف باری اور بارشوں نے تابوتوں اور ڈھانچوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔ کراکال گائوں میں دریا کنارے ایک مخصوص جگہ ہے جسے بشالینی کہا جاتا ہے، کیلاشی عورتیں اپنے مخصوص ایام اور زچگی کے دوران بشالینی میں قیام کرتی ہیں۔ کیلاش عقائد کے مطابق اس عرصے میں عورتوں کو عارضی طور پر عام گھریلو زندگی سے الگ رہنا چاہیے تاکہ روحانی پاکیزگی برقرار رہے۔ وہ پاک ہونے تک بشالینی میں ہی رہتی ہیں۔ اس دوران صرف ان کے شوہر ان کو کھانا وغیرہ دینے آتے ہیں اور باہر سے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ بشالینی میں رہنا کسی سزا یا ذلت کی علامت نہیں بلکہ ایسا ایک روایتی اور مذہبی اصول سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران خواتین آرام کرتی ہیں۔ دوسری خواتین سے میل جول رکھتی ہیں اور اپنی صحت کا خیال رکھتی ہیں، جس کے بعد وہ دوبارہ عام زندگی میں شامل ہوجاتی ہیں۔ بشالینی کا تصور کیلاش ثقافت میں پاکیزگی، توازن اور فطرت کے احترام سے جڑا ہوا ہے۔ آج کے دور میں اگرچہ کچھ تبدیلیاں آچکی ہیں مگر بشالینی اب بھی کیلاش کی قدیم روایات اور سماجی نظام کی ایک زندہ مثال ہے۔ کیلاشی مذہب کا احترام کرتے ہوئے بشالینی کے درودیوار کو ہاتھ لگانا اور اندر جانا سختی سے منع ہے۔ بشالینی کی حدود ممنوعہ علاقہ ہے، خلاف ورزی اور غیراخلاقی اور غیرقانونی حرکت کرنے پر جرمانہ اور قید کی سزا مقرر ہے۔ گائوں میں سب گھر لکڑی کے بنے نظر آئے کیلاشی لباس اور زیورات سیاح بہت شوق سے خریدتے ہیں۔ اکثر کم عمر خواتین دکانوں میں کام کرتی نظر آتی ہیں۔کیلاشی خواتین کسی سیاح کو کیمرے سے تصویر بنانے کی اجازت نہیں دیتیں، البتہ تہوار میں جب سب پنڈال میں جمع ہوتے ہیں تو وہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

 بمبوریت میں ایک میوزیم بھی ہے۔ ہم نے تھوڑے سے وقت میں اس میوزیم کا بھی وزٹ کیا جو کیلاش کمیونٹی کی مدد سے بنایا گیا ہے تاکہ قدیم کیلاش ثقافت، رسومات اور طرزِزندگی کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں اپنی روایات کو نہ بھولیںاور سیاح بھی اصل ثقافت کو قریب سے دیکھ سکیں۔ میوزیم کے اندر کیلاش خواتین کے روایتی لباس اور سر کے تاج، قدیم زیورات اور موتیوں کے ہار، لکڑی کے برتن اور گھریلو استعمال کی اشیاء، قدیم اوزار اور زرعی وآلات، مذہبی رسومات سے متعلق اشیاء، پرانی تصاویر اور تاریخی دستاویزات رکھی گئی ہیں۔ یہ تمام اشیاء کیلاش قوم کی سادہ مگر رنگین زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ میوزیم صرف چیزوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ کیلاش کی شناخت کا مرکز بھی ہے۔ میوزیم میں آکر پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے تہوار کس طرح مناتے ہیں، ان کا مذہبی نظام کیا ہے، شادی بیاہ اور وفات کی رسومات کیسے ہوتی ہیں۔ بمبوریت کے سرسبز پہاڑوں اور دریائے کیلاش کے قریب واقع یہ میوزیم ایک پرسکون ماحول میں قائم ہے۔ لکڑی سے بنی عمارت خود بھی کیلاش طرزِتعمیر کی مثال پیش کرتی ہے۔

نماز ظہر کے بعد ہم بھی اس مقام کی طرف آگئے جہاں چلم جوشی تہوار منایا جاتا ہے۔ بہت بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد ہوچکی تھی اور آہستہ آہستہ یہ جگہ اتنی بھر گئی کہ پائوں رکھنے کی جگہ بھی نہ رہی۔ وادی کیلاش چترال کی پہاڑی خاموشی میں جب بہار کی پہلی دستک سنائی دیتی ہے تو رنگ، موسیقی اور خوشیوں سے بھرا چلم جوشی تہوار شروع ہوجاتا ہے جو کیلاش قبیلے کا قدیم اور روحانی جشن ہے جو سردیوں کے طویل سناٹے کے بعد نئی زندگی، امید اور خوش حالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

 چلم جوشی دوسرا بڑا تہوار ہے جو سردیوں کے اختتام پر مئی کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ کیلاشی زبان میں اسے چلم جوشٹ (ژوشی فیسٹیول) کہا جاتا ہے۔ کیلاش کی وادی میں مئی کا مہینہ آتے ہی فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔ تہوار کے اعلان کے ساتھ ہی سردیوں کے تکلیف دہ حالات کو رخصت اور بہار کا استقبال کیا جاتا ہے۔ یہ شکرانے کی ایک رسم ہے اور عبادت بھی ان کے بقول جب سخت سردی اور برف پڑی ہوئی ہو اور کٹھن حالات ہوں جس میں موت بھی ہوسکتی ہے۔ اس میں جب اللّہ آپ کو بہار کا موسم دیکھنے کا موقع دیتا ہے تو کیوں نہ شکرانے کا تہوار منایا جائے۔ یہ تہوار کیلاش قبیلے کے 3 گائوں رمبور، بریر اور بمبوریت میں مناتا ہے، جس کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اکثر سیاح بھی شرکت کرتے ہیں۔ یہ تہوار تین دن تک ہوتا ہے رقص و موسیقی پینے پلانے اور لذیذ کھانوں کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ تہوار میں جینوک اور گل پاریک کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے جس میں گائوں کے تمام زچہ بچہ پر ایک نوجوان دودھ چھڑکتا ہے اور خواتین اس نوجوان کو چہاری کا ہار پہناتی ہیں۔ یہ تہوار 13سے 16 مئی تک ہوتا ہے۔ یکم مئی سے 13 مئی تک کیلاشی دودھ کا استعمال نہیں کرتے۔ یہ اجتناب کسی کمی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں بلکہ احترام کی ایک صورت ہے کیوںکہ دودھ ان کے نزدیک پاکیزگی اور برکت کی علامت ہے۔ دودھ کو عام استعمال کے بجائے مذہبی رسومات اور دیوتائوں کی نذر کے لیے مخصوص رکھا جاتا ہے۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ سردیوں کے بعد مویشیوں سے حاصل ہونے والا پہلا دودھ مقدس ہوتا ہے۔ اس لیے اسے عام استعمال میں لانے کی بجائے عبادات میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ آنے والا سال خوش حالی، صحت اور برکتوں سے بھر پور ہو۔ اسے پینے کی بجائے قربان کرنا اس یقین کی علامت ہے کہ دینے سے برکت بڑھتی ہے۔ کیلاش کی یہ روایت ان کے فطرت سے گہرے رشتے اور عقیدت کی سادگی کو عیاں کرتی ہے۔

دو بجے کے بعد کیلاشی مرد ایک سمت سے شور مچاتے اپنی روایتی واسکٹ اور اون کے کپڑوں میں ملبوس، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے درختوں کی ٹہنیاں ہاتھوں میں تھامے اس پنڈال میں داخل ہوئے۔ وہ سیٹیاں بجاتے اور اپنی زبان میں گنگناتے ہوئے آئے اور آکر اس پنڈال کے درمیان میں دائروں کی شکل میں کھڑے ہوگئے۔ اس دوران ڈھول کی تھاپ اور طبلے کی گونج بھی سنائی دیتی رہی۔ جب مرد داخل ہوگئے تو اس کے بعد کیلاشی عورتیں رنگ برنگے کڑھائی والے لباس اور موتیوں سے سجی مختلف رنگین ٹوپیاں سر پر رکھے رقص کرتی ہاتھوں میں اخروٹ کے درخت کی ٹہنیاں پکڑے پنڈال میں داخل ہوئیں جو اس تہوار کو ایک جیتی جاگتی تصویر بنا دیتی ہیں اور چار یا پانچ چھوٹی بڑی خواتین ایک مخصوص انداز میں ایک دوسرے کے کندھوں پر بازو رکھے ہلکورے لیتی ہوئی طبلے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی ہیں۔ ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ وہ اپنی زبان میں مخصوص گیت گاتی ہیں۔ ان کے چہروں پر کبھی مسکراہٹ نظر آتی ہے اور کبھی وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی نظر آتی ہیں۔ وہ ایک جگہ رک کر رقص نہیں کرتیں بلکہ دائیں جانب مردوں کے گرد گھومتی رہتی ہیں۔ طبلے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کی رفتار بھی تیز ہوجاتی ہے اور دوسری کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔ قدموں کی ہم آہنگی اور چہروں پر مسکراہٹیں اس بات کی گواہ تھیں کہ یہ تہوار موسم بہار کا جشن نہیں بلکہ شکر گزاری اور اجتماعیت کا اظہار ہے۔ اردگرد کے پہاڑ خاموشی سے اس منظر کو دیکھ رہے تھے جیسے وہ بھی اس خوشی کا حصہ ہوں۔ سیاحوں کے چہروں پر حیرت اور عقیدت دونوں صاف جھلک رہی تھیں۔ یہ رقص اور رسم تقریباً 45 منٹ تک جاری رہتی ہے، پھر ڈھول بھی خاموش ہوجاتا ہے۔ اس دوران اگر کسی لڑکی کو کوئی لڑکا پسند آجاتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کاکا ہاتھ تھام کر پنڈال سے باہر آجاتے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں پھر ڈھول بجنا اور وہی رقص شروع ہوجاتا ہے۔ ایسا تین چار مرتبہ ہوتا ہے۔ ہم نے بھی کئی جوڑے بنتے دیکھے۔ انسانی آنکھ ایسے حسن پر فریفتہ ہوجاتی ہے۔ آخر میں جب لوگ کم ہوجاتے ہیں تو سیاح خواتین بھی پنڈال میں آجاتی ہیں اور کیلاشی خواتین کے ساتھ رقص کرتی ہیں۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا گیا موسیقی میں گہرائی آتی گئی اور ماحول مزید روحانی ہوگیا۔ یہ لمحے صرف دیکھنے کے لیے نہیں تھے بلکہ محسوس کرنے کے لیے تھے ۔

 چلم جوشی صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ سماجی میل جول کا بھی اہم موقع ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں روایتی رقص میں حصہ لیتے ہیں، ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور بعض اوقات اسی موقع پر رشتوں کا فیصلہ بھی ہوجاتا ہے۔ چلم جوشی رسم میں کیلاشی لڑکے لڑکیاں بھاگ کر دوسری وادی میں چلے جاتے ہیں جو بعد میں واپس آکر شادی کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کو مقامی زبان میں اڑاشنگ کہا جاتا ہے۔ یوں یہ تہوار انسانی رشتوں کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ رقص و سرور کی یہ محفل تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہتی ہے۔ چلم جوشی تہوار نے یہ سکھایا کہ ثقافت زندہ تب رہتی ہے۔ جب اسے دل سے جیا جائے اس دن میں نے صرف ایک تہوار نہیں دیکھا بلکہ ایک قوم کی روح کو قریب سے محسوس کیا۔ ڈھول کی تھاپ پر شروع ہونے والا رقص محض ایک رسم نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایت کی زندہ تصویر تھا۔ اس موقع پر پنڈال کے باہر کھانے پینے کی اشیاء بھی دست یاب ہوتی ہیں جن میں کولڈ ڈرنک، چپس، تربوز اور ڈرائی فروٹ شامل ہیں، جب کہ کیلاشی زیورات اور لباس بھی فروخت ہورہے ہوتے ہیں۔ 

 اس کے بعد کیلاش لوگوں واپس وادی میں اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ چلم جوشی کے ختم ہوتے ہی کیلاش لوگ دوبارہ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ مرد اور نوجوان لڑکے کھیتی باڑی اور مویشیوں کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں جب کہ کچھ لوگ بکریوں اور بھیڑوں کو لے کر اونچے پہاڑی علاقوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ خواتین گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ روایتی کپڑوں کی تیاری اور کڑھائی میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ تہوار کے بعد وادی میں سکون تو آجاتا ہے مگر زندگی رکتی نہیں لوگ آنے والے موسم اور آنے والے تہوار کی تیاری شروع کردیتے ہیں۔ یوں چلم جوشی کا تہوار ختم ہوجاتا ہے اور کیلاش کی سادہ اور محنت بھری زندگی ایک بار پھر اپنے معمول پر آجاتی ہے۔

 ہم بھی صبح سے گھوم پھر ہی رہے تھے، شام ہونے کی تھی تو ہم نے بھی واپس گیسٹ ہائوس کی جانب روانہ ہوئے۔ خوبانی اور اخروٹ کا جوس یہاں کی بہت خاص سوغات ہے جو دکانوں میں عام دست یاب ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ بہت منفرد ہوتا ہے۔ خشک میوہ جات یہاں کی ایک اور خاص سوغات ہیں جن میں اخروٹ اور بادام قابلِ ذکر ہیں۔ واپس ہم پیدل ہی دریا چترال کے ساتھ ساتھ چلتے جارہے تھے۔ دریا کنارے اکثر سیاحوں نے کیمپ لگائے ہوتے ہیں، جو کھانا پکاتے دکھائی دیے۔ سیاحوں کے رش کی وجہ سے کوئی گاڑی وغیرہ نہ ملی۔ ایک گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد ہم گیسٹ ہائوس پہنچ گئے۔ یہ گیسٹ ہائوس درختوں میں گھرے سرسبز میدان میں ہے۔ اس کے مالک آفتاب صاحب بہت نفیس انسان ہیں۔ انھوں نے ہمیں گڑ کی بنی چائے پیش کی اور رات کو انہوں نے ہمارے لیے چکن کڑاہی اور اخروٹ کی روٹی کا بندوبست کیا۔ ان کا گیسٹ ہائوس آفتاب آباد میں ہے۔ یہاں جس نام سے گیسٹ ہائوس ہیں وہ جگہ اسی نام سے مشہور ہوجاتی ہے۔ آفتاب صاحب نے ہمیں بتایا کہ کیلاش خواتین چوںکہ کالا لباس پہنتی ہیں اس لیے یہ کالے کافر کہلاتے ہیں۔ کیلاش کی وادی کی دوسری جانب افغانستان بارڈر کے قریب کیلاش لال لباس پہنتے ہیں اس لیے وہ لال کافر کہلاتے ہیں۔ کیلاش لوگ موسم خزاں میں گائے کی قربانی کرتے ہیں۔ کیلاش تہذیب میں مختلف دن ان کی زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک اور دن۔ ایک ایسا دن جو کچھ بھی نہیں ہے جس روز کچھ بھی نہیں ہوتا یہ انتظار کا دن ہوتا ہے کہ کچھ ہو جب ہر گھرانہ صرف گندم پیستا ہے اور اگر گندم رات تک نہ پیسی جا سکے تو وہ کہتے ہیں کہ آج تو کچھ بھی نہیں ہوا اور پھر اگلے دن کا انتظار کرتے ہیں اور اگلے دن مرد جنگلوں میں لکڑی کاٹنے چلے جاتے ہیں اور عورتیں کپڑے دھوتی ہیں۔ پھر موسم سرما آجاتا ہے، پہاڑوں پر برف گرنے لگتی ہے اور مارخور نیچے آجاتے ہیں۔ یہ مارخور کا دن ہوتا ہے۔ پھر ایک ایسی رات بھی آتی ہے جب شب برات کی مانند چراغاں ہوتا ہے اور وادی میں ہر سو دیے جلتے ہیں اور پھر لومڑی بھگانے کی رات بھی ہوتی ہے۔ یہ وہ رات ہوتی ہے جب پاکیزگی اختتام کو پہنچتی ہے اور زمانوں کا سکوت ٹھہر جاتا ہے۔ کیلاش لومڑی کو عام جانور نہیں بلکہ نحوست، چالاکی اور نقصان کی علامت سمجھتے ہیں۔ کیلاش کی راتوں میں جب پہاڑوں کی خاموشی گہری ہوجائے اور کہیں دور سے لومڑی کی آواز سنائے دے تو وادی کے گائوں کے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔ ان کی تالیاں، شور اور مشعلیں فضا کو چیر دیتی ہیں۔ یہ شور لومڑی کے لیے پیغام ہوتا ہے کہ یہ وادی جاگ رہی ہے۔ یوں لومڑی کو بھگانے کی رسم محض ایک عمل نہیں بلکہ خوف، نحوست اور اندیشوں کو اجتماعی حوصلے سے دور کرنے کی ایک علامت بن جاتی ہے۔ ایک دن آتا ہے جسے سفید کوے کا دن کہتے ہیں۔ کیلاش کی چاندنیوں میں ایک طرح کی سفیدی ہوتی ہے۔ اتنی کہ کوا بھی سفید ہوجاتا ہے۔ پھر چڑیلوں کے شکار کا دن طلوع ہوتا ہے۔ اہل کیلاش کا ہر دن کائنات کی الجھنیں سلجھانے کا ایک دن ہوتا ہے۔ کیلاش لوگ اپنے آپ کو سکندراعظم کی اولاد کہتے ہیں جب سکندراعظم اس علاقے پر حملہ آور ہوا تو یہاں سے گزرتے ہوئے اس کی افواج کے کچھ زخمی سپاہی اپنے اہل و عیال سمیت یہاں ٹھہر گئے اور یہ قبیلہ یہاں پرورش پاتا گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق یہ لوگ دو سو سال قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا تعلق افغان صوبے نورستان سے ہے۔کیلاش پاکستان کی سب سے چھوٹی اقلیت ہے۔

کیلاشی کہتے ہیں کہ جب ہم تھک جاتے ہیں تو رقص کرتے ہیں اور ہماری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔ ان کا مذہب رسومات کا مجموعہ ہے یہ بہت سے دیوتائوں، جنت، دوزخ، خیرات، بت پرستی، توہم پرستی پر یقین رکھتے ہیں۔ اب کیلاش بھی شادی کی رسومات ایسے کرتے ہیں جیسے ہم کرتے ہیں۔ ان میں منگنیاں بھی ہوتی ہیں۔ بارات اور ولیمہ بھی ہوتا ہے۔ شادی بیاہ پر آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کے سلسلے بھی ہوتے ہیں جو کیلاش مسلمان ہوچکے ہیں وہ اپنے آپ کو کیلاش کہلانا پسند نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔ کیلاش جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اسپاتا کہتے ہیں، یہ ان کا سلام ہے۔ کیلاش کی وادی میں تعلیم آہستہ آہستہ ترقی کر رہی ہے مگر اب بھی اسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ وادی کے دوردراز پہاڑی علاقوں میں سرکاری اور نجی سطح پر چند پرائمری اور مڈل سکول قائم ہیں جہاں بنیادی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ کچھ غیرسرکاری تنظیمیں بھی کیلاش میں بچوں خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہاں تعلیم کی اہمیت اب پہلے سے زیادہ سمجھی جارہی ہے۔ والدین اپنے بچوں کو نہ صرف مقامی اسکولوں بلکہ چترال شہر کے تعلیمی اداروں میں بھی بھیج رہے ہیں۔ تاہم غربت، محدود وسائل اور اساتذہ کی کمی اور سرد موسم کے باعث تعلیمی سرگرمیاں اکثر متاثر ہوتی ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کیلاش ثقافت اور زبان کے تحفظ کی بھی کوششیں جاری ہیں۔ کچھ اسکولوں میں مقامی زبان اور ثقافت سے متعلق آگاہی دی جاتی ہے تاکہ نئی نسل اپنی شناخت سے جڑی رہے۔ یہ لوگ اردو اچھی طرح بولتے ہیں۔

آج کے دور میں چلم جوشی پاکستان کے اہم ثقافتی ورثے کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ ملکی اور غیرملکی سیاح بڑی تعداد میں کیلاش کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس منفرد ثقافت اور قدیم روایات اور قدرتی حسن کا مشاہدہ کرسکیں۔ چلم جوشی دراصل زندگی کا خوشی اور فطرت سے ہم آہنگی اور ثقافتی شناخت کا جشن ہے۔ ایک ایسا تہوار جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ روایتیں زندہ رہیں تو قومیں بھی زندہ رہتی ہیں۔ کیلاش کی وادی محض ایک مقام نہیں بلکہ قدرت اور ثقافت کا ایک جیتا جاگتا شاہ کار ہے۔ برف پوش پہاڑوں، سرسبز میدانوں اور شفاف بہتے چشموں سے َگھری یہ وادی وقت کی قید سے آزاد محسوس ہوتی ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر بنے لکڑی کی خوب صورت عمارتیں اور اخروٹ اور خوبانی کے باغات اس منظر کو مزید دل کش بنا دیتے ہیں۔ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ اس وادی کے رنگ بھی بدلتے رہتے ہیں۔بہار کی بہاریں، گرمیوں کی ہریالی، خزاں کی سنہری چادر اور سردیوں کی برف جو کیلاش کو خوابوں کی سر زمین بنا دیتی ہیں۔ اس وادی کی اصل خوب صورتی کیلاش قوم کے لوگ ہیں جن کی رنگا رنگ روایات، دل کش لباس اور خوشیوں سے بھرے تہوار ہر گوشے میں زندگی بھر دیتے ہیں۔ کیلاش میں حسن صرف دیکھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے جو فضا میں گھلا ہوتا ہے اور صدیوں پرانی روایات میں محفوظ رہتا ہے۔  

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }