والد مالی مشکلات یا بیروزگاری کے بہانے بچوں کے اخراجات سے بری نہیں ہو سکتا، عدالت کا بڑا فیصلہ

14

لاہور:

لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس شیریں عمران نے بچوں کی حوالگی سے متعلق کیس کا 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے والد کی آئینی درخواست مسترد کر دی ہے۔

جسٹس شیریں عمران نے فیصلے میں قرار دیا کہ بچوں کی فلاح و بہبود والدین کے ترجیحی حق سے زیادہ اہم ہے۔ عدالت نے والد کو فی بچہ 35 ہزار روپے ماہانہ خرچہ اور اس میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ والد مالی مشکلات یا بے روزگاری کا عذر پیش کرکے بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

تحریری فیصلے کے مطابق بچوں کی حوالگی کا فیصلہ کرتے وقت ان کی تعلیم، نگہداشت، عمر اور خواہش کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، جبکہ بچوں کی فلاح و بہبود میں مالی ضروریات کے ساتھ جذباتی، نفسیاتی اور تعلیمی ضروریات بھی شامل ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دونوں بچے والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں اور نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں ۔ انہوں نے عدالت میں والدہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ والد بچوں کو والدہ سے منتقل کرنے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا، لہٰذا بچوں کی رائے کو اہمیت دی جائے مگر اسے حتمی فیصلہ بنانے کے بجائے مجموعی حالات میں دیکھا جائے۔

فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ گارڈیئن اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت بچوں کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور بچوں کی حوالگی کے معاملے میں والدین میں سے کسی کا ترجیحی حق بچوں کی بہتری پر فوقیت نہیں رکھتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں کوئی قانونی خامی یا شواہد کی غلط تشریح ثابت نہیں ہوئی۔ اس لیے والد کی بچوں کی حوالگی کی درخواست مسترد کی جاتی ہے جبکہ بچوں سے ملاقات کا طے شدہ شیڈول برقرار رہے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }