واہگہ بارڈر پر 1947 کی داستانِ ہجرت؛ ڈائیوراما میں قربانیوں کی شاندار منظرکشی

19

لاہور:

واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز پنجاب کی پریڈ دیکھنے آنے والے شہریوں کے لیے قومی جذبے کے اظہار کے ساتھ 1947 کی ہجرت کی داستان بھی نمایاں ہے۔

بابِ آزادی کے سامنے  بنائے گئے ڈائیوراما میں تحریک آزادی کے قائدین، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا خطاب اور تقسیم ہند کے دوران پیدل اور ٹرینوں کے ذریعے پاکستان پہنچنے والے لٹے پٹے قافلوں کی منظرکشی کی گئی ہے، جو قیام پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

واہگہ بارڈر پر بنائے گئے  ڈائیوراما میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور خاندانوں کو ہجرت کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے تناظر میں دکھایا گیا ہے۔ سامان سے محروم اور تھکے ہارے قافلوں کی یہ منظرکشی اس دور کے حالات کی عکاسی کرتی ہے جب لاکھوں افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر نئے وطن کی طرف روانہ ہوئے۔

پریڈ دیکھنے آنے والے شہریوں کے مطابق یہ ڈائیوراما تاریخ کو کتابوں سے نکال کر آنکھوں کے سامنے لے آتے ہیں۔ ایک فرضی نام علی حسن نے کہا کہ پریڈ دیکھنے کے لیے کئی بار واہگہ بارڈر آ چکے ہیں، تاہم ہجرت کے مناظر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی کے پیچھے کتنی بڑی انسانی قربانیاں موجود ہیں۔

عائشہ خالد کے مطابق ٹرین کے ذریعے آنے والے مہاجر قافلے کا ڈائیوراما خاص طور پر توجہ حاصل کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کو پاکستان کی تاریخ صرف نصابی کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے مقامات پر بھی دکھائی جانی چاہیے جہاں تاریخی واقعات کو عملی اور بصری انداز میں محفوظ کیا گیا ہو۔

ایک طالبہ فاخرہ ملک نے کہا انہوں نے نصاب کی کتابوں میں ہجرت کی کہانیاں پڑھی ہیں لیکن یہ ماڈلز اس احساس اورکیفیت کو زیادہ واضع کرتے ہیں کہ مسلمانوں کس طرح ہجرت کرکے اس پاک سرزمین پرپہنچے تھے۔

واہگہ بارڈر پر موجود پاکستان میوزیم میں بھی پاکستان کی تاریخ کو تصاویر اور مستند تاریخی حوالوں کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے۔ میوزیم میں 1857 کی تحریک آزادی سے لے کر 1947 میں قیام پاکستان تک کے اہم واقعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔

میوزیم میں برصغیر پر حکمرانی کرنے والے مختلف خاندانوں، پاکستان کے ثقافتی ورثے، اہم تاریخی مقامات اور ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ پاکستان رینجرز پنجاب کی تاریخ اور ملک کے دفاع کے لیے اس کی قربانیوں کو بھی خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

واہگہ بارڈر پر موجود ڈائیوراما عام شہری دیکھ سکتے ہیں  تاہم پاکستان میوزیم فی الحال عام عوام کے لیے کھولا نہیں گیا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تاریخی ورثے سے متعلق ایسے مقامات نئی نسل میں اپنے ماضی کو جاننے کا شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

واہگہ بارڈر پر 1947 کی ہجرت کی یہ منظرکشی نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کا قیام ایک طویل سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کی ہجرت اور قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ تاریخ کو سمجھنا اور ان قربانیوں کو یاد رکھنا نئی نسل کے لیے اپنے ملک کی قدر، قومی ذمہ داری اور اتحاد کے تصور کو سمجھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }