سپریم کورٹ کے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے پر حکومت نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کیس کے حوالے سے عدالتی سماعت پر اہم گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق حکم کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکم نامے کے دیگر نکات پر بھی مشاورت کی گئی ہے، کیا سپریم کورٹ کا حکم تمام قیدیوں کے لیے ہو گا؟ کیونکہ جیلوں میں بہت سے قیدی ہیں جن کی صحت کے مسائل ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس حکم کا اطلاق تمام قیدیوں کیلیے ہوگا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے انہیں علاج کیلیے اسلام آباد کے الشفا اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی حکومت کو ہفتے میں ایک بار فیملی و وکیل سے ملاقات کروانے کا حکم دیا۔
ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق کوئی بھی بات میڈیا پر نشر نہیں کی جائے گی جبکہ اس معاملے پر سیاست بھی نہیں کی جائے گی جبکہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ ساتھ ہوں گی۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بہن سے طویل عرصے کے بعد ملاقات کروادی گئی جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے کسی قسم کی کوئی گفتگو نہیں کی اور بس ملاقات کی تصدیق کی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا تھا کہ حکومت فیصلے پر من و عن عمل کرتے ہوئے اس کی پاسداری کرے گی۔
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی اپنے بانی کیلیے این آر او کی خواہش بلندیوں کو چھو رہی ہے جبکہ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر معمولی ریلیف بھی قرار دیا۔
تحریکِ انصاف کی اپنے قائد کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش اب نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ آج پی ٹی آئی کے بے شمار ’’بانیوں‘‘ میں سے ایک بانی کو معزز عدلیہ کی جانب سے غیر معمولی ریلیف ملا، اور جس انداز میں پوری جماعت نے اس فیصلے پر جشن منایا، وہ اس کی اس شدید خواہش کی عکاسی کرتا…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) August 18, 2026