جیکب ہیرا بالکل بے معنی ہے؟

14

میر عثمان علی خان‘ ریاست حیدر آباد کے آخری بادشاہ تھے۔ دنیا کے امیر ترین انسان قرار دیے گئے ۔ امریکی جریدے‘ ٹائمز کے مطابق ‘ اثاثے دو سو تیس بلین ڈالر کے برابر تھے۔ جو اس وقت کی امریکی معیشت کا دو فیصد تھا۔ نظام کے پاس پچاس رولز رائس بیش قیمت گاڑیاں تھیں۔ جو دنیا میں اس گاڑی کا سب سے قیمتی مجموعہ تھا۔ ان کی ذاتی ائر لائنز‘ ریلوے‘ بینک اور فوج تھی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں نظام نے برطانوی حکومت کو فضائی بیڑہ اور ایک جنگی بحری جہاز تحفے میں دیا تھا۔

نظام عجیب و غریب سیلانی طبیعت کا مالک تھا۔ 1911ء سے لے کر 1948ء تک حکومت کرنے کے باوجود‘ میر عثمان کی ذاتی عادات کافی مشکل تھیں۔ پرانے کپڑے پہن رکھتے تھے۔ انھیں متعدد دن تبدیل نہیں کرتے تھے۔ سگریٹ پیتے تھے۔ کئی بار‘ مہمانوں سے سگریٹ مانگ کر خوب کش لگاتے تھے۔ ایک عادت‘ جس نے انھیں پوری دنیا میں منفرد طرز پر مشہور کیا۔ عرض کرنا ضروری ہے۔ نظام کے پاس دنیا کا پانچواں سب سے قیمتی ہیرا موجود تھا۔ اس کا وزن‘ چھتیس گرام تھا۔ ہیرا بالکل شفاف تھا۔ میر عثمان پوری زندگی اس کو اپنے دفتر میں پیپر ووٹ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔

حد درجہ‘ منفرد ہیرے کو ساری عمر استعمال کرنے کی تصاویر‘ پوری دنیا میں حیرت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔اس کا نام ’’جیکب ہیرا‘‘ تھا۔ آج بھی ہندوستان کے سینٹرل ریزرو بینک میں موجود ہے۔ اس کی موجودہ قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔نظام کی حکومت‘ بٹوارے کے بعد سردار پٹیل نے ختم کر دی تھی۔ میر عثمان علی خان ‘ کا عہدہ صرف نمائش کی حد تک موجود رہا۔ 1967ء میں ان کا انتقال ہوا۔ متعدد شادیوں کی وجہ سے کثیر اولاد تھے ۔ لواحقین کی موجودہ تعداد چار ہزار پانچ سو ہے۔ نظام کی حکومت کو ختم ہوئے نصف صدی کے برابر عرصہ گزر چکاہے۔ ان کے خاندان میں اپنااپنا حصہ وصول کرنے کے لیے مقدمہ بازی کا سلسلہ حد درجہ مایوس کن اور شرمناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ آج آپ کو 1937ء کے امیر ترین انسان کا نام و نشان نہیں ملتا۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔ الیگزنڈر فلیمنگ ایک اسکاٹش ماہرِ طب تھے۔ پوری زندگی ‘ لیبارٹری میں گزری۔ نمود و نمائش سے حد درجہ دور‘ صرف تحقیق کا کام کرنے میں مصروف کار رہے۔ یہ وہی Microbiolgist ہے۔ جس نے اتفاقیہ طور پرپینسلین دریافت کی تھی۔ جس نے پوری دنیا میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ یہ کرہ ارض کی پہلی اینٹی بائٹک تھی۔ اس ایجاد کے بعد ‘ امریکا اور برطانیہ کے بڑے بڑے اسٹاک بروکر‘ فلیمنگ کے پاس گئے تھے۔ اسے صرف ایک التجا کی تھی کہ آپ اس دریافت کو قانونی طور پر اپنے نام کروالیں۔ یعنی پیٹینٹ کروا لیں تو صرف چوبیس گھنٹوں میں دنیا کے امیر ترین انسان بن جائیں گے۔ قانونی طور پر بھی بالکل جائز بات تھی۔اور کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں تھا۔ مگر اس سائنسدان کا جواب تھا کہ بالکل نہیں۔ میں اسے اپنے نام کروا کر‘ دنیا کے امیر ترین آدمی بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ یہ سب کچھ انسانیت کے نام وقف کرتا ہوں۔

فلیمنگ نے پہاڑوں جیسی دولت کو ٹھوکر مار دی۔ مگر تاریخ میں امر ہو گیا۔بالکل اسی طرح‘ جرمنی کے فزکس کے محقق نے کیا۔ اس کا نام Wilhelm Conard Rontgen تھا۔ اس عظیم شخص نے 1895ء میں XRAYایجاد یا دریافت کی۔ اس نے بھی اسے پیٹینٹ کروانے سے انکار کر دیا۔وہ بھی دنیا میں حد درجہ دولت مند بن سکتا تھا۔ مگر اس نے ایکسرے کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ آج اینٹی بائٹک اور ایکس رے سے کتنی کثیر تعداد مستفید ہوتی ہے اس کا درست اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اگر ایک بندہ‘صحت یاب ہونے کے بعد ان دونوں کے لیے دعا کرتا ہے۔ تو آپ اندازہ فرمایئے کہ صرف ایک دن میں یہ کتنی کثیر دعاؤں کے حامل بن جاتے ہیں۔

ہمارے سامنے‘ انسانی زندگی کے دو متضاد رویے آگئے ہیں۔ ایک ‘ دولت کو جمع در جمع کرنے کا ماڈل اور دوسرا ‘ پیسے کو ٹھکرانے کا قیمتی رویہ۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کس کا نام زندہ ہے؟ یا اس سوال کو دوسرے طریقے سے پوچھا جا سکتا ہے۔ یعنی کس کے کام نے عام آدمی کے لیے‘ آسانی پیدا کی ہے؟۔ طالب علم کے نزدیک دوسری طرف کے محققین اور سائنسدانوں کو انسانی نسل کے لیے ‘ مشعل راہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ذرا سوچیے۔تھوڑا سا بخار ہو‘ تو ہم کتنی آسانی سے اینٹی بائٹک کا استعمال کر کے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ بالکل اس طرح ایکسرے کی افادیت اتنی زیادہ ہے کہ اس پر بات کرنی بہت مشکل ہے۔

میرے سوال کا جواب دیجیے کہ بڑا آدمی کون ہوا؟ دولت کا ذخیرہ رکھنے والا شخص یا نسلِ انسانی کی بہتری کرنے والا انسان؟ دنیا کے امیر ترین حکمران کے پوتے ‘ پڑپوتے اور پڑپوتیاں ‘ آج بھی ‘ حیدر آباد کی مقامی عدالتوں میں نظر آتے ہیں۔انھیں دیکھ کر صرف افسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی جذبہ‘ ذہن کے دریچوں سے نکل کر زبان پر نہیں آتا۔اس کے برعکس‘ الیگزینڈر فلیمنگ اور ایکسرے کے محقق کا نام اور کام رہتی دنیا تک موجود رہے گا۔ اب ذرا پاکستان کی طرف آئیے ۔

متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعظم‘ ملک خضر حیات ٹوانہ تھے۔ تقسیم سے پہلے تک‘ پورے برصغیر کے سب سے طاقتور حکمرانوں میں شمار ہوتے تھے۔ 1974ء میں ان کاانتقال امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں ہوا۔ مرتے وقت عمر 74برس تھی۔ کیا کوئی بھی ‘ مجھے بتا سکتا ہے کہ خضر حیات ٹوانہ آج‘ نامور ہیں یا بے نام ؟ ٹوانہ صاحب کی اولاد کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ قبر پرکتنی فاتحہ خوانی ہوتی ہے۔ کم از کم طالب علم تو ان کے متعلق بہت کم معلومات رکھتا ہے۔ اس کے متضاد جھنگ سے تعلق رکھنے والے‘ پروفیسر جسے نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ اپنے تحقیقی کام کی بدولت اہم حیثیت اختیار کر گیا۔ یاد رہے کہ ان کے مذہبی نظریات سے بالکل مختلف‘صرف سائنس کے زاویہ سے گزارش کر رہا ہوں۔

چلیے۔ چھوڑیے‘ اب ذرا موجودہ دور میں آجایئے۔ ہمارے ملک میں سیاسی خاندانوں میں دولت کاارتکاز ہو چکا ہے۔ کیا یہ خاندان‘ دیانت داری کے معمولی معیار پر پورے اترتے ہیں۔ بلکہ پوری دنیا میں ‘ ان کے ناجائز اثاثوں پر بات کی جاتی ہے۔ اس پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ملک کو موجودہ پسماندگی تک پہنچانے میں سیاسی خاندانوں کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ مسلسل حکومت میں رہنے کے باوجود ‘ عام آدمی کے ذہن میں ان سیاستدانوں کی کوئی ساکھ نہیں۔ اگر آپ کراچی جائیں تو سیاسی خاندانوں کے بہت بڑے گھروں کی اور ناجائز جائیدادوں کی ان کہی کہانیاں صاف نظر آئے گی۔ بالکل اسی پیرائے میں پنجاب،بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے سیاسی خانوادوں پر نظر ڈالیں تو کرپشن کی مبینہ داستانیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ پر میرا آج کا موضوع بالکل بھی یہ نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بالکل برعکس ہے۔

آج ملک میں نام کس کا جپا جاتا ہے؟ کس کے ڈنکے بجتے ہیں؟ سیاسی بحث میں نہیں پڑ رہا۔ تقابلی طور پر عبدالستار ایدھی صاحب کے کردار کو دیکھئے۔ ایک ایسا درویش صفت انسان‘ جس نے پوری زندگی نئے کپڑے نہیں پہنے۔ جو بدبو دار مردہ لاشوں کو اس صورت میں نہلاتا تھا جب اس کی آل اولاد بھی کنارہ کشی اختیار کر لیتی تھی۔ جو لاوارث بچوں کو اپنا نام دیتا تھا۔ انھیں بلا تفریق مذہب‘ تعلیم اور محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتا تھا۔ ایک پرانے اسکوٹر پر سفر کرتا تھا۔ اور جس نے مرتے وقت ایمبولینسوں کادنیا میں سب سے بڑا نیٹ ورک چھوڑا تھا۔ جسے وصیت کے مطابق ‘ پرانے کپڑوں میں دفن کیا گیا تھا۔ پورا ملک‘ اس کے مرنے پر زار وقطار رو رہا تھا۔ دوبارہ سوچیے بلکہ گہرا سوچیے۔ کہ آج نیک نامی کا تمغہ کس کے پاس ہے؟ عوام کے دل و دماغ پر کس کی مہر لگی ہوئی ہے؟ آپ اپنا جواب‘ اپنی حد تک بالکل محفوظ کر لیں۔صرف‘ تاریخ کے جگمگاتے بورڈ پر وہ نایاب لوگ‘ جنھوں نے انسانیت کی خدمت کی ۔ ان کے نام ہیروں کی طرح جگمگا رہے ہیں۔

رئیس ترین لوگ‘ تاریخ کے کوڑے دان میں موجود ہیں۔ جب لوگ‘ موجودہ سیاسی ‘ اقتصادی اور سماجی بحران کا ذکر کرتے ہیں ‘ تو پچھلے پچاس برس کی تاریخ سے استفادہ نہیں کیا ہوتا۔ انھیں علم ہی نہیں‘ کہ آخری جنگ میںکون جیتا ہے؟ جیکب ہیرا کا مالک یا انسانوں کی خدمت کرنے والا ہیرے جیسا انسان؟ جیکب ہیرا‘ بالکل بے معنی ہے۔بینک کے ایک لاکر میں محفوظ اس کی حیثیت اور عملی قیمت ایک عام سے پتھر کے برابر ہے۔مگر عینک بدل کر دیکھئے۔ اصل انعام تو عام لوگوں کے اندر نیک نامی میں ہے؟ اس فہرست میں ماضی کے اور موجودہ امیر ترین خانوادوں کاکوئی مقام نہیں۔ عام لوگوں کے ذہن میں جس شخص کا اعلیٰ مقام ہے‘ وہ کسی بھی صورت میں زندہ رہتا ہے۔

موت ‘ اس کے لیے بے معنی سا تحفہ ہے۔ قرآن حکیم کا غور سے مطالعہ کیجیے۔ پیہم نظر آئے گا کہ انسان کا دل ‘ قدرت کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ جب چاہے ‘ اور جسے چاہے دوام بخش سکتا ہے۔ اس کاکام ‘ محترم کر دیتا ہے۔ اس بنیاد پر وہ مقرب انسان ‘ فانی حیثیت سے مبرا ہو کر ‘ لافانی کردار بن جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }