سی سی پی نے سرکاری خریداری میں دھاندلیوں کی نشاندہی کے لیے اے آئی نظام بنا لیا

20

اسلام آباد:

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سرکاری خریداری میں دھاندلیوں (بِڈ رگنگ) اور ممکنہ گٹھ جوڑ کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی نظام تیار کر لیا ہے۔

چیئرمین سی سی پی فرید احمد تارڑ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 60 ارب ڈالر سرکاری خریداری پر خرچ ہوتے ہیں جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 15 سے 20 فیصد کے برابر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کی سرکاری خریداری کی نگرانی صرف شکایات اور دستی جانچ سے ممکن نہیں۔ یہ اے آئی نظام تحقیقاتی وسائل کو زیادہ خطرے والے معاملات پر مرکوز کرنے میں مدد دے گا۔

سی سی پی نے واضح کیا ہے کہ نظام سے پیدا ہونے والے الرٹس کسی خلاف ورزی یا کارٹل کا حتمی تعین نہیں ہوں گے، بلکہ ہر الرٹ کی آزادانہ تصدیق، شواہد جمع کرنے اور قانونی جانچ ضروری ہوگی۔

یہ بڈ رگنگ ڈیٹیکشن سسٹم قبل از نفاذ انتظامات کے پیش رفتہ مرحلے میں ہے اور اس جدید نظام کو اسٹینفورڈ کی عالمی اینٹی ٹرسٹ رپورٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں دنیا کے 30 کمپٹیشن اداروں کے تجربات پیش کیے گئے ہیں۔

نظام کے نفاذ کے لیے وفاقی و صوبائی پروکیورمنٹ اتھارٹیز اور ایس ای سی پی سے ادارہ جاتی مفاہمت طے پا گئی ہے، جس سے سرکاری خریداری میں منصفانہ مسابقت اور عوامی وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }