زراعت اور کسان – ایکسپریس اردو

15

پاکستان میں زرعی شعبے کی کیا اہمیت ہے، اس سے پاکستان کے پالیسی ساز اچھی طرح آگاہ ہیں۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے تاہم اگر کسانوں کی معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ کچھ اچھی نہیں ہے۔ حالانکہ زراعت پاکستانی معیشت کا تقریباً ساٹھ فیصد پر مشتمل ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ چھوٹے کسانوں کو ان کی فصل کا اچھا معاوضہ نہیں ملتا خصوصاً گندم اور گنے کے کاشت کاروں کے مسائل گاہے بگاہے منظرعام پر آتے رہتے ہیں۔ اگلے روز وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کسانوں کو بڑا ریلیف دینے کے لیے گندم کی قیمت اور لائیوسٹاک کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔

وزیراعظم نے پیداواری لاگت میں اضافے کے پیشِ نظر گندم کی مجوزہ قیمت4500 روپے فی من مقرر کردی ہے جب کہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیمِ نو کی بھی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ملکی زرعی شعبہ کے فروغ ، کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ اور آیندہ سال گندم کی پیداوار میں اضافہ کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سال 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ گزشتہ سال یہ قیمت3500 روپے فی من تھی۔

وزیراعظم کا 2027ء کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافہ درست جانب ایک قدم ہے۔ 2026ء کے مقابلے میں 2027ء کے لیے فی من کے حساب سے کسان کو ایک ہزار روپیہ زائد ملے گا۔ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح کو سامنے رکھا جائے تو یہ کوئی زیادہ اضافہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

اس وقت چھوٹے کسان کے لیے زرعی مداخل بہت زیادہ مہنگے ہیں۔ پانچ سے بارہ ایکڑ رقبے تک کے مالک کسان کے لیے پیداواری اخراجات کو پورا کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے۔ ابھی نئی گندم آنے میں تقریباً پانچ چھ ماہ پڑے ہیں۔ چھوٹے کسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے اگر نہری پانی میسر نہیں ہے تو ٹیوب ویل کا پانی فی گھنٹہ کے حساب سے خریدنا پڑتا ہے۔

اگر اس نے پیٹر انجن لگایا ہوا ہے تو پھر ڈیزل بھی بہت مہنگا ہے۔ چھوٹے کسان کے پاس ٹریکٹر بھی نہیں ہوتا۔ وہ فصل کی بوائی کے لیے زمین کی گہائی کے لیے ٹریکٹر بھی کرائے پر لیتا ہے۔ اسی طرح فصل کی کٹائی کے لیے بھی اسے تھریشر وغیرہ کرائے پر لینا پڑتا ہے۔

یہ ایسے اخراجات ہیں جو ایکسٹرا مد میں آتے ہیں۔ بیج وغیرہ کے اخراجات الگ ہیں۔ کسان کی اپنی محنت کا معاوضہ اس میں شامل نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں جب فصل تیار ہوتی ہے تو کسان پر قرضہ چڑھ چکا ہوتا ہے۔

اپنے مالی مسائل کو حل کرنے کے لیے وہ اپنی فصل چاہے وہ گندم ہو، سبزی ہو، گنا ہو یا کوئی اور فصل ہو، وہ اسے اونے پونے فروخت کر دیتا ہے۔ اس لیے حکومت کو زراعت کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے چھوٹے کسانوں اور درمیانے درجے کے کسانوں کے مسائل کا پوا احاطہ کرنا چاہیے۔

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافے کا مقصد کسانوں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔

حکومت کو توقع ہے کہ مجوزہ قیمت کے تعین سے کاشتکار گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے جس کے نتیجے میں آیندہ سیزن میں گندم کی بھرپور بوائی اور ملکی پیداوار میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے۔

توقع ہے کہ سال2027 پاکستان کے زرعی شعبے اور کسانوں کی خوش حالی کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔ کسانوں کو مالی طور پر آسودہ کرنے کے لیے کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں کا جائزہ لینا بھی انتہائی ضروری ہے۔

زرعی ادویات درآمد کی جاتی ہیں اور ان کی قیمتوں کا دارومدار بھی درآمد کنندگان کی اپنی مرضی پر ہوتا ہے۔ سرکاری سطح پر زرعی ادویات کی قیمتوں کا تعین نہیں ہوتا۔ پاکستان کے دیہات میں کیونکہ تعلیم کم ہے، کسان پڑھا لکھا نہیں ہے، اس لیے اسے حکومتی فیصلوں کا بھی علم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ مارکیٹ میکنزم کو سمجھ پاتا ہے۔

محکمہ زراعت کا سرکاری عملہ ہو، محکمہ خوراک کا سرکاری عملہ ہو یا پاسکو وغیرہ کا سرکاری عملہ ہو، ان کے حوالے سے بھی کسانوں کو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ ان محکموں کے سرکاری ملازموں کے اختیارات کیا ہیں اور ان کے فرائض کیا ہیں۔

اس لاعلمی کی وجہ سے سرکاری ملازمین کسان کا استحصال کرتے ہیں۔ گندم کی فصل تیار ہو تو فلور ملز مالکان اور آڑھتی میدان عمل میں کود پڑتے ہیں جب کہ گنے کی فصل ہو تو شوگر مل مالکان اور ان کے مڈل مین میدان میں آ کر کسانوں کو فصلوں کا پورا معاوضہ ادا نہیں ہونے دیتے۔

اس طرح کسانوں کی محنت کا پھل ان لوگوں کی جھولی میں جا گرتا ہے جنھوں نے کوئی محنت نہیں کی ہوتی جب کہ وہ کسان جس نے دن رات کھیتوں میں کام کیا ہوتا ہے، کسان کا پورا خاندان کھیت میں محنت کرتا ہے، انھیں اپنی فصل کا پھل نہیں ملتا۔ یہ سرکاری سطح پر بہت بڑا المیہ ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے جامع پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے لائیوسٹاک کے حوالے سے اپنے زیر صدارت اجلاس میں لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیمِ نو کی منظوری دی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین اور اراکین کا انتخاب شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے، بورڈ میں نجی شعبے کے قابل تجربہ کار ماہرین شامل ،عالمی معیار کے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں۔ جانوروں کو منہ کھر کی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے واضح اہداف اور مقررہ مدت پر مشتمل جامع ایکشن پلان پیش کیا جائے۔

لائیوسٹاک یا مویشی زراعت کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ لائیوسٹاک کے بغیر کسان ادھوار ہوتا ہے۔ زمین اور مویشی کاشت کار کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے کاشت کاروں کی کیش آمدنی کا انحصار مویشیوں پر ہوتا ہے۔

گائے، بھینس، بھیڑ بکریاں اور مرغیاں کسان کے لیے ہنگامی ضرورت کے لیے نقد رقم کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔ گائے بھینسیں دودھ کے ساتھ ساتھ ایندھن بھی فراہم کرتی ہیں۔ چھوٹے کسان عموماً چار پانچ گائے اور بھینسیں پالتے ہیں اور ان کا دودھ فروخت کر کے فوری نقد رقم حاصل کر لیتے ہیں۔

اس سے وہ اپنے کھیت کی بوائی کے لیے بیج، کھادیں، زرعی ادویات، ٹیوب ویل اور دیگر اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اسی طرح بھیڑ بکریاں اور بچھڑے سال چھ ماہ بعد فروخت کر کے انھیں نقد رقم مل جاتی ہے ورنہ کھیت میں بوئی ہوئی فصل تو چھ سات ماہ کے بعد ہی رقم فراہم کر سکتی ہے۔

اس لیے لائیوسٹاک پر توجہ دینا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کا کسان خوش حال ہوا کرتا تھا۔ خصوصاً پنجاب کے دیہات شہروں سے زیادہ خوش حال تھے۔ دیہات میں پیسے اور اناج کی فراوانی تھی۔

درختوں کی پیداوار بھی بہت زیادہ تھی جب کہ مویشیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی لیکن پھر شہروں کی آبادی بڑھنا شروع ہوئی۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازموں کا سائز بھی بڑھنا شروع ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ رشوت اور بدعنوانی کا حجم بھی غیرمعمولی طور پر بڑھنا شروع ہو گیا۔

سرکاری افسر اور ملازم چونکہ اختیارات کے مالک بنا دیئے گئے تھے لیکن ان کی جواب دہی اور احتساب کا کوئی نظام نہیں تھا اور نہ ہی ایسے قوانین اور ضابطے بنائے گئے تھے جس سے سرکری ملازم پر چیک رکھا جا سکے۔

اس کا سرکاری افسروں اور ملازموں میں ناجائز فائدہ اٹھایا اور نقصان چھوٹے کسانوں کو ہونا شروع ہو گیا۔ بڑے زمیندار اور وڈیرے تو اپنے سیاسی اثر ورسوخ کی وجہ سے سرکاری افسروں اور ملازموں کی لوٹ گھسوٹ سے سے محفوظ رہے لیکن چھوٹا کسان لاوارث ہو گیا۔ یوں اس کی غربت اور پسماندگی کا عمل تیز ہوتا چلا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ پاکستان کا کسان ملک کے غریب ترین اور پسماندہ ترین طبقے میں شامل ہے۔

کسان اپنی فصل لے کر شہر آتا ہے تو منڈی میں آڑھتی اسے لوٹ لیتا ہے۔ وہ اگر مویشی لے کر شہر میں آتا ہے تو تب بھی اسے مویشی منڈیوں میں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر اسے سرکاری ملازموں سے کوئی شکایت ہو تو اسے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ شکایت کہاں کرنی ہے اور اس کا پروسیجر کیا ہے۔

جن سے وہ پروسیجر پوچھے گا وہ بھی اس کا استحصال کرنا شروع کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نظام کسان مخالف ہے۔ اس نظام میں کسان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے۔ اسی طرح غریبوں کے لیے بھی اس میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ ایک چھوٹے سے سرکاری اہلکار کو بھی قانون کا تحفظ حاصل ہے۔

وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال بھی کر لے تو اس کی جواب دہی کا عمل انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ہے۔ ایک پٹواری سے لے کر میونسپل کارپوریشن کے اہلکار تک اور ایک پولیس کے سپاہی سے لے کر کسی دفتر کے کلرک تک کے احتساب کا کوئی ریشنل میکنزم نہیں ہے۔ یہی پاکستان کے غریب کسان اور غریب عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }