سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے 25 سالہ لڑکی کے قتل میں ملوث ملزم کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔
دوران سماعت، وکیل مدعی نے دلائل دیے کہ ملزم نے 25 سالہ مقتولہ سائمہ بی بی کو چھری سے ذبح کرکے قتل کر دیا تھا، ملزم مقتولہ کا ہمسایہ اور مقتولہ پر بری نظر رکھتا تھا، مقتولہ کا شوہر اور دیور اور ایک تیسرا شخص بھی واقعے کا گواہ ہے۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی آر کے مطابق ملزم اکیلا جبکہ وقوعہ کی تین گواہ ہیں۔ شوہر، دیور اور تیسرے شخص نے ملزم کو وقوعہ کے وقت روکا کیوں نہیں؟ مقتولہ کو ذبح کیا جا رہا تھا تو عینی شاہدین خاموش تماشائی بنے کھڑے رہے؟
وکیل مدعی نے کہا کہ مقتولہ کو ذبح کرنے سے قبل گلے میں دوپٹہ ڈال کر چارپائی سے باندھا گیا۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل رپورٹ میں دوپٹے کے نشانات کا ذکر نہیں، دوپٹے کو فارنزک کے لیے کیوں نہیں دیا گیا؟ ہائیکورٹ نے بری نظر رکھنے اور چھری برآمدگی ہو اپنے فیصلے میں قابل بھروسہ نہیں لکھا۔
جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ مدعی اور گواہوں کے مطابق واقعہ صبح ساڑھے چھ بجے کا ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت پہلے ہوچکی تھی، مدعی کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے ملزم منور حسین کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر درخواست گزار کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔
واضح رہے کہ مقتولہ کو فیصل آباد کے گاؤں میں سال 2016 میں چھری کے وار سے قتل کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو عمر قید کی سزا دی جبکہ ہائیکورٹ نے براقر رکھی۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔