امریکا: دورانِ پرواز پائلٹس کا پُراسرار فضائی شے دیکھنے کا دعویٰ

21

امریکی ریاست اوہائیو کے قریب پرواز کرنے والے پائلٹس نے طیارے کے نزدیک چاندی جیسے چمکدار اور کیپسول نما پراسرار فضائی شے دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، ایئر ٹریفک کنٹرول کے ریڈار پر اس شے کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل یو ایف او رپورٹنگ سینٹر (این یو ایف او آر سی) پر 26 اکتوبر کو ایک واقعے کی تفصیلات شیئر کی گئیں جس میں بتایا گیا کہ یہ واقعہ 16 اگست کو پیش آیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق دوران پرواز پائلٹس نے ایک عجیب و غریب شے کو دیکھا جو بظاہر تقریباً ساکن حالت میں فضا میں موجود تھی۔ طیارے کے قریب آنے پر عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔ تاہم، انہیں بتایا گیا کہ ریڈار پر کسی دوسرے طیارے یا نامعلوم شے کی نشاندہی نہیں ہو رہی۔

طیارے کے ایک پائلٹ نے اس پراسرار شے کی تصویر بھی بنائی، جسے بعد ازاں این یو ایف او آر سی کے تفتیش کار بین ہینسن نے پائلٹ سے انٹرویو کے دوران حاصل کیا۔

تفتیشی رپورٹ میں پائلٹ کی شناخت صرف حرف ’جے‘ سے ظاہر کی گئی ہے۔ اس کے مطابق پراسرار شے کی سطح چاندی کی طرح چمکدار اور انتہائی ہموار تھی جبکہ اس کی شکل کیپسول جیسی تھی۔ اس پر نہ کوئی شکن تھی اور نہ ہی کسی قسم کا جوڑ یا نچلا حصہ پتلا دکھائی دیتا تھا۔

پائلٹ کے مطابق طیارے کے تصادم سے خبردار کرنے والے نظام اور فلائٹ ٹریکنگ ایپ پر بھی کسی دوسرے طیارے کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی جبکہ کلیولینڈ سینٹر کے ایئر ٹریفک کنٹرولرز نے بھی ریڈار پر کسی نامعلوم فضائی شے کی موجودگی سے لاعلمی ظاہر کی۔

پائلٹ کا خیال تھا کہ ممکنہ طور پر یہ پراسرار شے ان گرج چمک والے بادلوں سے نمودار ہوئی تھی جن کے درمیان سے گزرنے کی کوشش طیارے کا عملہ کر رہا تھا۔

انہوں نے اس امکان پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا کوئی غبارہ ایسے شدید موسمی حالات میں محفوظ رہ سکتا تھا کیونکہ بادلوں میں داخل ہونے کے بعد ان کے اپنے طیارے کے انجن پر برف جمنے لگی تھی اور اسے درمیانے درجے کے فضائی جھٹکوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

تاہم، اس پراسرار شے کی اصل شناخت تاحال سامنے نہیں آسکی اور نہ ہی اس بات کی آزادانہ تصدیق ہوئی ہے کہ یہ کوئی خلائی مخلوق یا غیر معمولی فضائی ٹیکنالوجی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }