نئی دلی میں جی 20 اجلاس سے پہلے ہندو عیسائی فسادات میں شدت

106

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

عیسائیوں پر تشدد کا سلسلہ منی پور کی ریاست سے شروع ہوا اور اب نئی دلی تک پھیل گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، 20 اگست کونئی دلی میں عیسائی افراد پر 35 سے 40 مسلح افراد نے حملہ کیا۔

رپورٹس میں یہ بات بھی  سامنے آئی ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی انتہا پسند تنظیموں سے تھا۔

ہندو انتہا پسندوں نے چرچ کے احاطے میں توڑ پھوڑ کی اور مقدس بائبل کو بھی شہید کردیا، ہندو انتہا پسندوں نےمسیحوں پر ہندوؤں کے مذہب کی تبدیلی کی کوششوں کا الزام لگایا۔

رپورٹس کے مطابق، عیسائی برادری کی شکایت پر 300 انتہا پسند ہندوؤں نے تھانے کے باہر جمع ہوکر احتجاج کیا۔

یاد رہے کہ بھارت میں رواں سال عیسائیوں کے خلاف 400  حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

بھارتی ریاست منی پور میں پر تشدد کارروائیوں میں اب تک سینکڑوں عیسائی ہلاک اور متعددچرچ تباہ ہوچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }