اسرائیل سے یونان کو 22 قدیم نوادرات واپس مل گئے، پارتھینون کے مجسموں کی واپسی کی مہم بھی جاری

13

اسرائیل نے غیر قانونی طور پر یونان سے نکالے گئے 22 قدیم نوادرات واپس کردیے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نوادرات کی واپسی کی تقریب یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے قومی عجائب گھر میں منعقد ہوئی جہاں یونانی وزیر ثقافت لینا مینڈونی نے یہ اشیا اسرائیلی محکمہ آثارِ قدیمہ کے حکام سے وصول کیں۔

واپس کیے گئے نوادرات میں خاتون کا کانسی کا ایک چھوٹا مجسمہ، تیل رکھنے کی باریک بوتلیں، دو دستوں والے مٹی کے برتن اور دیومالائی کہانیوں اور جیومیٹریائی نقش و نگار سے مزین پیالے شامل ہیں۔

ان اشیا کا تعلق تقریباً 700 سے 320 قبل مسیح کے زمانے سے بتایا جاتا ہے۔

یونانی وزیر ثقافت نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے نوادرات کی واپسی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور ہر ثقافتی شے کی اس کے اصل مقام پر واپسی کی علامتی اور اخلاقی اہمیت بھی ہوتی ہے۔

اسرائیلی سفیر برائے یونان پنینات یانائے کے مطابق یہ نوادرات اسرائیلی حکام کی جانب سے غیر قانونی قدیم نوادرات کی تجارت کی تحقیقات کے دوران برآمد کیے گئے۔

تاہم دونوں ممالک نے یہ تفصیلات ظاہر نہیں کیں کہ اشیا اسرائیل کیسے پہنچیں اور انہیں یونان سے کب اور کن حالات میں نکالا گیا تھا۔

یونان بیرون ملک موجود اپنے تاریخی ورثے کی واپسی کی مہم کے دوران ایتھنز کے تاریخی ایکروپولس سے نکالے گئے تقریباً ڈھائی ہزار سال قدیم پارتھینون کے مجسمے بھی لینا واپس چاہتا ہے جو اس وقت لندن کے برٹش میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور یونان کے درمیان توانائی اور دفاعی تعاون بھی بڑھ رہا ہے۔ اگست میں اسرائیل نے یونان کے لیے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا معاہدہ کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }