پنجاب میں ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں 145 ملین روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

11

پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے سرکاری اسپتال کے لیے ادویات کی فراہمی کا ٹھیکہ مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے دینے اور 145 ملین روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق سابق دور حکومت میں ادویات کی فراہمی کا ٹھیکہ ایک مقامی ادویات ساز کمپنی کو دیا گیا، جو مطلوبہ تجربہ نہیں رکھتی تھی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کمپنی نے تین ماہ کی مدت میں فراہم کی جانے والی ادویات ایک سال میں فراہم کیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے معاملے میں سنگین بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت کا کورونا وائرس کے باعث ادویات کی فراہمی میں تاخیر کا مؤقف مسترد کر دیا۔

کمیٹی نے انکوائری افسر کو ہدایت کی کہ ادویات کی فراہمی کے ٹھیکے میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور کمپنی کی اہلیت کی بھی تحقیقات کی جائیں۔

کمیٹی نے کمپنی کو دی گئی مبینہ ناجائز رعایت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا متعلقہ کمپنی ٹھیکہ حاصل کرنے کے لیے مقررہ قواعد و ضوابط پر پورا اترتی تھی یا نہیں۔ انکوائری میں ذمہ داران کا تعین کرنے اور ٹھیکے کے اجرا کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }