افغانستان میں طالبان کے سیاہ دورِ اقتدار کے 5 سال مکمل، انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں

17

افغانستان میں طالبان کے سیاہ دورِ اقتدار کے 5 سال مکمل ہوگئے تاہم ملک میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سلسلہ برقرار ہے۔

اقوامِ متحدہ بارہا افغان طالبان کے سیاہ دورِ اقتدار میں جاری انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا پردہ چاک کر چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ویمن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد خواتین کیخلاف 100 سے زائد احکامات جاری کرکے امتیازی پابندیوں کا نظام مسلط کیا۔ افغان خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے باعث 2030 تک 25 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی کا خدشہ ہے۔

افغان طالبان کے نام نہاد فوجداری ضوابط نے خواتین کی قانونی برابری کو مزید محدود کرکے حقوق اور انصاف تک رسائی مشکل بنادی ہے، طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں نے خواتین کو گھروں تک محدود کردیا، تین چوتھائی سے زائد خواتین باہر نکلنے کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یوناما نے افغان خواتین پر طالبان کے بڑھتے جبر اور کریک ڈاؤن  کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا کہ
6 سے 8 جون کے دوران ہرات میں طالبان نے نام نہاد ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں 2 خواتین کو ہلاک، جبکہ 30 کو گرفتار کیا، طالبان رجیم کی سخت گیر پابندیوں نے افغانستان میں 10 میں سے7 خواتین کو ذہنی مسائل کا شکار کردیا۔ 

اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق طالبان رجیم کی نااہلی سے افغانستان میں غذائی بحران سنگین ہونے کے باعث 37 لاکھ بچے جبکہ 12 لاکھ سے زائد حاملہ خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، طالبان رجیم میں اپریل سے جون تک 29 سابق افغان فوجی اہلکاروں کو گرفتار، 8 کو قتل اور 5 کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 

ہیومن رائٹس واچ کی محققہ فرشتہ عباسی کے مطابق افغان عوام کیلئے طالبان رجیم کے بدترین پانچ سال  بے احتسابی اور تباہ کن نتائج کی افسوسناک علامت ہیں، دین کی مسخ شدہ تشریحات کو جواز بنا کر اقتدار پر قابض  ہونے والی طالبان رجیم دہشتگردی کیساتھ انسانی حقوق کی بھی سنگین پامالی میں سرگرم ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }