نیپال کے وزیراعظم بالن شاہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب کے دوران بھی مخصوص سیاہ چشمہ پہنے رکھا جس نے عالمی سطح پر ان کے منفرد انداز کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 36 سالہ بالن شاہ نے اقوام متحدہ میں موسمیاتی تبدیلی اور ہمالیائی ماحولیاتی نظام کو درپیش خطرات پر بات کرتے ہوئے روایتی سیاہ نیپالی ٹوپی، سیاہ بلیزر اور اپنے مخصوص سیاہ چشمے میں نظر آئے۔
نیپالی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بالن شاہ عام طور پر پارلیمنٹ کے اجلاسوں، عوامی تقریبات، فوجی پریڈز اور غیر ملکی سفیروں کے ساتھ تصاویر کے دوران بھی چشمہ اتارنے سے گریز کرتے ہیں۔
تاہم کابینہ کے اجلاس، نجی ملاقاتیں اور مشترکہ اجلاس وہ مواقع ہیں جہاں بالن شاہ اپنی روایت کو توڑتے ہوئے سیاہ چشمہ نہیں پہنتے۔ یہ سیاہ چشمہ الیکشن مہم سے لیکر فتح اور پھر وزیراعظم بننے تک ان کی شناخت بن چکا ہے۔
خیال رہے کہ بالن شاہ میوزک ریپر ہیں اور اسی شہرت کو استعمال کرتے ہوئے 2022 میں کھٹمنڈو کے میئر منتخب ہو کر سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہوئے تھے۔
اُن کا سیاہ لباس اور چشمہ ان کی عوامی شناخت کا حصہ بن چکا ہے حتیٰ کہ نیپال کے ایک بڑے آن لائن شاپنگ پلیٹ فارم پر بالن شاہ گلاسز کے نام سے ان کے انداز سے مشابہ چشمے بھی دستیاب ہیں۔
تاہم وہ بعض مواقع پر چشمہ اتار چکے ہیں۔ جولائی میں جنوبی نیپال میں ہندو مسلم کشیدگی کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چشمہ اتار دیا تھا۔ اگست میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بھی وہ بغیر چشمے کے نظر آئے۔
گو اقوام متحدہ اجلاس میں سیاہ چشمہ پہن کر آنے پر پابندی نہیں لیکن یہ پروٹوکول کے خلاف اور نامناسب لگتا ہے۔ تاحال خود بالن شاہ یا نیپالی حکومت نے سیاہ چشمہ نہ اتارنے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں سیاہ چشمہ پہننے پر اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج اور اسے غیر آئینی قرار دیے جانے پر وزیراعظم کے دفتر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ڈاکٹر نے تیز روشنی سے آنکھوں کے تحفظ کے لیے بالن شاہ کو چشمہ پہننے کا مشورہ دیا ہے۔