جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی، مہنگی بجلی، آئی پی پیز کے معاہدوں اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی تحریک جاری ہے اور حکومت نے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو ملتان سے ہی سپر لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد 5 اسٹار چورنگی پر پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس، آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں، مہنگی بجلی اور مہنگائی کے خلاف قائم احتجاجی کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری ہے اور ملک کے دیگر صوبوں میں بھی جلسے کیے جائیں گے، اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جب وزیراعظم پاکستان بیرون ملک کے دورے سے واپس آئیں گے تو ان سے دوٹوک بات کی جائے گی، اگر مطالبات تسلیم کرلیے گئے تو مسئلہ حل ہوجائے گا، بصورت دیگر ملتان سے سپر لانگ مارچ شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوامی احتجاج کو روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، لاہور میں جماعت اسلامی کا جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، تاہم جب عوام بڑی تعداد میں باہر نکلے تو حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا، عوامی احتجاج ایک جمہوری حق ہے اور جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور بے روزگاری نے عام آدمی کا جینا مشکل کردیا ہے، تاجر برادری بھی مہنگائی کی وجہ سے شدید پریشان ہے، وہ تاجروں اور خاص طور پر کراچی کے تاجروں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے 3 ستمبر کی ہڑتال کی حمایت کی اور عوامی مسائل کے خلاف آواز بلند کی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے اور عام شہری کے حالات مزید خراب سے خراب تر ہوتے چلے جاتے ہیں، حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مسلسل عوامی مسائل کو اجاگر کر رہی ہے اور جب بھی کسی مسئلے پر آواز اٹھاتی ہے تو اس کے حل کے لیے باقاعدہ عوامی مہم چلائی جاتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں آئی پی پیز مافیا، آٹا مافیا، چینی مافیا اور بینکنگ نظام سے وابستہ مفادات سمیت مختلف مافیاز موجود ہیں لیکن ان کے خلاف مؤثر آواز نہیں اٹھائی جاتی کیونکہ حکمران ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، موجودہ بجٹ میں بھی عوام پر اربوں روپے کا بوجھ ڈالا گیا لیکن اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز پر مؤثر احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے سیاست کا ایک نیا سفر شروع کیا ہے جس میں عوام کے حقیقی مسائل کو مرکز بنایا گیا ہے، جماعت اسلامی کا ذاتی کوئی ایجنڈا نہیں بلکہ ہم عوام کے حقوق، مہنگائی کے خاتمے، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں کے-الیکٹرک، نادرا، بحریہ ٹاؤن سمیت متعدد شہری مسائل پر آواز اٹھائی اور ہماری جدوجہد کے نتیجے میں مسائل حل ہونا شروع ہوئے، جماعت اسلامی کی جدوجہد سے کراچی میں 90 فیصد لوگوں کے قومی شناختی کارڈ بنے، جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف بھی آواز اٹھائی، جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں عوام کو ریلیف ملا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ایران اور امریکا کی جنگ کا بہانہ بناکر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا، اب بھی تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی کے نام پر وصول کیے جا رہے ہیں، حکومت عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ پیٹرولیم لیوی بڑھانا عالمی مالیاتی اداروں کی شرط ہے حالانکہ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اشرافیہ، جاگیرداروں اور وڈیروں سے بھی ٹیکس وصول کرنے کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ جاگیردار اور وڈیرے اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس نہیں دیتے، عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکمران طبقہ کس طرح عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہا ہے، ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے مسائل موجود ہیں، ادارے کو اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔