ہر وقت آن لائن رہنے کی عادت ذہنی دباؤ بڑھا سکتی ہے

21

اسمارٹ فون، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے روزمرہ زندگی کے بیشتر کام آسان بنا دیے ہیں، لیکن ہر وقت آن لائن رہنے اور مسلسل اطلاعات چیک کرنے کی عادت ذہنی دباؤ اور تھکن میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

ماہرین اور محققین نے اس رویے کو ’آن لائن نگرانی‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا مطلب صرف موبائل یا کمپیوٹر استعمال کرنا نہیں بلکہ آف لائن ہونے کے باوجود مسلسل یہ سوچتے رہنا بھی ہے کہ اگلی اطلاع کیا ہوگی، کون سا پیغام آیا ہے یا آن لائن دنیا میں آگے کیا ہورہا ہے۔

جرمن تحقیق میں آن لائن نگرانی کو ایسے مستقل ذہنی رجحان کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں انسان آن لائن مواد اور مواصلات کی جانب متوجہ رہتا ہے اور دستیاب آن لائن مواقع سے مسلسل فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حوالے سے تحقیق ’پی ایل او ایس ون‘ میں بھی شائع ہوئی۔

دسمبر 2020 میں ’ہیومن کمیونیکیشن ریسرچ‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں آن لائن نگرانی کے تین اہم پہلو بیان کیے گئے: آن لائن دنیا کے بارے میں مسلسل سوچتے رہنا، موصول ہونے والی معلومات پر ردعمل دینے کی ضرورت محسوس کرنا اور اپنے آلات کو بار بار چیک کرتے رہنا۔

مسلسل آن لائن رہنے سے تناؤ کیوں بڑھ سکتا ہے؟

مسلسل آن لائن رہنا اکثر ایک ساتھ کئی کام کرنے یعنی ملٹی ٹاسکنگ کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ تحقیق میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ آیا آن لائن نگرانی اور ذہنی دباؤ کے درمیان تعلق موجود ہے یا نہیں۔

’ہیومن کمیونیکیشن ریسرچ‘ میں شائع ہونے والے مقالے کے مطابق تین مطالعات کے نتائج سے اشارہ ملا کہ ملٹی ٹاسکنگ تناؤ کی سطح میں اضافے سے منسلک ہوسکتی ہے۔ آن لائن رابطوں اور دنیا کے بارے میں مسلسل سوچنا بھی ذہنی دباؤ میں اضافے کے ساتھ تعلق رکھتا پایا گیا۔

توانائی اور توجہ پر اثر

جب انسان مستقل طور پر آن لائن دنیا، سوشل میڈیا یا اطلاعات کے بارے میں سوچتا رہتا ہے تو اس کی توجہ اور ذہنی توانائی کا ایک حصہ انہی سرگرمیوں میں صرف ہوتا رہتا ہے۔ نتیجتاً روزمرہ کے دوسرے کاموں یا مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے دستیاب وقت اور ذہنی توانائی متاثر ہوسکتی ہے۔

اسکرین ٹائم کیسے کم کیا جائے؟

ماہرین کے تجویز کردہ بنیادی اقدامات میں کھانے کے دوران موبائل اور دیگر الیکٹرانک آلات سے دور رہنا، غیر ضروری سوشل میڈیا اطلاعات کو محدود کرنا اور فون کی غیر ضروری نوٹی فکیشنز بند کرنا شامل ہے۔

اسی طرح جب بوریت یا تناؤ محسوس ہو تو فوری طور پر اسکرین کی طرف جانے کے بجائے کچھ وقت آف لائن گزارنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس طرح دن بھر ایپس اور اطلاعات کو مسلسل چیک کرنے کی عادت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }