دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں تیزی سے کمی آنے لگی

16

دنیا کے کئی ممالک میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں آبادی کے میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ماہرین کے مطابق بہت سے معاشروں میں لوگ ماضی کے مقابلے میں کم بچے پیدا کر رہے ہیں یا والدین بننے کا فیصلہ ہی مؤخر کر رہے ہیں۔

اس رجحان کی کئی اہم وجوہات بیان کی جارہی ہیں۔ مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، بچوں کی تعلیم اور پرورش پر آنے والا بھاری خرچ، ملازمت کا غیر یقینی مستقبل اور کام کے دباؤ نے نوجوان نسل کے لیے خاندان شروع کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

اس کے علاوہ شادی کی عمر میں اضافہ اور خواتین کی تعلیم و ملازمت کے مواقع میں اضافے نے بھی خاندانی منصوبہ بندی کے رجحانات کو تبدیل کیا ہے۔ کئی افراد ذاتی آزادی، کیریئر اور بہتر معیارِ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے بچے پیدا کرنے کا فیصلہ دیر سے کرتے ہیں یا کم بچے رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرحِ پیدائش میں کمی کا یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا تو متعدد ممالک کو بوڑھی ہوتی آبادی، افرادی قوت میں کمی، پنشن اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }