” داماد خان ” – ایکسپریس اردو

16

آج بھی کئی گھنٹوں تک اس قسم کی سوشل میڈیا پوسٹس کی بھرمار رہی، نجی محفلوں میں بھی ایسی ہی باتیں ہوتی رہیں،ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد مجھے 5 فیصد بھی امید نہیں تھی کہ پاکستان میچ جیت جائے گا اسی لیے ایک ڈنر پر چلا گیا، وہاں اسکور چیک کرتا رہا۔

شاداب خان اور حارث رؤف کی پارٹنر شپ بنی تو موبائل ایپ پر میچ لگا لیا،پھر اختتامی لمحات گھر جا کر دیکھے، بلاشبہ یہ پاکستان کرکٹ کی چند بہترین فتوحات میں سے ایک ہے۔

شاداب کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب ان کا ڈیبیو بھی نہیں ہوا تھا، انگلینڈ میں میرے ایک واقف کار نے بتایا تھا کہ ایک نوجوان آل راؤنڈر بہت زبردست ہے، وہ پاکستان کی نمائندگی بھی کر سکتا ہے، بعد میں ایسا ہی ہوا، چیمپئنز ٹرافی میں شاداب نے ٹیم کی ٹائٹل فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ 

کوئی بھی کرکٹر ہر میچ میں بہترین کھیل نہیں پیش کر سکتا،کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، شاداب کے ساتھ بھی یہی ہوا، ان کے سر پر کسی بڑی کمپنی کا ”سایا“ موجود نہیں جو انھیں سوشل میڈیا پر ہمیشہ ہیرو بنا کر رکھے، فٹنس کی وجہ سے  فارم متاثر ہوئی، ٹیم سے باہر بھی رہنا پڑا۔ 

ہمارے ملک میں شائقین کی توقعات بہت زیادہ ہیں، یہاں فہیم اشرف کو کوئی کچھ نہیں کہتا جنھوں نے زندگی میں 1،2 بار ہی اچھا کھیل پیش ہو گا، البتہ شاداب ہر وقت تنقید کی زد میں رہتے ہیں، جب سے ان کی ثقلین مشتاق کی صاحبزادی سے شادی ہوئی مسائل مزید بڑھ گئے، لوگوں نے داماد خان اور نجانے کیا کیا نام رکھ دیے۔

 میں ثقلین اور شاداب دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، آپ کو پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ  نہ ثقلین نے کبھی کسی سے کہا ہو گا کہ شاداب کو سلیکٹ کرو، نہ شاداب نے اپنے سسر سے کہا ہو گا کہ میرے لیے کسی سے بات کریں،شاداب تو اس ٹرولنگ کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہیں اور وضاحتیں دے دے کر بھی تھک چکے۔

جب سے سوشل میڈیا آیا ہمارے ملک میں لوگ قابو سے باہر ہو گئے، گاؤں دیہات میں بیٹھا کوئی شخص بھی کسی سپراسٹار کو اپنی دو لائنز سے اپ سیٹ کر سکتا ہے،سامنے کسی سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوگی لیکن موبائل پر گالیاں بھی ٹائپ کر کے کسی کو بھی ذلیل کر دیا جاتا ہے۔

آپ کو کوئی پسند نہیں تو اس کے کھیل کو برا بھلا کہیں ذاتیات پر جانے کا کسی کو حق نہیں، دنیا اے آئی کو لاعلاج بیماریوں کے علاج و دیگر اہم کاموں میں استعمال کر رہی ہے، ہمارے ملک میں ٹرولنگ کا کام لیا جاتا ہے۔

نہ صرف شاداب بلکہ شاہین آفریدی کو بھی انہی مسائل کا سامنا ہے، ان کی زیرقیادت ون ڈے ٹیم مسلسل عمدہ کھیل پیش کر رہی ہے، وہ خود بھی خوب وکٹیں لیتے ہیں مگر لوگ سسر شاہد آفریدی کے طعنے ہی دیتے رہتے ہیں،اگلے سال ورلڈکپ ہونا ہے اس سے قبل اگر ٹیم فتوحات کی راہ پر گامزن ہو گئی تو اس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ افریقہ میں بھی مثبت نتائج سامنے آئیں۔

ہمیں اپنی ٹیم سے یہی شکوہ تھا کہ وہ فائٹ کرنا بھول چکی لیکن جس طرح انگلینڈ کیخلاف ہارا ہوا میچ جیتا اس سے امید کی کرن نظر آنا شروع ہو گئی ہے، نوجوان کرکٹرز بھی اچھا پرفارم کر رہے ہیں یہ بھی خوش آئند ہے، قسمت نے خاصا ساتھ دیا۔

جب اختتامی لمحات میں شاداب کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا تو وہ بھی سمجھ گئے کہ صاف آؤٹ ہیں، بے دلی سے ریویو لے کر غصے میں بیٹ زمین پر پھینک دیا، انگلینڈ کے کرکٹرز نے انھیں اچھے کھیل پر ہاتھ ملا کر شاباشی دی، پھر اچانک اسکرین پر ری پلے چلا جس میں گیند بیٹ کو پہلے چھونے کی نشاندہی ہو گئی۔

شاداب نے خوشی سے مکا لہرایا، حارث بھی چلا اٹھے اور پھر کچھ دیر میں دونوں نے انہونی کو ہونی میں بدل دیا،ایسے چند مزید میچز اگر پاکستان ٹیم جیت جائے تو روٹھے شائقین کو منایا جا سکے گا،لڑ کر ہارنے پر بھی کسی کو دکھ نہیں ہوتا،البتہ جب بڑی بڑی متواتر شکستیں ہوں تو دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ 

کھلاڑیوں کو بھی چاہیے کہ ذمہ داری محسوس کریں، لاکھوں، کروڑوں لوگ آپ کے لیے دعائیں کرتے ہیں انھیں مایوس نہ کیا کریں،ٹاپ آرڈر بیٹنگ مسلسل ناکام جا رہی ہے، اس جیت سے کوئی پردہ نہیں پڑ سکے گا، ہر بار شاداب سنچری بنا کر نہیں جتوا سکتے، سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ٹرائنگولر سیریز کے راولپنڈی میں میچز کے دوران ”ہاؤس فل“ نہیں ہوا، لاہور کے پہلے میچ میں بھی کئی خالی اسٹینڈز نظر آئے، ون ڈے کرکٹ میں لوگوں کی دلچسپی یقینی طور پر کم ہوئی ہے لیکن وہ ٹیم سے بھی ناراض ہیں، جو لوگ کرکٹ دیکھنا چھوڑ چکے انھیں واپس لانے کیلیے تسلسل سے اچھا کھیل پیش کرنا ہوگا۔

جاری ایونٹ میں مسلسل دوسرا سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا، انگلینڈ بدقسمت رہا، سری لنکا نے 430 کا ہدف حاصل کر لیا اور اب پاکستان نے 9 وکٹیں گنوانے کے باوجود میچ جیت لیا، آئی سی سی بھی خوش ہو گی کہ ورلڈکپ سے قبل ون ڈے کرکٹ کی بہترین تشہیر ہو رہی ہے۔

اگر ہماری ٹیم فائنل جیت گئی تو رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آ جائے گی، ٹیم منیجمنٹ اور سلیکٹرز کو بھی اسکواڈ متوازن بنانا چاہیے، صائم ایوب کمزور کڑی ثابت ہو رہے ہیں، ان کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ سسر کی وجہ سے کھیل رہے ہیں، ملک میں کئی نوجوان کرکٹرز چانس کے انتظار میں ہی رہ جاتے ہیں انھیں موقع دیں، مناسب کمبی نیشن بنانے کا بہترین موقع ملا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔

پی سی بی کو چاہیے کہ شاہین آفریدی کو ورلڈکپ تک کپتان مقرر کرنے کا اعلان کر دے تاکہ دیگر چانس کے منتظر نہ رہیں اور اپنے کھیل پر توجہ دیں،اگر اسی طرح سینئر اور جونیئر پلیئرز پرفارم کرتے رہے تو آئی سی سی ایونٹس سے جلد گھر واپسی کا جمود آئندہ سال ختم ہو سکتا ہے،امید یہی ہے کہ اب اچھی خبریں ہی سامنے آئیں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }