زیادتی کیس میں صرف ڈی این اے کی بنیاد پر جرم ثابت ہو سکتا ہے؟ عدالت نے قانونی معاونت طلب کرلی

19

اسلام آباد:

کیا ریپ کیس میں صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف جرم ثابت ہو سکتا ہے؟ گونگی بہری 25 سالہ معذور لڑکی کے کیس میں اہم قانونی سوالات سامنے آگئے، سپریم کورٹ نے فریقین کے وکلا سے مزید معاونت طلب  کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس شہزاد احمد ملک کی سربراہی میں قائم بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ نے ڈی این اے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے ملزم کو عمر قید کی سزا سنائی، ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو ذہنی معذور بھی لکھا۔

ملزم کے وکیل نے کہا متاثرہ لڑکی نے عدالت میں خود کوئی بیان نہیں دیا، ٹرائل کورٹ نے والدہ کے بیان پر انحصار کیا، سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ ہے کہ صرف ڈی این اے میچ ہونے پر سزا نہیں سنائی جاسکتی۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا آپ جس فیصلے کا حوالہ دے رہی ہیں، اس کے حقائق مختلف ہیں، اس کیس میں متاثرہ لڑکی پر ماضی میں بھی ایسے الزامات لگانے کی ہسٹری موجود تھی، اس مقدمے میں متاثرہ لڑکی قوتِ سماعت اور قوتِ گویائی سے محروم ہے۔

ملزم کے وکیل نے کہا متاثرہ لڑکی نے پانچویں ماہ والدہ کو پیٹ میں درد کی شکایت کی، طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی حاملہ ہے، متاثرہ لڑکی کے بچے کا ڈی این اے ملزم سے میچ کرگیا ہے۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق گونگے بہرے افراد کا بیان سمجھنے کے لیے ماہر کو بلایا جاتا ہے۔ جسٹس شہزاد ملک نے کہا ٹرائل کورٹ میں متاثرہ لڑکی کی والدہ نے اس کی جانب سے بیان دیا، ایسے بچوں کی زبان صرف ماہر ہی سمجھ سکتا ہے۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا متاثرہ لڑکی معذور ہے، اسے معلوم ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔متاثرہ لڑکی کے وکیل نے کہا ملزم متاثرہ لڑکی کا ہمسایہ ہے۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا لوگوں میں خوفِ خدا ختم ہو گیا ہے۔ جسٹس شہزاد ملک نے کہا متاثرہ لڑکی کی والدہ کے مطابق لڑکی نے دو گواہوں کی موجودگی میں ملزم کی نشان دہی کی اگر لڑکی ملزم کی نشان دہی کر سکتی ہے تو بادی النظر میں ذہنی طور پر معذور نہیں۔

جسٹس شکیل احمد نے کہا قانونِ شہادت کے مطابق ایسے مقدمات میں متاثرہ لڑکی کا بیان اہم ہوتا ہے۔ عدالت نے تین نکات پر وکلا سے مزید معاونت طلب کر لی۔

عدالت نے سوالات اٹھائے کہ صرف ڈی این اے رپورٹ کی بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے؟ متاثرہ لڑکی صرف گونگی بہری ہے یا ذہنی معذوری کا بھی شکار ہے؟ ٹرائل کے دوران متاثرہ لڑکی کی بات سمجھنے کے لیے ماہر کیوں نہیں بلایا گیا؟ معاونت کی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }