اسرائیلی انتخابات، نیتن یاہو کے اقتدار کا سورج ڈوبنے کے قریب، اپوزیشن نے عوامی مینڈیٹ کا دعویٰ کردیا

18

تل ابیب:

اسرائیل میں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نیتن یاہو کا انتخابی اتحاد پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اپوزیشن اور عرب جماعتوں کی نشستیں نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

 

انتخابی نتائج کے مطابق 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد 48 نشستیں حاصل کرسکتا ہے۔ عرب جماعتوں کے اتحاد قائمہ المشترکہ کو 12 اور قائمہ العربیہ کو 7 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ اس طرح عرب جماعتوں کی ممکنہ مجموعی 19 نشستیں حکومت سازی کے لیے اہم بن سکتی ہیں، اگرچہ دونوں بڑے سیاسی اتحاد انہیں اپنی مخلوط حکومت میں شامل کرنے کے حامی نہیں ہیں۔

 

نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، تاہم ان کے سخت گیر اتحادی اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹرچ کی جماعتوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ گزشتہ پارلیمان میں دونوں جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 20 نشستیں تھیں، جو اب کم ہوکر 13 رہ جانے کا امکان ہے۔ دونوں رہنما غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی بھرپور حمایت کرتے رہے ہیں۔

 

دوسری جانب اپوزیشن میں سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی نئی جماعت یاشار کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ یائر لیپڈ اور سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ سے وابستہ جماعتوں کو مجموعی طور پر 12 نشستیں ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

 

انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 78 فیصد رہا۔ اسرائیل میں مقیم عرب شہریوں نے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے، جس سے عرب جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن مضبوط ہوئی۔ ماضی میں نفتالی بینیٹ نے 2021 میں عرب جماعت کو اپنی مخلوط حکومت میں شامل کیا تھا، تاہم اس بار عرب جماعتوں کو حکومت سازی میں شامل کرنے کے حوالے سے سیاسی مشکلات برقرار ہیں۔

 

اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ نیتن یاہو کے خلاف ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مزید کوشش نہ کریں۔

 

اسرائیل میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر کسی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اور جماعتوں کو حاصل ووٹوں کے تناسب سے پارلیمانی نشستیں دی جاتی ہیں۔ موجودہ نتائج کی روشنی میں نیتن یاہو کی لیکود پارٹی سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے دور دکھائی دے رہی ہے، جبکہ حتمی سیاسی منظرنامہ اتحادی جماعتوں کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }