ایران نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خلیجی خطے میں کسی نئی فوجی کارروائی کے عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ماسکو میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے اجلاس کے دوران ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے بقول خلیج فارس میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی کسی نئی فوجی مہم کے عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات ایران اور گیس فراہم کرنے والے ممالک کے ساتھ صارفین کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس اجلاس میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے عرب ممالک کو 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے امکان کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔
دوسری جانب آج اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا جس میں وزیراعظم نیتن یاہو کے انتخابی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے تاہم انھیں حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کو بھی ملانا ہوگا۔
الیکشن سے قبل وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو بھی ایران پر حملے کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں تاہم امریکی صدر نے انکار کردیا تھا اور اسرائیلی فوج نے بھی انتخابات سے قبل ایسے عمل کو سیاسی قرار دیکر ناقابل عمل قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے آئل ٹینکرز کے گزرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس متبادل راستے اختیار کرنے پر ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافے سے خام تیل کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا۔