دو بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں ماں کی عمر قید کی سزا 10 سال قیدِ بامشقت میں تبدیل

19

لاہور:

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے والدین کا اپنی اولاد کے قتل پر قصاص سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے دو بیٹوں کے قتل کے مقدمے میں ماں کی عمر قید کی سزا کم کرکے 10، 10 سال قیدِ بامشقت میں تبدیل کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محمد امجد رفیق نے شگفتہ پروین کی اپیل پر 20 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ والدین کو اپنی اولاد کے قتل پر قصاص سے استثنا حاصل ہوسکتا ہے، والدین کو اولاد کے قتل پر قصاص سے استثنی تو مل سکتا جرم سے بریت نہیں،
قصاص لاگو نہ ہونے کی صورت میں بھی قتل کے جرم پر تعزیری سزا دی جاسکتی ہے،
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 (سی) کے تحت ایسے مقدمات میں 25 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

شگفتہ پروین کے تین سالہ بیٹے عبدالہادی اور نو ماہ کے بیٹے عبدالرحیم کی لاشیں 9 نومبر 2022 کو حافظ آباد میں گھر سے ملی تھیں، ٹرائل کورٹ نے 28 جون 2024ء کو دونوں بچوں کے قتل کے جرم میں ملزمہ کو دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی، ٹرائل کورٹ نے دونوں بچوں کے ورثا کو دو، دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے اور خودکشی کی کوشش کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا بھی سنائی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد دونوں بچوں کے قتل کا جرم ثابت قرار دیا، تاہم قصاص کے بجائے تعزیری سزا مقرر کردی اور کہا کہ شوہر کے ساتھ تنازع اور ذہنی دباؤ بذاتِ خود قانونی طور پر ذہنی عدم اہلیت ثابت نہیں کرتے، لاہور ہائیکورٹ نے ملزمہ کی اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے دونوں قتل میں عمر قید کی سزا تبدیل کرکے 10، 10 سال قیدِ بامشقت کردی۔

عدالت کے مطابق بچوں کے ورثا کو معاوضے کی ادائیگی اور خودکشی کی کوشش کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا برقرار ہے، عدالت نے تمام سزائیں ایک ساتھ چلانے اور ملزمہ کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ دینے کا حکم بھی برقرار رکھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }