سندھ کے 31 شہروں کا نقشہ بدلنے کی تیاری؛ کراچی سمیت بڑے شہروں کے ماسٹر پلانز پر کام جاری

21

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت منصوبہ بند، پائیدار اور ہمہ گیر شہری ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کراچی اور حیدر آباد سمیت 31 شہروں کے ماسٹر پلانز پر کام کر رہی ہے، جن کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔

کراچی میں ورلڈ سیٹیز ڈے کے موقع پر گالف کلب کے کنونشن سینٹر میں سندھ ماسٹر پلاننگ اتھارٹی (ایس ایم پی اے) کی جانب سے این ای ڈی یونیورسٹی اور یو این ہیبی ٹیٹ کے تعاون سے منعقدہ 'سندھ سیٹیز فورم 2026' سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ اربنائزیشن کے بڑھتے ہوئے چیلنجز بشمول غیر منصوبہ بند تعمیرات، ٹریفک کی بھیڑ، پانی کی قلت، نکاسی آب کے نامناسب نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ماسٹر پلاننگ انتہائی ضروری ہے۔

وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ کے مطابق 17 شہروں کے ماسٹر پلان مکمل ہو چکے ہیں اورباقی 14 پر کام آخری مراحل میں ہے، حکومت نے اب تک 9 شہروں سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، عمرکوٹ، مٹھی، اسلام کوٹ، دادو، نوابشاہ اور نوشہرو فیروز کے ماسٹر پلانز کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد کے ماسٹر پلانز پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، کراچی کے ماسٹر پلان کے لیے بین الاقوامی مشیروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس کے بارے میں انہوں نے اعتراف کیا کہ شہر کے موجودہ حالات کے پیش نظر یہ ایک خاص طور پر مشکل مشق ہوگی۔

انہوں نے کہا کسی نئے شہر کے لیے بالکل شروع سے ماسٹر پلان تیار کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، کراچی کی صورت حال درست کرنا کنسلٹنٹس اور اربن پلانرز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور زور دیا کہ وہ نہ صرف شہر کی حالت کو بہتر بنانے بلکہ پلان کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے بھی سفارشات فراہم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے شہر کو تیزی سے پھیلتے ہوئے دیکھا ہے اور مشاہدہ کیا کہ اس کی ترقی کے ساتھ منصوبہ بندی کی سنگین ناکامیاں بھی سامنے آئیں، جس سے بعد میں شہری انفرا اسٹرکچر بہتر بنانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا۔

ڈسٹرکٹ ویسٹ کے یوسف گوٹھ میں 2020 کے مانیٹرنگ مون سون سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سڑکیں جو اصل میں مناسب کیریج ویز، مرکزی جزیروں اور برساتی نالوں کے ساتھ ڈیزائن کی گئی تھیں بعد میں ان پر تجاوزات قائم کر لی گئیں، سروس روڈز، میڈینز اور نکاسی کے راستوں پر دکانیں قائم کر دی گئیں جس سے اصل انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی اپنی حکومت سمیت یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ایسی غلطیاں کیں جنہوں نے شہر کی موجودہ حالت میں اپنا حصہ ڈالا، ایک بار جب کسی شہر میں ساختی مسائل پیدا ہو جائیں تو انہیں درست کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت شہریوں، پلانرز، بلڈرز، یوٹیلیٹی کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کے بغیر شہری چیلنجز کو حل نہیں کر سکتی اور سکھر کا حوالہ بطور مثال دیا کہ کس طرح مسلسل سرمایہ کاری سے شہری انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت گزشتہ 7 سے 8 سال کے دوران شہر کی سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔

یوٹیلیٹی کمپنیوں کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران، کے-الیکٹرک کے انفرا اسٹرکچر کی منتقلی نے لائنیں شفٹ کرنے کی ادائیگی کے باوجود کام میں تاخیر کی، یوٹیلیٹی کمپنیاں اور یہاں تک کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بھی اکثر اپنے نیٹ ورکس کو منتقل کرنے کے لیے کافی وقت لیتے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ زیر زمین پانی، سیوریج اور بجلی کی لائنوں کے درست نقشوں کی عدم موجودگی نے بھی ترقیاتی منصوبوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے، صوبائی حکومت نے زیر زمین یوٹیلیٹیز کی بڑی حد تک میپنگ کے لیے جی آئی ایس (GIS) سروے شروع کیے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پارکنگ کے لیے مختص زمین پر تجارتی دکانیں الاٹ کرنے سے بھیڑ مزید بڑھ جاتی ہے اور شہروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت نے تقریباً 25 ملین کی آبادی والے شہر میں تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے درپیش مشکلات کے باوجود کراچی کی ترقی کے لیے فنڈز کا انتظام کیا ہے، کراچی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک جدید اور اسمارٹ شہر میں تبدیل کرنا ہے۔

سندھ ماسٹر پلاننگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے، ناصر حسین شاہ

وزیر برائے بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ ناصرحسین شاہ نے کہا کہ محکمے کو سندھ میں شہری منصوبہ بندی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور اس نے شہر کی منصوبہ بندی، ترقیاتی کنٹرول اور پائیدار شہری ترقی کی نگرانی کے لیے سندھ ماسٹر پلاننگ اتھارٹی قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلاننگ رہائشی اور تجارتی علاقوں، صنعتوں، سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ، پارکوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور ضروری بلدیاتی خدمات کے محل وقوع اور ترقی کا تعین کرنے کے لیے ایک طویل مدتی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ سیٹیز فورم سرکاری اداروں، یونیورسٹیوں، اربن پلانرز، ماہرین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو خیالات کے تبادلے اور صوبے کے بڑھتے ہوئے شہروں کے لیے عملی حل تیار کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }