سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی اورپاکستان قونصلیٹ دبئی میں "یوم سیاہ کشمیر”کے موقع پر تقاریب کاانعقاد

17

   سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی اورپاکستان قونصلیٹ دبئی میں "یوم سیاہ کشمیر”کے موقع پر تقاریب کاانعقاد۔

  سفیرپاکستان شفقت علی خان اورقونصل جنرل دبئی حسین محمد کاخطاب۔

  مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارت کے ظالمانہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، سفیر پاکستان

 صدرپاکستان، وزیر اعظم ،نائب وزیر اعظم /وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔

اردوویکلی (نیوزڈیسک)::گزشتہ دنوں "یوم سیاہ کشمیر”( 27اکتوبر)کے موقع پر پوری دنیا کی طرح سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی اورپاکستان قونصلیٹ دبئی میں تقاریب کااہتمام کیاگیا۔جس میں پاکستانی وکشمیری کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مظلوم کشمیری بہن بھائیوں سے یکجہتی کااظہارکیا۔سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیرپاکستان جناب  شفقت علی خان نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر  کے بہادر عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا اور حقِ خود ارادیت کے لیے ان کی عظیم جدوجہد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مظالم کشمیری عوام کو آزادی کی ان کی جائز جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے ظالمانہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض افواج کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
سفیرپاکستان  نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک بڑی غداری کا آغاز تھا، جب بھارتی افواج نے وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف اور تقسیم کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس علاقے پر قبضہ کر لیا۔ تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہ غیر قانونی قبضہ برقرار ہے، جسے فوجی طاقت، جبر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کو منظم طریقے سے ناکام بنا کر قائم رکھا گیا ہے، جو کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی توثیق کرتی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سلامتی کونسل نے واضح طور پر تسلیم کیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے  کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ بھارت نے ان قراردادوں کو تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت وہ ان پر عمل درآمد کرنے کا پابند ہے۔ اس کے برعکس، بھارت نے وعدہ کردہ استصوابِ رائے کرانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا ہے، اور 5 اگست 2019 سے یکطرفہ اقدامات کے ذریعے اس علاقے کی حیثیت، آبادیاتی ساخت اور سیاسی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، دبئی میں یومِ سیاہ کشمیرکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔

 دبئی میں پاکستان کے قونصل جنرل جناب حسین محمد نے کشمیری عوام کی جرأت، استقامت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری جائز جدوجہد کی پاکستان کی جانب سے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کا اہم معاملہ ہے، جس کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔
قونصل جنرل نے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اقدامات نے کشمیری عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور تنازعِ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
یومِ سیاہ کشمیر ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج جموں و کشمیر میں داخل ہوئی، جسے پاکستان اور کشمیری عوام غیر قانونی فوجی قبضے کے آغاز کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہ دن تاریخ کا ایک سیاہ باب اور کشمیری عوام کے اس عزم کی علامت ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔تقریب میں شریک کشمیری برادری کے نمائندوں نے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی مسلسل حمایت اور یکجہتی پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
 ابوظہبی ودبئی میں منعقدہ تقاریب کے دوران صدرِ پاکستان، وزیراعظمِ پاکستان اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ پاکستان کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر کشمیری عوام کی جاری جدوجہد اور مشکلات کو اجاگر کرنے والی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جبکہ کشمیری عوام کی استقامت، قربانیوں اور حوصلے کی عکاسی کرنے والی تصاویر بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }