یہ جو پاکستان کے حکمرانی ،جمہوری ،آئینی، قانونی ،انتظامی اور سیاسی نظام میں کشمکش دیکھنے کو مل رہی ہے وہ داخلی محاذ پر پیچیدہ حالات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ جو لوگ سیاسی سطح پر موجود ہیں مرض کا علاج غیر سیاسی حکمت عملی کو بنیاد بناکر تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس نے معاملات کو اور زیادہ الجھا دیا ہے ۔
سیاسی ادارے یا قوتیں مسائل کو حل کرنے کے لیے تواتر کے ساتھ مکالمہ اور باہمی مشاورت پر زور دیتے ہیں ۔لیکن عملی طور پر سب مکالمہ کی ناکامی کا شکار ہیں۔کیونکہ اگر مکالمہ طاقت اور دھونس یا سیاسی ڈکٹیشن کی بنیاد پر ہوگا تو کوئی اس مکالمہ کو تسلیم نہیں کرے گا یا کوئی یہ سمجھے کہ اس کا ایجنڈ،نکات اور شرائط ہی کی بنیاد پر مکالمہ ہوگا تو یہ بھی بات کے عمل کو آگے نہیں بڑھاسکے گا۔مکالمہ کے لیے سب کو ایک دوسرے کے لیے سیاسی گنجائش پیدا کرنا ہوتی ہے اور ان کو مکالمہ کی بنیاد پر جگہ دینی ہوتی ہے یا ان کے نقطہ نظر کو سننے کی اہمیت دینی ہوتی ہے۔ضروری نہیں کسی بھی فریق کا نقطہ نظر سچ ہو مگرایک دوسرے کی سوچ اور رائے کو احترام دینا ہی مکالمہ کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے ۔
اس وقت بلوچستان ،خیبر پختونخوا اور کشمیر کی صورتحال، حکمرانی کے نظام سے جڑے سنجیدہ سوالات،معیشت کے بگاڑ سے پیدا ہونے والی مایوسی،نئے صوبوں کی نئی بحث، نظام کی ناکامی کا حکومتی، علاقائی صورتحال میں بھارت اور افغانستان کا کردار سب مسائل بشمول سیاسی عدم استحکام ، سیاسی تقسیم ہماری داخلی سیاست کے ٹکراؤ کو نمایاں کرتے ہیں۔
ان مسائل کا حل صرف اور صرف مکالمہ کو ہی آگے بڑھا کر ممکن ہے۔جو لوگ حکومت کو مشورہ دیتے ہیں ہمیں اپنی رٹ طاقت کی بنیاد پر یا متبادل آوازوں کو دبا کر ہی مسائل کے حل کی طرف بڑھنا ہوگا یہ مکمل درست حکمت عملی نہیں ۔طاقت کا استعمال بھی ایک حکمت عملی ہے جو مختلف معاملات میں اختیار کی جا سکتی ہے ۔لیکن یہ حکمت عملی آخری آپشن کے طور پر سامنے آتی ہے۔اس سے پہلے مرض کا علاج سیاسی حکمت عملی ،مفاہمت ،بات چیت اور ان کوبٹھا کر ہی ممکن ہوسکتا ہے ۔مسائل کا حل دو طرفہ ہوتا ہے اور کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہم آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔لیکن جب ہم مفاہمت اور بات چیت کو نظر انداز کرکے ایک دوسرے کی عدم قبولیت کی بنیاد پر الزام تراشیوں کی سیاست کا شکار ہوجائیں یا الزام تراشی کی سیاست کو اپنا اصول بنالیں تو پھر سب میں ایک دوسرے کے بارے میں عدم اعتماد یا بداعتمادی کا پہلو پیدا ہوتا ہے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ نہ تو ہم مکالمہ پر یقین رکھتے ہیں اور نہ اس بارے میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔
ایسی صورتحال میں نہ تو مکالمہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ اصلاح کا یااصلاحات کا پہلو سامنے آسکتا ہے ۔ مکالمہ کی ناکامی نے سیاسی محاذ پر سیاسی نفرت اور مسائل کے کلچر کو فروغ دیا ہے جس نے مجموعی طور پر ہماری سیاست اور جمہوریت کے چہرے کو اور زیادہ خراب کردیا ہے۔اگرچہ ماضی کی سیاست میں میثاق جمہوریت دو بڑی سیاسی سطح کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے کیا لیکن وہ بھی ان کی ذاتی سیاست کے مفاد میں اصل نتائج نہیں دے سکااور اسی طرح ہم قومی سطح پر بار بار میثاق معیشت کی بھی بات کرتے ہیں ۔لیکن جب تک سیاسی محاذ پر سیاسی استحکام اورسیاسی وجمہوری میثاق آگے نہیں بڑھے گا تو میثاق معیشت بھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
مضبوط معیشت کا تصور مضبوط سیاست ہی کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور ہمیں معیشت کی مضبوطی کو سیاسی تنہائی سے باہر نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اس مکالمہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھی شامل کرنا ہوگا ،سیاسی جماعتوں کے بغیر مکالمہ ممکن نہیں۔جو لوگ یہ منطق دیتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے سربراہ کو باہر نکال کر بات چیت کے عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے تو ان کو ماضی کے تجربے سے سیکھنا ہوگا جب ایک کوشش کے تحت نواز شریف اور بے نظر بھٹو کو باہر نکال کر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی مگر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ہمیں ہر ایک کے لیے بات چیت کے لیے سیاسی راستے کھولنے ہونگے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔اسی حکمت عملی کے تحت ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔یہ عمل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس وقت ملک کے سیاسی ماحول میں تناو اور ٹکراؤ ہے جسے کم ہونا چاہیے۔ہمیں ہر ایک کو جس سے ہمارے اختلاف ہیں ان کو اپنا یا حکومت کا دشمن نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اس طرز کی پالیسی نے ہمارے مسائل کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے جو نئی تلخیوں کو جنم دے رہا ہے۔یہ جو ہر بار طاقت کی حکمت عملی ہوتی ہے وہ کارگر نہیں ہوتی اور اس میں سیاسی تدبر اور سیاسی حکمت عملی کو اختیار کیا جاتا ہے۔
جب بالخصوص اس ملک میں ہائبرڈ یا کنٹرولڈ نظام کی بات ہورہی ہے تو ایسے میں بات چیت کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ کیسے ہم اس نظام کے دائرہ کار اور ایک دوسرے کے طریقہ کار کو آئینی اور قانونی بنیادوں پر سمجھ سکیں گے۔کیونکہ بنیادی اعتراض یہ اٹھ رہا ہے کہ یہاں ادارے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کررہے ہیں ۔ ریاست کے اداروں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ کوئی ادارہ دوسرے ادارے پر بالادست ہونا چاہتا ہے۔ہمیں مفاہمت اور بات چیت کے ایجنڈے میں بنیادی ضروریات اور لوگوں کی بنیادی شکایات کو مدنظر رکھ کر بھی حکمرانی کے بحران کا حل تلاش کرنا ہوگا۔کیونکہ ایک عمومی تاثر حکمرانی کے نظام کے بارے میں یہ بن گیا ہے اس لڑائی میں عام آدمی کا مفاد بہت کمزور اور اشرافیہ کے مفادات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔
لوگ یہ بھی سوچتے ہیں کہ لڑائی اقتدار کے طاقت ور لوگوں کی ہے اس میں ہمار ا کوئی حصہ نہیں۔اس لیے قومی سیاست میں مفاہمت کی سیاسی بحث کو عام آدمی کے مفادات کے ساتھ جوڑ کر بھی مستقبل کی طرف پیش قدمی کرنا ہوگی۔یاد رکھیں جیسے جیسے اس ملک میں محرومی اور معاشی سطح کی بدحالی یا سماجی انصاف کی عدم فراہمی کو طاقت ملے گی تو ملکی داخلی مسائل میں بہت زیادہ سیاسی اور معاشی انتشار نمایاں طور پر دیکھا جائے گا جو حکومت کے نظام پر مزید سخت ردعمل پیدا کرتا ہے۔مجموعی طورپر پورے حکومتی نظام میں ہمیں اصلاحات کی ضرورت ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہوگی جب ہم قومی سیاست میں مفاہمت اور ایک دوسرے کے سیاسی احترام کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے توہی کوئی درمیانی راستہ نکل سکے گا۔قومی مفاہمت کی سیاست میں جب تک ہم اداروں کو مضبوط اور ادارہ سازی پر توجہ نہیںدیں گے یا پھر ہم اسٹرکچرل اصلاحات پر توجہ نہیں دیں گے کچھ تبدیل نہیں ہوسکے گا۔المیہ یہ ہے کہ حکمرانی کے نظام سے جڑے افراد ادارہ جاتی مضبوطی کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی کی صورت میں ہمیں اداروں کے سامنے عملی طور پر جوابدہ ہونا پڑے گا جس کے لیے وہ تیارنہیں ہیں۔جب ہم بہت چھوٹے چھوٹے ذاتی مفادات کی بنیاد پر بڑے قومی مفادات کو پس پشت چھوڑیں گے تو پھر حالات کیسے تبدیل ہوسکیں گے۔
اس لیے حکمران طبقے کو سوچنا ہوگا کہ جس انداز سے یہ نظام چل رہا ہے اور لوگوں کے بقول اس نظام پر تنقید بھی ہوتی ہے تو حالات کیسے بدلیں گے۔کیونکہ جب ہائبرڈ یا کنٹرولڈ نظام کی بات یا دلیل دی جاتی ہے تو ان کو ایک بڑے فریق کے طور پر لیا جاتا ہے۔اس لیے جب بھی مکالمہ یا بات چیت ہوگی تو ہم حکمران اشرافیہ کے کردار کو کیسے نظرانداز کرسکتے ہیں اور خود جس طرح کی ملکی سطح پر سیاسی اور سلامتی کے حالات ہیں ان کی بہتری کے لیے تمام اداروں کا مل بیٹھنا بھی ضروری ہے۔
اسی طرح سے جب یہ کہا جارہا ہے کہ ملک میںنئے صوبوں کی بحث کو بھی بعض حلقوں کی جانب سے تقویت مل رہی ہے تو ایسے میں سیاسی جماعتوں اور حکمران اشرافیہ کا بیٹھنا اور ایک دوسرے کی بات کو سننا اور متفقہ رائے کی طرف بڑھنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔اس لیے اس وقت جو پاکستان کے موجودہ حالات ہیں وہ ایک ہی نقطہ کابنیادی سطح کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسائل کے حل کا علاج بات چیت اور مفاہمت یا مکالمہ کی صورت میں ہی تلاش کرنا ہوگا اور یہ ہی اس وقت ہماری قومی ترجیحات کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔