حسینہ کا کیا بنے گا؟

16

اس وقت بنگلا دیش اور بھارت کے تعلقات میں زبردست تناؤ پایا جاتا ہے اور یہ روز بہ روز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ وہاں اس کا ہی حکم چلے اور حسینہ کے دور میں اس کا حکم چلتا رہا ہے، البتہ خالدہ ضیا کی حکومت نے بھارتی احکامات سے انحراف کیا تھا، شاید اسی لیے بنگلا دیش میں جتنا طویل حسینہ کا دور رہا اتنا کسی اور کا نہیں رہا۔

بھارت نے صرف پاکستان دشمنی میں مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا دیا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے عوام کے دل پھر بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ شیخ مجیب اور اس کی بیٹی حسینہ کی پوری کوشش تھی کہ وہاں بھارت کی عمل داری قائم ہو مگر عوام نے قبول نہیں کیا۔

بنگلا دیشیوں نے کئی دور دیکھے مگر حسینہ کے دور کے 15 برس کو کبھی بھی نہیں بھلا پائیں گے۔ اس دور میں ان کے ساتھ جو ظلم ہوا ، وہ بھارت کی خوشنودی کے لیے اور پاکستان سے زیادہ سے زیادہ دوری اختیار کرنے کی کوشش تھی، مگر بالآخر عوام نے اس کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اسے اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔

حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد ایک عبوری حکومت تشکیل پائی جس کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس مقرر ہوئے، وہ ایک حقیقت پسند انسان ہیں، وہ پاکستان سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے وقت بھارت کے جارحانہ رویے کے چشم دید گواہ ہیں۔

مشرقی پاکستان کے عوام کو اگر مغربی پاکستان سے شکایت تھی تو آپس میں بیٹھ کر حل کر لیتے مگر بھارت کی پاکستان کو دولخت کرنے کی کارروائی سرا سر دہشت گردی تھی۔ بھارت نے پاکستان دشمنی میں دونوں حصوں کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مزید نفرت بڑھانے کی سازش کی اور بالآخر بین الاقوامی قوانین کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فوج کشی کرکے سقوط مشرقی پاکستان کا سبب بنا۔

شاید وہ پاکستان کو کبھی بھی نہ توڑ پاتا اگر اسے ہمارے ملک سے غدار دستیاب نہ ہوتے۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ کسی ملک کو توڑنا ہو تو اس کے غداروں کو اپنا لو اور اسے پاکستان سے شیخ مجیب مل گیا۔

حسینہ اسی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی ہے، اس نے بنگلا دیش پر مسلسل 15 سال حکومت کی مگر عوام کے دل جیتنے کے بجائے ایسا دکھ پہنچایا کہ وہ اس کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر مجبور ہو گئے مگر جب عوام اس کے خلاف بپھری تو نہ صرف اس کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا بلکہ بھارت بھی مشکل میں پڑ گیا کیونکہ حسینہ کو اپنے مہربان مودی کے دامن میں پناہ لینا پڑی تھی۔

اس وقت بنگلا دیشی فوج غیر جانبدار رہی، ادھر عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس بھارت کے لیے ناپسندیدہ رہے ،کیونکہ وہ بنگلا دیش میں بھارت کی مداخلت کے خلاف تھے۔ حسینہ نے اپنے دور میں بھارت سے مل کر عوام پر کیا کیا ظلم نہ کیے۔

خالدہ ضیا کو بیماری کی حالت میں جیل میں ڈال دیا گیا، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو نہ صرف مختلف پابندیوں میں جکڑ دیا گیا بلکہ اس کے اعلیٰ عہدیداروں کو تختہ دار پر چڑھا دیا، صرف اس لیے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے تھے اور بھارت کو اپنے پر شدید تحفظات تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ حسینہ نے عوام کے بجائے بھارتی خوشنودی کو مقدم رکھا اور بھارتی مفادات کے لیے خود کو اور اپنی حکومت کو وقف کر دیا تھا، طلبا اور عوامی بغاوت کے شعبے میں حسینہ کو بھارت میں پناہ لینا پڑی تھی مگر سوال یہ ہے کہ بھارت نے عوامی غیض و غضب کا شکار حسینہ کو اپنے ہاں جگہ کیوں دی؟ اس سے لگتا ہے کہ اسے بنگلا دیشی عوام سے نہیں حسینہ سے ہمدردی تھی کیونکہ وہ بنگلا دیش میں اس کے ایجنڈے پر عمل کر رہی تھی۔

 عبوری حکومت نے وعدے کے مطابق الیکشن کرائے جس میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی نے میدان مار لیا جب کہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی، عوامی لیگ پر تو پابندی تھی تاہم اس کے حق میں کہیں کوئی مظاہرہ تک نہیں ہوا مگر حسینہ تو کہتی تھی کہ عوامی لیگ تو بنگلا دیشی عوام کے دل کی آواز ہے تو پھر اس کی حمایت میں کوئی کیوں نہیں کھڑا ہوا۔

حسینہ کے بھارت بھاگ جانے کے بعد اور الیکشن میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جیت کے بعد خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان نے اقتدار سنبھال لیا اور وہ اس وقت بھارت کے کسی ڈکٹیشن کو نہیں مان رہے ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے بعد انھوں نے پہلا دورہ ملائیشیا کا کیا اور اس کے بعد وہ چین بھی گئے مگر بھارت نہیں گئے۔

اب بھارت نے انھیں پھر سے مدعو کیا ہے مگر طارق رحمان نے اپنا پرانا موقف دہرایا ہے کہ پہلے بھارت حسینہ کو بنگلا دیش بھیجے کیونکہ اسے یہاں سنگین جرائم میں موت کی سزا بھگتنا ہے۔ حسینہ نے چند دن پہلے دہلی میں ایک نیوز کانفرنس کی ہے جس میں بنگلا دیشی نئی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور دسمبر میں ڈھاکہ جا کر سرنڈر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پریس کانفرنس پر بنگلا دیشی حکومت سخت برہم ہے کیونکہ یہ بھارتی حکومت کے ایما پر کی گئی ہے، ادھر مودی حکومت نے اسے چالاکی سے ایک پرائیویٹ معاملہ قرار دیا ہے جو سراسر آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اس بنگلا دیشی حکومت نے یہ شرط عائد کر دی ہے کہ جب تک حسینہ کو بنگلا دیش کے حوالے نہیں کیا جاتا طارق رحمان کا بھارت کا دورہ ناممکن ہی رہے گا۔

 چند دن بعد نئی دہلی میں برکس کا اجلاس ہونے والا ہے۔ اس میں طارق رحمان کو بطور خاص شرکت کی دعوت دی گئی ہے مگر شاید حسینہ کے معاملے کی وجہ سے وہ اس اجلاس میں شرکت نہ کریں جس سے بھارت کو بہت مایوسی ہوگی۔

لگتا ہے اب بھی مودی بنگلا دیش کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی پالیسی سے دست بردار نہیں ہوا ہے۔ بھارت کی اصل کوشش ہے کہ طارق رحمان پاکستان سے تعلقات نہ بڑھائیں مگر اس وقت عالمی حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ معرکہ سندور میں شکست کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہو گیا ہے، پاکستان کی عزت میں بہت اضافہ ہوا ہے جس سے پاکستان کی فوجی طاقت کو سراہا جا رہا ہے۔

مکہ معاہدہ بھی اسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اب تو کئی دیگر اسلامی ممالک بھی مکہ معاہدہ میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ نے بھی مکہ معاہدے کو سراہا ہے جس سے بھارت کے حوصلے مزید پست ہو گئے ہیں، اب تو لگتا ہے بنگلا دیش بھی مکہ معاہدے کا حصہ بننے میں دلچسپی ظاہر کرے گا اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو وہ یقینا بھارتی بالادستی سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔

اب وہ بھارت کا معاشی طور پر محتاج بھی نہیں ہے کیونکہ چین سے اس کے تعلقات میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب حسینہ کا معاملہ مودی کے گلے میں اٹک گیا ہے کہ وہ اس کا کیا کرے۔ وہ اسے اپنے ہاں مزید پناہ دے یا پھر بنگلا دیشی حکومت کے حوالے کرے کیونکہ وہ حسینہ کے ذریعے بنگلا دیش کو جو بلیک میل کر رہا تھا، وہ اس کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ بنگلا دیشی حکومت سے زیادہ دیر تک اپنے تعلقات خراب رکھنے کا رسک لینا نہیں چاہتا، چنانچہ لگتا ہے وہ حسینہ کو جلد بنگلا دیش کے حوالے کر دے گا، کیونکہ اس کے سوا اس کے پاس اب کوئی اور راستہ نہیں ہے، پھر حسینہ تو اس کے لیے ایک مہرہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی ہے مگر حسینہ کی پھر سے بنگلا دیشی وزیر اعظم بننے کی خوش فہمی کا کیا ہوگا؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }