قادر محمود کے لیئے ’’سیفٹی انفلوئنسر آف دی ایئر‘‘ کا عالمی اعزاز

17

قادر محمود کے لیئے ’’سیفٹی انفلوئنسر آف دی ایئر‘‘ کا عالمی اعزاز

سنگاپور(نیوزڈیسک)::: متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے ماہر قادر محمود نے عالمی سطح پر اہم اعزاز حاصل کرلیا۔ انہیں سنگاپور میں منعقدہ ڈبلیوایس ایچ 2026 میں ’’سیفٹی انفلوئینسر آف دی ائیر‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ قادر محمود رواں سال یہ اعزاز حاصل کرنے والے واحد فرد قرار پائے۔
سنگاپور کے سینڈزایکسپواینڈکنونشن سینٹر میں منعقدہ گالا ڈنر اور ایوارڈز تقریب میں 234 افراد نے شرکت کی، جن میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحت و سلامتی کے ماہرین، صنعتی اداروں کے نمائندے اور کاروباری شعبے کے رہنما شامل تھے۔ تقریب کے دوران صحت و سلامتی، ٹیکنالوجی، ماحولیات اور پائیداری کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈبلیو ایس ایچ ایشیاایوارڈز کے مطابق چھ برس تک آن لائن انعقاد اور 30 سے زائد ممالک کی شرکت کے بعد اس سال ایوارڈز پہلی مرتبہ دو مراحل میں منعقد کیے گئے۔ پہلے مرحلے میں شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کا اعلان براہِ راست آن لائن نشریات کے ذریعے کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں سنگاپور میں بالمشافہ ایوارڈز تقریب منعقد ہوئی۔
صحت و سلامتی، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی پائیداری اور صنعتی اقدامات سے متعلق مختلف کیٹیگریز میں 41 کمپنیوں کو ابتدائی فہرست میں شامل کیا گیا، جن میں سے 21 حتمی مرحلے تک پہنچیں۔ انفرادی اعزازات میں ’’ویژنری لیڈر‘‘ کے لیے 10 جبکہ ’’آوٹ سٹینڈنگ سیفٹی پریکٹیشنرز‘‘ کے لیے 20 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ ان میں بالترتیب 6 اور 10 امیدوار فائنلسٹ بنے، جبکہ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے بھی دو امیدوار حتمی مرحلے میں شامل تھے۔
مجموعی طور پر 10 افراد کو آوٹ سٹینڈنگ سیفٹی پریکٹیشنرزایوارڈ سے نوازا گیا، تاہم سیفٹی انفلوئینسرآف دی ائیر کا اعزاز صرف قادر محمود کے حصے میں آیا۔ امیدواروں کی کارکردگی کا جائزہ ایشیا بحرالکاہل کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صنعتی ماہرین پر مشتمل پینل نے لیا۔
اعزاز حاصل کرنے کے بعد قادر محمود نے کہا کہ یہ ایوارڈ ان کے لیے باعثِ فخر ہے اور یہ صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ان تمام سیفٹی پروفیشنلز کی کامیابی ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ اور کام کی جگہوں پر مضبوط حفاظتی کلچر کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عالمی اعزاز خطے میں پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ماہرین کو بھی بامقصد قیادت اور محفوظ کام کے ماحول کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب دے گا
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }