حکومت کا لوڈ منیجمنٹ کے ذریعے صارفین کو اضافی بوجھ سے بچانے کا دعویٰ

11

پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ مؤثر اقدامات کے ذریعے ستمبر کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو 5 سے 6 روپے فی یونٹ سے کم کرکے صرف 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک محدود کر دیا ہے، جس سے صارفین کو 3 روپے 44 پیسے فی یونٹ کے اضافی بوجھ سے بچا لیا گیا ہے۔

پاور ڈویژن سے جاری اعلامیے کے مطابق ستمبر میں بجلی صارفین کو بھاری فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ممکنہ بوجھ سے بچانے کے لیے دو سے اڑھائی گھنٹے کی محدود لوڈ مینجمنٹ کی گئی جبکہ مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیداوار کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھی ہدفی لوڈ مینجمنٹ کو یقینی بنایا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ مہنگے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی پیداوار کی صورت میں ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی تھی، بجلی پیداوار کے لیے درآمدی ایل این جی کو مقامی گیس کے نرخوں پر فراہم کرکے بجلی صارفین پر 83 پیسے فی یونٹ کا بوجھ کم کیا گیا۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اگست کے مقابلے اب صرف ایک روپے 45 پیسے فی یونٹ زائد رہنے کا امکان ہے جبکہ اس کا ممکنہ بوجھ 32 ارب 70 کروڑ روپے تک رہنے کا امکان ہے۔

مزید بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر گئی، تاہم بجلی کے بنیادی ٹیرف کے تعین کے وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کا تخمینہ تقریباً 70 ڈالر فی بیرل لگایا گیا تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاور سیکٹر کو نظام کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے آر ایل این جی درکار رہے گی اور آر ایل این جی کی مزید کمی کی صورت میں بجلی کی پیداوار کے لیے مہنگے فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }