ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی رپورٹس نے ہماری کارکردگی کا پول کھول دیا، اس وقت پاکستان میں 48 فیصد افراد غریب ہیں جن کی آمدن فی کس 3 ڈالر روزانہ سے بھی کم ہے، ہم روایتی طریقوں سے غربت کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں جو ممکن نہیں ہے، ہماری ترقی کی رفتار کم اور پیداواری لاگت زیادہ ہے لہٰذا معاشی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔
پالیسی سازوں کو سمجھنا چاہیے کہ غربت کا خاتمہ محض مالی امداد سے ممکن نہیں، اس کے لیے معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار کے مواقع، منصفانہ ٹیکس نظام اور بنیادی سہولتوں تک یکساں رسائی سمیت دیگر اصلاحات کرنا ہونگی۔ معاشی ناہمواری، ادارہ جاتی کمزوریاں، موسمیاتی آفات اور پیداواری لاگت میں اضافہ غربت کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
پائیدار حل کے لیے ریاست، صنعت، سول سوسائٹی اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین معاشیات، بزنس کمیونٹی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ’’غربت کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔
فورم کی معاونت کے فرائض احسن کامرے نے سرانجام دیے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ غربت کو صرف آمدن کی کمی تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، اس کے تاریخی، سیاسی، سماجی، ادارہ جاتی اور ماحولیاتی پہلو بھی ہیں لہٰذا آمدن کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، رہائش، صاف پانی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سابق ریجنل چیئرمین ڈاکٹر محمد ارشد نے کہا کہ غربت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے روایتی تعلیمی اور معاشی تصورات پر نظرثانی کرنا ہوگی،نوجوانوں کو صرف ڈگریوں کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے ایسی عملی مہارتیں سکھانا ضروری ہے جو انہیں روزگار حاصل کرنے اور بدلتی ہوئی معیشت میں اپنی جگہ بنانے کے قابل بنائیں۔
نمائندہ سول سوسائٹی شاہنواز خان نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 2015ء میں پائیدار ترقی کے 17 اہداف مقرر کیے تھے، جن میں غربت کا خاتمہ پہلا ہدف ہے،پاکستان سمیت دیگر ممالک نے2030ء تک ان اہداف کو حاصل کرنا ہے۔