چوہدری حمزہ نواز ریحانیہ کی شادی خانہ آبادی

ضلع گجرات کی سال 2025/2026 کی بڑی شادی

8

چوہدری نوازرشیدریحانیہ کے صاحبزادے اورچوہدری شہبازرشیدریحانیہ کے بھتیجے چوہدری حمزہ نوازریحانیہ کی شادی خانہ آبادی کی گرینڈ تقریب۔

سال 2025/2026میں ہونے والی شادیوں میں سب سے بڑی تقریب 

ٹانڈہ ضلع گجرات میں منعقد ہونے والی شادی کوضلع کی بڑی شادی قرار دیا جا رہا ہے۔

شادی کی تقریبات ایک ماہ سے زیادہ جاری رہیں

گجرات (اردوویکلی)::شادیوں کو دو دلوں کا ملن اور محبت کا جشن قرار دیا جاتا ہے اورچند لوگوں کے لیے یہ   شان و شوکت کا مظاہرہ کے لیے موقع بھی ثابت ہوتی ہیں۔
حمزہ نوازریحانیہ ٹانڈہ کی ممتازسماجی وکاروباری شخصیت چوہدری نوازرشیدریحانیہ کے بڑے صاحبزادے  ہیں جبکہ ان کی دلہن انکے سگے چچا اورعلاقہ کی معروف سیاسی وسماجی شخصیت چوہدری شہبازرشیدریحانیہ کی بیٹی ہیں۔ حمزہ اورہاجرہ کے ملن نے دوبھائیوں اور۲ ممتاز خاندانوں کو اکٹھا کیا ہے، ان کی شادی کی دھوم نہ صرف اپنے ایریا بلکہ پورے ضلع گجرات بھر میں مچی ہوئی ہے۔  یہ ضلع گجرات کی  تاریخ کی مہنگی ترین شادیوں میں سے ایک ہے،۔
حاجی چوہدری محمد رشید ریحانیہ (مرحوم)کے پوتے،چوہدری نوازرشیدریحانیہ کے صاحبزادے اورچوہدری شہبازرشیدریحانیہ کے بھتیجے چوہدری حمزہ نوازریحانیہ کی شادی خانہ آبادی کی گرینڈ تقریباب ریحانیہ پیلس ٹانڈہ،جابرفارم ہاوس ٹانڈہ دونوں مقامات پرمنعقدکی گئیں
پورامہینہ پورے رنگ ونوراور آب وتاب سےجاری رہنے والی اس شادی کی تقریبات میں پری ویڈنگ پارٹیز، روایتی مہندی اورڈھولک ، موجودہ دورکے فیمس پنجابی شاعر وٹک ٹاکر میسم کھوکھر اورمعروف سنگرعارف لوہارکی اپنے بیٹوں سمیت جابرفارم ہاؤس پرشاندارپرفارمنس ،بارات میں دولہاکے لیئے  دنیا کی قیمتی گاڑی رولزرائس جبکہ باراتیوں کے لیئے بھی رینج روورز،لینڈکروزرجیسی گاڑیوں کی ایک وسیع رینج کاانتظام کیاگیاتھا۔
اس شادی میں شامل ہونے والے مہمانوں کی فہرست میں عمائدین ضلع بشمول بزنس ٹائیکونز، مشہورومعروف سماجی شخصیات، سیاست دان،اتحاد گروپ،پنجاب گروپ یواے ای ،یواے ای اور دیگرممالک سے اوورسیزپاکستانیوں سمیت مختلف صنعتوں کی بااثر شخصیات  شامل تھیں۔ جوچوہدری نوازرشیدریحانیہ اورچوہدری شہبازرشیدریحانیہ کی ممتازسماجی وسیاسی حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔
ریحانیہ پیلس ٹانڈہ میں منعقد ہونے والی یہ شادی ضلع گجرات کی تاریخ کی مہنگی ترین شادیوں میں سے ایک تھی اس شادی کی خاص بات اس میں ثقافتی ورثے کی نمائش بھی کی گئی جس میں گھوڑں کی نمائش ،روائیتی بگھی اورروائیتی وثقافتی ملبوسات بھی پہناوے میں استعمال کیئے گئے جس نے شادی کی خوبصورتی کومزیدچاندلگادیئے  ۔

شادی تقریبات میں پنجاب گروپ یواے ای کے ہردلعزیزممبر اورچوہدری نوازرشیدریحانیہ کے قریبی دوست انجینئیر چوہدری شیربہادرشاپ پورفرزند ارجنمدچوہدری لیاقت علی آف شاہ پورکی جانب سے مہندی کی ایک گرینڈ تقریب منعقد کی گئی

تقریب میں دولہا،دلہن اورمہمانوں نے خوبصورت روایتی لباس زیب تن کیے،شادی کے مقامات کوتازہ پھولوں، جگمگاتی روشنیوں اور شاندار سجاوٹ سے مزین کیا گیا تھا جس سے تقریبات میں ایک جادوئی ماحول پیدا ھوا۔

 ہائی پروفائل پرفارمنس اور مہمانوں کی وسیع مہمان نوازی شامل تھی۔

 شاندار تقریبات اور سیکیورٹی کا اہتمام کیا گیا تھا ، اس شادی کومقامی میڈیا نے وسیع پیمانے پر کوریج دی تھی۔

 

 ۔

بابا جان کی شادی میں ان کے آبائی علاقے میں ایک ماہ تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہنے والی تقریبات میں شدید سردی اور یخ بستہ ہواؤں کے باوجود گلگت بلتستان اور ملک کے چاروں صوبوں و آذاد کشمیر سے کئی ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

شادی کی تقریب میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین توقیر گیلانی سمیت متعدد اہم شخصیات بھی شامل ہوئیں۔

یہ اس لحاظ سے بھی منفرد اور پہلی شادی تھی کہ جس میں ہر خاص و عام شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور شادی پر ہونے والے تمام کے تمام اخراجات عوامی ورکرز پارٹی کے ان کارکنوں نے مشترکہ طور پر اٹھائے جنہوں نے بابا جان کی قید کے دوران ان کی رہائی کے لیے طویل جدوجہد کی۔

شادی میں 24 گھنٹے لنگر جاری رہا اور تمام مہمانوں کی پرتکلف اور لذیذ کھانوں سے تواضع کی گئی۔

شادی میں مہمانوں کے اعزاز میں لگاتار 4 روز تک ثقافتی شو کا بھی اہتمام کیا گیاجس میں پہلی بار کسی شادی میں میوزیشنز کے 8 مختلف گروپوں نے ایک ساتھ مقامی دھنوں کا ایسا سماں باندھا کہ خود دولہا کے علاوہ تقریب میں موجود ہر علاقے اور ہر عمر کے لوگوں نے باری باری ٹولیوں کی شکل میں خوبصورت علاقائی ناچ پیش کرکے لوگوں کو خوب محضوظ اور شادی کی خوشیوں کو دوبالا کیا۔

یوں خواتین سمیت لوگوں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت اور بے پناہ رش کے باوجود عمدہ انتظامات اور مثالی مہمان نوازی کے اعتبار سے بلاشبہ گلگت بلتستان کی تاریخ کی سب سے بڑی شادی بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

…………………………………………………………………………………………

بھارت کی تاریخ کی ایک اور مہنگی شادی

بارات کی آمد پر ملکی و غیر ملکی کرنسی نوٹ نچھاورکیےگئے۔

شادی ہال میں ایک ہزار، 500 اور 100 روپے کے نوٹوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کرنسی بھی اڑائی گئی جسے دیکھ کر بچوں اور شرکا نے دل کھول کر نوٹ لوٹے اور خوب ہلہ گلہ کیا۔

……………………….

 پاکستانیوں کی اکثریت کے لئے شادی کے اخراجات انتہائی کمر توڑ ثابت ہو سکتے ہیں لہٰذا کوشش کی جاتی ہے کہ شادی کا فنکشن مختصر ہی رکھا جائے، مگر اسی ملک کے ایک انتہائی مالدار جوڑے کی شاہانہ شادی کی تقریبات شروع ہوئیں تو کئی مہینوں تک پھیل گئیں، حتٰی کہ یہ شادی ملکی تاریخ کی طویل ترین شادی قرار پا گئی۔
اس شادی کی تقریبات طویل ترین ہی نہیں تھیں بلکہ ان میں شان و شوکت اور آرائش و زیبائش کا بھی ایسا اہتمام تھا کہ جس کا تصور صرف بالی ووڈ کی فلموں میں ہی نظر آتا ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }