لاہور پولیس حملے کی تفتیش میں اہم پیشرفت، دہشتگردوں سے رابطے کے سلسلے میں 2 اہلکار زیر حراست

28

لاہور پولیس پر ٹارگٹڈ حملے سے متعلق  تحقیقات جاری  ہیں جب کہ 2 پولیس اہلکاروں کو دہشتگردوں سے رابطے کے سلسلے میں حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس زرائع نے کہا کہ  اے ایس آئی جمشید۔ کانسٹیبل غلام فرید کو حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس ذرائع  نے کہا کہ اے ایس آئی اور دہشتگرد ریحان بٹ کی سوشل۔میدیا پر اکھٹی تصاویر موجود ہیں، تھانہ لوٹرمال میں تعینات پولیس کانسٹیبل کو بھی حراست میں لیا گیا۔

پولیس ذرائع  نے کہا کہ دونوں پولیس اہلکاروں کا حملے میں ملوث دہشتگرد سے رابطہ تھا، دونوں پولیس اہلکاروں کو ابتدائی تحقیقات کے بعد حراست میں لیا گیا، پولیس نے کہا کہ دونوں اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے۔

دوسری جانب بادامی باغ اور نواں کوٹ میں پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے ملزمان کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی۔

تینوں ملزمان کو اسلحہ لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، ملزمان کی شناخت ریحان بٹ، فیاض بٹ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ ایک نامعلوم دہشت گرد بھی شامل ہے۔

ادھر 3 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے تیسرے ملزم کی شناخت ہوگئی۔

پولیس ذرائع نے کہا کہ ریحان بٹ کے ساتھ32سالہ طارق نامی شخص کا تعلق باغ کشمیر سے ہے، طارق پر تھانہ راوی روڈ سے 13/20/65کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج ہے، طارق کا ڈیٹا ہوٹل آئی سے لیا گیا جبکہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ریحان بٹ کے گھر رہائش پزیر تھا۔

۔پولیس ذرائع کے مطابق طارق کا رابطہ ریحان کے ساتھ تھا اور ملاقاتیں بھی کیں، ریحان بٹ اور اسکا والد فیاض بٹ پولیس مقابلے میں شیخوپورہ میں مارے گئے ہیں،  طارق راوی  نالے پر جاکر ریحان اور اسکے باپ سےعلیحدہ ہوگیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طارق کی گرفتاری کے لئے پولیس کی جانب سےتلاش جاری ہے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }