آزادی کا سفر – ایکسپریس اردو

16

سال ہے 1542، ملک ہے مصر اور مشہور سیاح ناصر خسرو اس ملک کے بارے میں لکھتا ہے۔

’’خلیفہ کا محل تیس ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل تھا، جن میں سے بارہ ہزار ملازم تھے اور حفاظتی دستہ ایک ہزار پیاؤ اور گھڑ سواروں پر مشتمل تھا۔ صرف دارالخلافہ میں حکومت کی طرف سے بیس ہزار مکانات تعمیر شدہ تھے جو پختہ تھے اور اکثر پانچ یا چھ منزلہ تھے۔

اتنی ہی ان کے ساتھ دکانیں تھیں جو عام لوگوں کو کرایہ پر مہیا کی جاتی تھیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں روشنی کا خاص انتظام تھا۔ دکان دار مقررہ قیمتوں پر اشیا فروخت کرتے تھے، اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اونٹ پر بٹھا کر تشہیر کی جاتی تھی۔

امانت و دیانت کا یہ عالم تھا کہ صراف اور ساہوکار بھی اپنی دکانیں بغیر قفل لگائے چھوڑ جاتے تھے، مگر کسی کی مجال نہ تھی کہ کوئی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔‘‘

ہماری تاریخ جنگ و جدل اور قتل و خونریزی سے بھری ہے تو وہیں ایسے ایسے حکمران نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی رعایا کے لیے مثالیں قائم کیں اور وہ آگے تک چلتے رہے، پھر سیاست، مخالفت، بغاوتیں سر اٹھاتیں اور قافلے لٹ جاتے، حکمران قتل کر دیے گئے یا فرار ہو کر کسی دور مقام پر چلے گئے پھر دوبارہ اپنا قافلہ ترتیب دیتے اور پھر اپنے وطن کو بددیانتوں سے چھڑانے چل پڑتے، لیکن سلسلہ رکا نہیں اور چلتا رہا۔

یہاں تک کہ تقسیم ہند کا فیصلہ جہاں خوشیاں لے کر اترا کہ اب انگریز سرکار سے نجات ملے گی اور اپنی دھرتی اپنا آسمان ہوگا۔

اپنا آسمان بھی رب العزت نے چودہ اگست کے مبارک دن 1947 کے یادگار برس کو عطا کر دیا لیکن مخالفت، بغاوتیں، سازشیں اور ناکام سیاستیں نہ چھوٹیں۔ ہم ان تمام تاریک پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کر سکتے کہ آج حال میں کھڑے پیچھے دیکھتے تو اس نسل کو کٹھنائیاں نظر آتی ہیں اور آگے کا سفر ابھی تک دشوار گزار محسوس ہو رہا ہے۔ وہ ہمواریت، مضبوطی، توانائی اور قومی یک جہتی نظر نہیں آ رہی، شاید دھند میں کہیں گم ہے۔

ہم ہر سال اگست کی چودہ تاریخ کو بڑی شان سے باجے، گانے اور شادیانے بجا کر مناتے ہیں اور دوسرے ہی دن ہری جھنڈیاں ہوا میں اِدھر اُدھر سڑکوں، گلیوں میں ڈولتی پھرتی ہیں۔ چودہ اگست اب ایک فیسٹیول ہو گیا ہے۔

اوپر اوپر کا چمکتا، نکھرا سال کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں اور اندر اترتے جائیں تو تاریکیاں اتنی کہ آنکھیں راستہ ہی نہ دیکھ پائیں۔ یہ شاعرانہ تخیل نہیں ہے بلکہ ہمارے روشنیوں کے شہر کراچی کا حال ہے۔ پوش علاقے اور خاص علاقے پھر بھی تاریکیوں اور اونچے نیچے گڑھوں سے محفوظ ہیں، میرا پاکستان تو سب کے لیے بنا ہے۔ کیا امیر، کیا غریب سب نے ہی اپنے اپنے حصے کی قربانی کا حق ادا کیا ہے اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

ہم زود رنج نہیں بلکہ امید بہار رکھنے والے خوش آئند لوگ ہیں جو تاریکیوں میں بھی راستہ سمجھا کر چلنا جانتے ہیں کہ یہ ہماری قوم کا مزاج ہے۔ 

’’آپ کراچی سے سوات جائیں تو پتا ہے کہ آپ کو ایک چھولے کی پلیٹ کتنے کی ملے گی، ذرا اندازہ لگائیں۔‘‘

ابھی اندازے غوطہ زن تھے کہ وہ بولے۔
’’پانچ سو روپے کی۔۔۔۔ اس لیے کہ آپ کراچی سے سوات گئے ہیں۔‘‘
’’پانچ سو روپے۔۔۔۔!‘‘ ظاہر سی بات ہے حیرانگی حد سے تھی۔

’’جی جناب، جب کہ کراچی میں آپ کو یہ چھولے کی پلیٹ 80 روپے کی ملتی ہے۔ اب یہ ایک ٹیکس ہے ناں جو کراچی والے باہر جا کر ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ لاہور جائیں، بدقسمتی سے کوئی بے ایمان رکشہ والا ٹکر جائے تو وہ اجنبی جان کر آپ کو ایک کلو میٹر کے فاصلے تک پہنچانے کے لیے پتا نہیں کہاں کہاں سے گھما کر وہی بسوں کے اڈے پر پہنچا دیتا ہے جب کہ وہ اسٹیشن سے کتنے فاصلے پر ہے؟ صرف اس لیے کہ ہم اجنبی ہیں۔بالکل ایسا ہی تو ہمارے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔‘‘

’’اب کراچی میں جو لوگ دوسرے علاقوں، پتا نہیں کدھر کدھر سے آتے ہیں اور کنڈیکٹر وہی 80 روپے کرایہ وصولتا ہے جو دوسرے مسافروں سے لیتا ہے، نہ وہ پوچھتا ہے کہ بھائی تم کدھر سے آئے اور نہ ہی زائد کرایہ وصولتا ہے ، تو یہ دھوکا دہی اپنانے والوں کو آخر پرابلم کیا ہے؟ یہ تو پتا چلے ناں؟‘‘

ان کے کئی شکوے شکایات میں ایک یہ بھی اہم شکایت تھی، گو ان کا تعلق تو پنجاب سے ہے لیکن پلے بڑھے اور تعلیمی مدارج سب کراچی سے مکمل کیے لہٰذا ان پر بھی کراچی والے کا ٹیگ لگ چکا ہے ۔

ابھی کچھ دنوں پہلے ایک خبر سنی جو خاص توجہ طلب تھی۔

’’سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، صوبے بھر کی متروکہ املاک کا کنٹرول سنبھالنے کا اعلان، متروکہ املاک کے لیے تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کو ایڈمنسٹریز مقرر کرنے کا فیصلہ۔ سندھ کابینہ نے متروکہ املاک کے کنٹرول کی منظوری دے دی۔‘‘

یہ خبر ہے اگست 2026 کی جب کہ اگست 2021 میں ایک اسی طرح کی خبر ملاحظہ ہو۔ 
’’سندھ حکومت نے صوبے کی متروکہ املاک وفاقی حکومت کو دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔‘‘

’’سندھ میں 1965 اور 1971 میں چھوڑی گئی متروکہ املاک پر صرف سندھ کے عوام کا حق ہے۔‘‘

یہ خبر دل خوش کر رہی ہے دوستوں کہ ہم خوش فہم ہیں، ہماری جائیداد ملنے والی ہے۔ اس سرزمین پر اب سب اچھا ہی ہوگا۔ نہ پانی کے ٹینکرز دھول اڑاتی سڑکوں پر ناچیں گے اور نہ بجلی گیس کے بلوں کے بوجھ کی صدائیں ابھریں گی۔

اعلان تو ہو چکا ہے۔ ابھی پڑوسی ملک کے کسی عام آدمی پارٹی کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے بجلی کا بل معاف کر دیا تھا، لیکن ہم کیا جانیں۔ سنا ہے کوئی فلمی اداکار بڑا وزیر بن کر ریپ کرنے والے ملزم کو پھانسی پر چڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہمیں کیا خبر۔

ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ ہمیں اب آرام سے یہ سوچنا ہے کہ جب صبح اٹھ کر سیاہ چمچماتی سڑک پر کھڑے ہو کر صاف ستھری نکھری بس کا انتظار کریں گے جس میں مسافروں کے لیے صرف بیٹھنے کی جگہ ہوگی کیونکہ بسیں اتنی تعداد میں ہوں گی کہ اب کھڑا ہونے کی گنجائش نہ ہوگی جس میں کوئی ٹکٹ لینے نہیں آئے گا۔

بغیر اچھلے کودے، ہم اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ خواب ابھی ادھورا ہے کہ آگے کا سفر ابھی جاری ہے۔ سب کو آزادی کا یہ خوب صورت مہینہ مبارک ہو کہ نجانے کیوں اس مہینے ایسے خواب بہت ستاتے ہیں۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }