عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، حکومت کی مخالفت

18

اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین عام قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی اور بیرون ملک فیملی سے ٹیلی فونک گفتگو کروانے کے کیس میں درخواست گزاروں کے وکلاء، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

دوران سماعت، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے تین قیدیوں کو پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی درخواستوں کی مخالفت کر دی۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے میڈیکل رپورٹ عدالت کے سامنے پڑھی۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیے کہ انگریز نے جو مینوئل بنائے ہیں ہم اسی پر عمل کر رہے ہیں، اب ہم پنجاب میں قانون میں تبدیلی کر رہے ہیں، انڈین پینل کوڈ اور ہمارے قانون میں انڈیا پاکستان کا ہی فرق ہے۔

جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی قیدی کو بیماری لاحق ہو جائے تو کیا کریں گے، قیدی کی بیماری سے آپ نہیں کھیل سکتے۔

ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بولنے دیں، تھوڑا بہت ہیومن رائٹس کا قانون پڑھا ہوا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے تین قیدیوں کو پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی درخواستوں کی مخالفت کر دی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی کہے میرا یہاں کوئی نہیں تو پھر بھی اس کی بیرون ملک ٹیلی فونک بات نہیں کرائیں گے؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ جو قانون میں لکھا ہے اس پر عمل کریں گے، چاہے غلط ہے یا صحیح۔

جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کہاں لکھا ہے فیملی سے بات نہیں کروا سکتا بے شک وہ بیرون ملک ہی نا ہو۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دلائل دیے کہ قانون میں لکھا ہے جو پاکستان میں ہے اس کی ٹیلی فونک بات کروائیں گے، اگر خدا نخواستہ ایسی بیماری ہو کہ علاج سرکاری اسپتال میں نہیں ہو سکتا تو پھر اسی وقت دیکھا جائے گا۔

جسٹس محمد آصف نے سوالات اٹھائے کہ اگر کسی قیدی کے لیے چاہتے ہوں کہ کراچی سے کوئی ڈاکٹر آجائے تو پھر کیا ہوگا؟ اگر کوئی قیدی آخری اسٹیج پر ہو اور مرنے والا ہو تو کیا قانون کو دیکھیں گے؟ اگر کوئی سزائے موت کا قیدی آخری خواہش کا اظہار کر دے تو پھر کیا ہوگا؟

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد دلائل

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے بھی قیدیوں کو پرائیویٹ اسپتال میں منتقلی کی درخواستوں کی مخالفت کر دی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا یہ موقف نہیں کہ کسی قیدی کا علاج نہیں ہونا چاہیے، یہ تسلیم شدہ ہے کہ اگر کوئی جیل میں ہے تو اس کے بھی حقوق ہیں۔ آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت، آرٹیکل 14 تحفظ اور آرٹیکل 25 برابری کی ذمہ داری دیتا ہے۔ جیل رولز میں پورا سسٹم دیا گیا اگر کوئی قیدی بیمار ہوگا تو اس کا مکمل علاج ہوگا سے متعلق رولز چیپٹر 32 دیا گیا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیے کہ میڈیکل آفیسر چیک کرتے ہیں اور اس کے حوالے سے سفارشات دیتے ہیں، ابھی بھی میڈیکل آفیسر کی رائے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کی رپورٹ میں موجود ہے، درخواست گزار نے خواہشات کی بات کی لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔

اپنے دلائل میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک نے کہا کہ بہترین میڈیکل آفیسر پمز کے ہیں اور یہ ملک کا اعلیٰ اسپتال ہے، نا ہی سپرنٹنڈنٹ اور نا ہی میڈیکل آفیسر کی کوئی رپورٹ ہے کہ قیدیوں کا علاج پمز میں ممکن نہیں۔

جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ پمز اسپتال کی حالت آپ دیکھ لیں اس کی کیا حالت ہو چکی ہے۔ جسٹس محمد آصف نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ دو افسران کو پمز کا وزٹ کرنا چاہیے۔

تین قیدیوں کی بانی کی طرح پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی درخواست پر سماعت کے دوران اس وقت غیر معمولی صورتحال پیش آئی جب ایک باوردی اہلکار کمرہ عدالت پہنچ گیا۔

جسٹس محمد آصف نے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ کس کیس میں آئے ہیں؟ اہلکار نے جواب دیا کہ ایک قیدی کے کیس میں متاثرہ فریق ہوں، متفرق درخواست کے ذریعے فریق بننا ہے۔ عدالت نے اہلکار کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے وکلاء، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }