کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں کیمپنگ کے لیے جگہ تلاش کرنے والے ایک شوقیہ ماہرِ فلکیات نے اتفاقاً ایک قدیم اور وسیع خلائی تصادم سے بننے والا گڑھا دریافت کر لیا۔
بعد ازاں سائنس دانوں کو وہاں شَیٹر کونز بھی ملے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ تقریباً 25 کلومیٹر چوڑا یہ گڑھا تقریباً 39 کروڑ سال قبل ایک زبردست خلائی تصادم کے نتیجے میں زمین پر بنا تھا۔
زمین پر اب تک تقریباً 200 خلائی تصادم کے گڑھے باقاعدہ طور پر دریافت اور تصدیق کیے جا چکے ہیں لیکن ماہرینِ ارضیات کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں ایسے سیکڑوں مزید گڑھے موجود ہو سکتے ہیں جن کی ابھی شناخت نہیں ہو سکی۔
نئی ممکنہ دریافت کی ابتدا 2024 میں ہوئی، جب شوقیہ ماہرِ فلکیات جوئل لاپوائنٹ کیوبیک کے دور دراز علاقے Côte-Nord میں کیمپنگ کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے۔ آن لائن سیٹلائٹ تصاویر دیکھتے ہوئے ان کی نظر مارسل جھیل کے قریب ایک تقریباً گول شکل کی ساخت پر پڑی۔
لاپوائنٹ کو شبہ ہوا کہ زمین پر موجود یہ گہرا نشان شاید کسی شہابیے یا دوسرے خلائی جسم کے ٹکرانے سے بنا ہو۔ انہوں نے اس امکان کے بارے میں یورپ اور شمالی امریکا کے ماہرین سے رابطہ کیا۔
ان کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات نے فرانسیسی محققین کی ایک ٹیم کی توجہ بھی اس علاقے کی جانب مبذول کرائی۔ 2024 میں میٹیوریٹیکل سوسائٹی کے ایک اجلاس میں محققین نے جھیل کے علاقے کو کیوبیک میں ممکنہ طور پر دریافت ہونے والے 11 ویں معروف امپیکٹ اسٹرکچر کا مرکز قرار دینے پر غور کیا۔
یہ معاملہ بعد میں گورڈن اوسنسکی تک پہنچا جو ویسٹرن یونیورسٹی سے وابستہ سیاروی ماہرِ ارضیات ہیں اور امپیکٹ ارتھ ڈیٹا بیس کی نگرانی بھی کرتے ہیں۔
اوسنسکی ابتدا میں اس امکان کے بارے میں زیادہ پُرامید نہیں تھے لیکن یہ دریافت اتنی دلچسپ تھی کہ انہوں نے اس دور دراز اور تقریباً غیر آباد علاقے کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقی مہم کا انتظام کیا۔
چنانچہ اکتوبر 2025 میں ماہرین کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا سفر کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں نظر آنے والی گول ساخت واقعی کسی قدیم خلائی تصادم کی باقیات ہے یا محض قدرتی جغرافیائی تشکیل۔