پی ٹی اے نے ٹیلی کام انضمام کی منظوری کسی بھی وقت کھولنے کا اختیار مانگ لیا

15

اسلام آباد:

پی ٹی اے نے ٹیلی کام انضمام کی منظوری کسی بھی وقت کھولنے کا اختیار مانگ لیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ٹیلی کام انضمام اور دیگر ٹرانزیکشنز کی منظوری پر نظرثانی کی ایک سالہ حد ختم کرکے مارکیٹ حالات بدلنے یا نئے خدشات سامنے آنے پر کسی بھی وقت منظوری دوبارہ زیر غور لانے کا اختیار مانگ لیا ہے۔

وزارت آئی ٹی نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپٹیشن رولز 2026 کا مسودہ تیار کیا ہے، جس میں کسی ٹرانزیکشن کی منظوری پر ایک سال کے اندر نظرثانی کی اجازت دی گئی ہے۔ مسودے کے تحت پی ٹی اے کسی منظوری پر نظرثانی، اس میں ترمیم یا اسے واپس لے سکے گا، تاہم پی ٹی اے نے نظرثانی کے لیے مقرر ایک سال کی پابندی ختم کرنے کے لیے نئی عبارت تجویز کردی ہے۔

پی ٹی اے کی تجویز کے مطابق ضرورت کے تحت کسی بھی وقت منظوری پر دوبارہ غور کیا جاسکے گا۔ مجوزہ ترمیم منظور ہونے کی صورت میں ٹیلی کام ٹرانزیکشنز کی منظوری پر نظرثانی کی مدت غیر محدود ہوجائے گی۔

مجوزہ مسابقتی قوانین 2026 میں پی ٹی اے نے اپنے اختیارات میں غیر معمولی اضافے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت نئے حقائق یا ریگولیٹری خدشات سامنے آنے پر پہلے دی گئی منظوری بھی دوبارہ کھولی جاسکے گی۔

نئے قواعد کے تحت ٹیلی کام انضمام، خریداری اور مشترکہ منصوبے پی ٹی اے کے جائزے میں آسکیں گے۔ کمپنی کا کنٹرول منتقل کرنے اور اسپیکٹرم یکجا کرنے کے معاملات بھی ریگولیٹری جائزے کے دائرے میں آئیں گے۔

مسابقت، مارکیٹ ارتکاز اور صارفین کے مفادات کو متاثر کرنے والی ٹرانزیکشنز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ پی ٹی اے کسی ٹیلی کام ٹرانزیکشن کے لیے این او سی جاری کرنے کے ساتھ مخصوص شرائط بھی عائد کرسکے گا۔

مجوزہ قواعد کے تحت پی ٹی اے کو کمپنیوں پر انتظامی اور عملی حفاظتی شرائط عائد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }