اپوزیشن نے سہیل آفریدی اور دیگر کی مبینہ حراست کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا دیا

19

اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں سہیل آفریدی کی مبینہ حراست کا معاملہ اٹھاتے ہوئے تحریک التوا اسپیکر کو جمع کروادی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اپوزیشن کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے تحریک التوااسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروا ئی جس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی کی مبینہ حراست پر بحث کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔

تحریک التوا میں چھ ارکان قومی اسمبلی امجد علی خان، جنید اکبر، فضل محمد خان، زبیر خان، حاجی امتیاز احمد چوہدری اور نسیم علی شاہ کی حراست پر بھی بھث کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندوں کی مبینہ حراست جمہوری اداروں کے امور اور عوامی نمائندگی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتی ہے، منتخب نمائندوں کے آئینی حقوق اور پارلیمانی استحقاق کے تحفظ کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے۔

اپوزیشن نے مبینہ حراستوں کے حالات و واقعات پر ایوان میں فوری بحث کا مطالبہ بھی کیا اور معاملے پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی درخواست کی۔

ملک محمد عامر ڈوگر نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے رول 109 اور 110 کے تحت تحریک التوا اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروادی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے ارکان کی عدم موجودگی، پروڈکشن آرڈرز اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو تنگ کرنے کا کوئی شوق نہیں، آپ نے ایک صوبے کی حکومت ختم کردی، اب بتایا جائے کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ اور ہمارے ارکان اسمبلی کہاں غائب ہیں؟ سہیل آفریدی سمیت دیگر لوگ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حذب اختلاف محمود اچکزئی نے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر دعویٰ کیا کہ جنید اکبر، نسیم شاہ، عادل بازئی اور عزیر خان سمیت متعدد ارکان قومی اسمبلی میں موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی رکن نے بدترین جرم بھی کیا ہو تو اس کے پروڈکشن آرڈرز حاصل کرنا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ارکان کو اس ایوان میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں ایوان میں بولنے کا موقع دیا جائے۔ اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا کہ ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے، صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں کہی گئی بات پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر ارکان کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا جائے گا تو پارلیمان کا مقصد کیا رہ جائے گا؟ محمود اچکزئی نے تاریخی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 600 سال پہلے ایک بادشاہ کو پانچ ارکان کی ضرورت تھی تو اسپیکر نے اس کی درخواست کا احترام کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج اپنے ارکان کی موجودگی اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انہیں کیوں نہیں سنا جا رہا؟

انہوں نے مزید کہا کہ آپ جو قانون بنانا چاہتے ہیں بنائیں، لیکن اس کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔ محمود اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں موجود ثناء اللہ مستی خیل اور کنڈی سمیت دیگر ارکان کو بھی بات کرنے کا موقع دیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }