فون سے اسکرین شاٹ محفوظ کرنا یادداشت کمزور کر سکتا ہے: تحقیق

8

موبائل فون سے کسی اہم لمحے کی تصویر یا اسکرین شاٹ محفوظ کرنا بظاہر یاد رکھنے میں مددگار لگتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایسا کرنا بعض اوقات معلومات کو یاد رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرسکتا ہے۔

امریکا کی بِنگہیمٹن یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات سے وابستہ محققین کی تحقیق کے مطابق جو افراد کسی چیز کو یاد رکھنے کے لیے خود اس کی تصویر کھینچتے ہیں، ان کے بعد میں اس کی تفصیلات یاد رکھنے کے امکانات ان افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں جو تصویر نہیں کھینچتے۔

جرنل میموری اینڈ کاگنیشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے اس رجحان کو ’فوٹو-ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ‘ قرار دیا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور بِگنہیمٹن یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ صوفیہ فیبریزیو کے مطابق لوگ کسی واقعے یا معلومات کی تفصیلات زیادہ آسانی سے بھول جاتے ہیں اگر وہ بعد میں اپنی بنائی ہوئی تصاویر دوبارہ نہ دیکھیں۔

محققین کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد کے فون میں اوسطاً ہزاروں تصاویر محفوظ ہوتی ہیں اور روزانہ مزید تصاویر شامل ہوتی رہتی ہیں۔ اگرچہ بعد میں تصاویر دیکھنا یادداشت تازہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن صرف تصویر کھینچ کر اسے کیمرہ رول میں چھوڑ دینا یادداشت بہتر بنانے کے لیے کافی نہیں۔

اس رجحان کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے سات مختلف تجربات کیے، جن میں شرکا نے فن پاروں کی تصاویر بنائیں اور بعد میں ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کیا دیکھا تھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد نے خود تصاویر کھینچی تھیں، انہیں بعد میں معلومات نمایاں طور پر کم یاد رہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اثر صرف اس وقت سامنے آیا جب شرکا نے خود کیمرہ استعمال کرکے تصویر بنائی۔ جسم پر نصب کیمروں سے خودکار طور پر بننے والی تصاویر نے اسی طرح کی یادداشت کی کمزوری پیدا نہیں کی، جس سے محققین نے اندازہ لگایا کہ خود تصویر کھینچنے کا عمل اس اثر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }