ممنوعہ راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا؛ ایران

12

ایران کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ممنوعہ سمندری حدود میں داخل ہونے والا ایک تیل بردار جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آگیا۔

ایرانی فوج کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی صبح پیش آیا، جب ایک تیل بردار جہاز نے اپنے نیویگیشن سسٹم بند کر رکھے تھے اور وارننگ نظرانداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے مشرق میں واقع ممنوعہ اور غیر محفوظ سمندری علاقے سے گزرنے کی کوشش کی۔

ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ جہاز کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ مذکورہ سمندری راستہ ممنوعہ اور غیر محفوظ ہے، تاہم انتباہ کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔

ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ممنوعہ سمندری حدود میں داخل ہونے اور ایرانی بحریہ کی وارننگ نظرانداز کرنے والے دیگر جہازوں کو بھی اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی بحریہ کے مطابق آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کے لیے مقررہ سمندری راستوں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

تاہم ایرانی حکام نے متاثرہ جہاز کا نام، اس کی ملکیت، پرچم، عملے کی تعداد یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں۔ واقعے اور بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے ایرانی دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور توانائی کی مصنوعات مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }