ورک ویزا پر بیرون ملک جانے والوں کے لیے ایف آئی اے کی نئی شرط
مسافروں کے لیے بیان حلفی لازمی قرار
پاکستانیوں کو بیرونِ ملک کام کے لیے جانے سے پہلے گریڈ 18 یا 19 کے افسرسے تصدیق شدہ حلف نامہ جمع کروانا ہوگا۔
ابوظہبی (اردوویکلی) ایف آئی اے نے حالیہ دنوں میں ایک نئی شرط متعارف کرائی ہے جس کے تحت بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے مسافروں کو ’19 یا 20ویں گریڈ کے سرکاری افسر سے تصدیق شدہ حلف نامہ‘ دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس حلف نامے میں مسافر کو یہ یقین دہانی کراناہوگی کہ وہ جس ملک میں جا رہا ہے وہیں قیام کرے گا اور غیر قانونی طور پر کسی تیسرے ملک جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام انسانی سمگلنگ کے خلاف حکومتی مہم کا حصہ ہے تاہم مسافروں کا شکوہ ہے کہ انھیں اس حوالے سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا۔
امیگریشن کے ایک سینیئر افسرکے مطابق ’کشتی حادثات کے بعد حکومت نے ہدایت دی ہے کہ بیرون ملک جانے والے تمام ورکرز کی جانچ سخت کر دی جائے۔ کئی پاکستانی مزدور قانونی راستے سے خلیجی ممالک جاتے ہیں لیکن وہاں سے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے باعث نہ صرف ان کی قیمتی جانیں خطرے میں پڑتی ہیں بلکہ دنیا میں پاکستان کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے
پاکستان کے مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس پر ایف آئی اے امیگریشن حکام کی جانب سے بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے خلاف کارروائیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ متعدد ائیرپورٹس پر ایسے درجنوں واقعات سامنے آئے ہیں جن میں قانونی طور پر تمام سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود مسافروں کو آف لوڈ کر دیا گیا۔
متاثرہ مسافروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ورک ویزا، پروٹیکٹر سرٹیفیکیٹ، ٹکٹ، پاسپورٹ اور ملازمت کے معاہدے تک موجود تھے، اس کے باوجود ایف آئی اے کے عملے نے انہیں شک کی بنیاد پر روک لیا۔
اطلاعات کے مطابق صرف لاہور ایئرپورٹ سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈیڑھ سو سے زائد پاکستانیوں کو آف لوڈ کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ مسافر شامل تھے جو سعودی عرب، بحرین، دبئی اور دیگر خلیجی ممالک جا رہے تھے۔ امیگریشن حکام کا مؤقف ہے کہ یہ وہ ممالک ہیں جہاں سے بعض پاکستانی شہری آگے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے ان کی اضافی چھان بین ناگزیر ہے۔
لاہور ایئرپورٹ پر تعینات ایک ایف آئی اے افسر کے مطابق ’گزشتہ چند ہفتوں میں ایسے چھبیس کیسز سامنے آئے جن میں پاکستانی شہری دبئی، بحرین ،تھائی لینٖڈ یا لیبیا کے راستے غیر قانونی طور پر اٹلی یا سپین پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔