راس الخیمہ اکنامک زون کی 2025 میں مضبوط کارکردگی، 19 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹر

21

راس الخیمہ اکنامک زون کی 2025 میں مضبوط کارکردگی، 19 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹر۔

راس الخیمہ(اردوویکلی):: راس الخیمہ اکنامک زون نے 2025 کے دوران ایک بار پھر مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کاروباری کمیونٹی میں 19 ہزار نئی کمپنیوں کا اضافہ کیا۔ یہ 2024 کے مقابلے میں نئی رجسٹریشنز میں 44 فیصد اضافہ ہے، جو سرمایہ کاروں کے پائیدار اعتماد اور عالمی کاروباری آپریشنز کے لیے -راس الخیمہ کی بڑھتی ہوئی کشش کی عکاسی کرتا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد راس الخیمہ اکنامک زون اب دنیا بھر سے 40 ہزار سے زائد کمپنیوں کا مرکز بن چکا ہے، جس سے خطے کے سب سے متحرک کاروباری مراکز میں اس کی حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ہونے والی ترقی کا بڑا سبب سروسز سے متعلق لائسنسز رہے، جو نئی کمپنیوں کی رجسٹریشنز کا 40 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے بعد کمرشل اور ٹریڈنگ لائسنسز کا تناسب 33 فیصد رہا، جبکہ ای-کامرس سرگرمیوں نے 17 فیصد کے ساتھ نمایاں رفتار برقرار رکھی۔
اسی سال رجسٹرڈ ہونے والی نمایاں کاروباری سرگرمیوں میں جنرل ٹریڈنگ، مصنوعات اور خدمات کی ای-ٹریڈنگ، پراجیکٹ مینجمنٹ، آئی ٹی اور لائف اسٹائل ڈویلپمنٹ سے متعلق کنسلٹنسیز کے علاوہ مارکیٹنگ، کمرشل بروکریج، دستاویزات کی کلیئرنگ اور بلڈنگ مینٹیننس جیسی خدمات شامل رہیں۔
یہ تقسیم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ راس الخیمہ اکنامک زون ایک مربوط ایکو سسٹم کے تحت ایڈوائزری پر مبنی اداروں سے لے کر ٹریڈ اور ڈیجیٹل طور پر فعال کاروباری ماڈلز تک مؤثر معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس موقع پر راس الخیمہ اکنامک زون گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رامی جلالد نے کہا کہ 2025 میں ریکارڈ کی گئی مضبوط ترقی اس اعتماد کی عکاسی ہے جو کاروباری ادارے راس الخیمہ پر ایک ایسی منزل کے طور پر رکھتے ہیں جہاں وہ مؤثر انداز میں قیام، آپریشن اور توسیع کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی سال میں تقریباً 19 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ادارے کی ویلیو پروپوزیشن مختلف شعبوں اور منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ راس الخیمہ اکنامک زون کاروباری اداروں کو تیزی سے ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے آسان طریقۂ کار، لچکدار حل اور کاروبار دوست ایکو سسٹم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
2025 میں راس الخیمہ اکنامک زون کے عالمی اثر و رسوخ کو سرمایہ کاروں کی متنوع بنیاد نے مزید تقویت دی۔ بھارت 33 فیصد نئی کمپنیوں کے ساتھ سب سے بڑا ماخذ ملک رہا، جبکہ پاکستان 8 فیصد اور برطانیہ 7 فیصد کے ساتھ نمایاں رہے۔ مصر اور فرانس بھی سرفہرست شراکت دار ممالک میں شامل رہے، جو جنوبی ایشیا، یورپ اور وسیع تر عالمی کاروباری برادری میں ادارے کی مضبوط کشش کو اجاگر کرتے ہیں۔
ادارے کے مطابق راس الخیمہ اکنامک زون آئندہ بھی مختلف شعبوں میں کاروباری اداروں کی معاونت پر توجہ مرکوز رکھے گا، تاکہ انہیں لچکدار حل اور کاروبار دوست عملی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ایک بڑھتی ہوئی اور متنوع کاروباری کمیونٹی کے ساتھ، راس الخیمہ اکنامک زون علاقائی اور عالمی منڈیوں میں توسیع اور پائیدار طویل المدتی ترقی کے حصول کے لیے کمپنیوں کی بھرپور معاونت کی پوزیشن میں ہے(نیوزبشکریہ وام)۔
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }