برصغیر کے مسلمانوں نے 14 اگست 1947کو ایک ایسے آزاد ملک کا خواب دیکھا تھا جہاں سیاسی آزادی کا پرچم صرف جغرافیائی لکیروں کا مرہون منت نہ ہو بلکہ معاشی خوشحالی اور مالیاتی خودمختاری کی ہواؤں سے پوری آب و تاب کے ساتھ لہرائے۔ آج جب یہ چمن اپنے 79 ویں سال آزادی کا چراغ روشن کر رہا ہے تو ملکی معیشت کی داستان خاصی دکھ بھری ہے۔
قیام پاکستان کے بعد سے ہی ہر حکومت نے بیرونی قرضوں پر معیشت کو استوار کرنے کی پالیسی اختیار کی جس کا نتیجہ یہ ہے، اب پاکستانی معیشت ایک ایسے مسافر کی طرح ہو چکی ہے جس نے بیرونی قرضوں کے سنگلاخ راستوں پر طویل اور پرپیچ سفر کرتے کرتے قوم کے بچے بچے کو ساڑھے تین لاکھ روپے سے زائد کا مقروض بنا دیا ہے، لیکن اس نحیف ترین معیشت کی ابھرتی ہوئی نبض کو مٹی کی ہریالی اور ڈیجیٹل جدت ایک مستقل اقتصادی سحر کی نوید دے رہے ہیں۔
پاکستان کا معاشی افق اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ماضی کی ساختی نقائص، توازن ادائیگی کا بحران، مہنگائی کے شدید تھپیڑے ہیں جن کا قوم بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے لیکن دوسری طرف بہتر زرعی کارکردگی اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ترقی ایک روشن مستقبل کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ یہ یوم آزادی ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ حقیقی آزادی اس وقت تک ادھوری رہتی ہے جب تک قوم اپنی معیشت کو اپنے پیروں پر نہ کھڑا کر لے۔ کچھ اعداد و شمار اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کا مالیاتی ڈھانچہ دوبارہ جڑ پکڑ رہا ہے جیسے شرح نمو کا 3.7 فی صد تک کا ہونا جب کہ اس سے پہلے والے مالیاتی سال میں شرح نمو 3.18 فی صد تھا جو اس بات کی علامت ہے کہ ملکی معیشت کا جمود اب ٹوٹ رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی زراعتی شعبے میں 2.89 فی صد کی جان دار شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان کے جفاکش کسانوں نے ملکی معیشت کی لاج رکھی۔ حالانکہ گزشتہ برس انھی دنوں ملک بھر کے زراعتی میدانوں نے جان لیوا سیلاب کو بھی جھیلا تھا اور لاکھوں مویشی ہندوستان سے آئے ہوئے سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے تھے پھر بھی کاشتکاروں نے زراعت کو بھی سنبھالا اور زراعت سے وابستہ دیگر شعبوں کو بھی سنبھالا دیا۔ کپاس اور چاول کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ چاول، کینو اور پھل اور دیگر زراعتی مصنوعات کی بین الاقوامی منڈیوں تک کامیاب رسائی کی بدولت پاکستان نے کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کمایا۔سال 2026 میں زرعی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ مہنگی توانائی کے متبادل کے طور پر کسانوں نے بڑے پیمانے پر ’’سولر انرجی‘‘ کا رخ کیا۔ اس قدم نے نہ صرف ’’ٹیوب ویلوں‘‘ کو چلانے کی لاگت کم کی ہے بلکہ زراعت کو کلائیمیٹ چینج کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
دراصل زراعت بھی پاکستان کا وہ قدیم اور وفادار بازو ہے جو ہر مشکل گھڑی میں ملک کو قحط اور معاشی دیوالیہ پن سے بچاتا آیا ہے۔ مٹی کی یہ خوشبو اور کسان کی محنت ہی ہمارے حقیقی معاشی دفاع کی پہلی لکیر ہے، اگر زراعت پاکستان کا ماضی اور حال ہے تو انفارمیشن ٹیکنالوجی اس کا روشن اور درخشاں مستقبل ہے۔ آزادی کے اس طویل سفر میں پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی نوجوان نسل ہے۔ آبادی کا لگ بھگ 60 فی صد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اب روایتی اور ڈیجیٹل دنیا میں اپنی ذہانت اور مہارت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی سافٹ ویئر اور آئی ٹی سروسز کی برآمدات 3.39 ارب ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اس شعبے نے سالانہ بنیاد پر 24 فی صد کی حیرت انگیز نمو ریکارڈ کی ہے جو اسے ملک کا سب سے تیز رفتاری سے بڑھتا ہوا برآمدی شعبہ بنا رہی ہے۔
ان نوجوانوں کے ذریعے آنے والا ہر ڈالر براہ راست ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرتا ہے۔پاکستان میں اب ’’ایگری ٹیک‘‘ اسمارٹ فونز اب کسان کا ہتھیار بن چکے ہیں جہاں ڈاؤن اسپرے، موسم کی پیش گوئی کرنے والی ایپ کے ذریعے روایتی کاشتکاری کو سائنسی خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی اور مٹی کا یہ ملاپ زرعی معیشت کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔آئی ٹی کا شعبہ وہ پرواز ہے جس نے پاکستان کو جغرافیائی پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔ ہمارے نوجوان گھر بیٹھے اپنی سستی اور معیاری خدمات کے ذریعے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو مائل کر رہے ہیں۔
پاکستان کے حالیہ معاشی نظم و ضبط کی دنیا اب معترف ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر ساکھ کا تعین کرنے والی ایک مشہور ایجنسی ’’ایس اینڈ پی‘‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کرکے "B” کر دیا ہے۔ یہ ریٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ پروگرام کے تحت دی جانے والی ساختی اصلاحات کے باعث ملک کا پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 3.2 فی صد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت نے اپنے اخراجات میں کچھ نہ کچھ کمی کی ہے۔ اگرچہ اس میں ابھی بڑی گنجائش ہے کہ حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لائی جائے۔ خصوصاً ابھی تک بہت سے لوگوں کو بہت زیادہ سہولیات مراعات دی جا رہی ہیں، ان سب کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اب پاکستان کو اس راہ پر گامزن کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک معاشی لحاظ سے اپنے پیروں پرکھڑا ہو جائے تاکہ مستقبل قریب میں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ رہے۔