لانگ مارچ،گورنر راج یا اسمبلیوں کی تحلیل

6

پی ٹی آئی کی قیادت نے27ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کرکے اچھا فیصلہ کیا۔لیکن ساتھ ہی چار اکتوبر کو دوبارہ لانگ مارچ کی نئی تاریخ دے کر مزاحمت یا احتجاج کی سیاست برقرار رکھی ۔یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ تناؤ اور ٹکراؤ کی سیاست بدستور موجود ہے۔اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان چار اکتوبر سے پہلے مفاہمت یا کچھ لو اور دو کی بنیاد پر مفاہمت نہیں ہوگی تو ٹکراؤ کی سیاست موجود رہے گی جو کسی بھی طور پر قومی مفاد میں نہیں۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ وفاقی وزراء پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر ٹی ٹی پی اور طالبان کی بی ٹیم ہونے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کا براہ راست الزام لگا رہے ہیں ۔

دوسری طرف وفاقی حکومت یہ اشارے بھی دے رہی ہے کہ خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت کی ناکامی پر گورنر راج کا آپشن بھی موجود ہے یا صوبائی اسمبلی کو تحلیل یا حکومت کا خاتمہ بھی کیا جا سکتا ہے۔صوبائی گورنر فیصل کریم کنڈی کے بقول صوبائی حکومت نے حالات اس نہج پر پہنچا دیے ہیں کہ گورنر راج کے بغیر صوبے کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔حالانکہ پیپلز پارٹی نے بطور پارٹی گورنر راج کی مخالفت کی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے جو لوگ بھی وفاقی حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیںکہ صوبائی مسئلہ گورنر راج کی مدد سے حل ہوسکتا ہے وہ حکومت کو غلط مشورہ دے رہے ہیںکیونکہ ان حالات میں جب صوبہ پہلے ہی سیاسی انتشار ، دہشت گردی یا سیاسی تقسیم کا شکار ہو وہاں گورنر راج یا حکومت کی تبدیلی کسی بھی طور پر مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔ اس اقدام کی صورت میں بلاوجہ ہم سیاسی ٹکراؤکو دعوت دیں گے اور دہشت گرد اس طرح کی سیاسی خلیج سے فائدہ اٹھاکر مزید دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں۔

اسی طرح اسمبلی کی تحلیل بھی مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہی محض اس مسئلہ کا حل انتظامی بنیادوں سے جڑے اقدامات تک محدود ہے۔سیاسی مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر ہی کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا اور اسی حکمت عملی کو حتمی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس لیے بہتر ہوگا کہ پی ٹی آئی اور  حکومت کے درمیان چار اکتوبر سے پہلے بات چیت ہونی چاہیے اور اس کا نتیجہ ٹکراؤ کی سیاست سے مختلف ہونا چاہیے۔ حکومت کو بھی پی ٹی آئی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور جس حد تک قانونی اور آئینی بنیادوں پر ان کا ریلیف بنتا ہے وہ دیا جانا چاہیے۔

کسی کو مسلسل دیوار سے لگانے کی پالیسی سے قومی سیاست میں مفاہمت کی سیاست پیدا نہیں ہوتی۔حکومت ڈکٹیشن کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو ڈیل کرنا چاہتی ہے جس سے پی ٹی آئی میں ردعمل پیدا ہونا یقینی ہے۔اسی طرح بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف مفاہمت کی سیاست اور دوسری طرف طاقت سے مخالفین سے نمٹنے کی پالیسی حالات کو اور زیادہ خراب کر رہی ہے۔

پی ٹی آئی کو بطور جماعت ان حالات میں خود بھی زیادہ ذمے دارانہ طرز عمل اور سیاست کی ضرورت ہے اوران کے راہنماؤں کو بھی اس طرز کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو انتشار کے زمرے میں آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے راہنما بھی اپنے جارحانہ اور غیر مفاہمانہ روئیے پر غور کریں اور حکومت کو مشتعل کرنے والے روئیے اور بیانات سے گریز کریں۔ دوسری جانب وفاقی وزرا کے سخت بیانات کس طرح مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔جب بات سیاست میں ایک دوسرے پر ملک دشمنی پر پہنچتی ہے تو پھر مفاہمت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ صوبہ کے معاملات کو کسی انتظامی یا سربراہ کی بنیاد پر چلایا جا سکتا ہے یا صوبہ سے ان سیاسی قوتوں جن کا بڑا ووٹ بینک ہے، ان کو باہر نکال کرغیر سیاسی بنیاد پر چلایا جاسکتا ہے تو یہ غلط فہمی ہے۔ماضی میں اس طرز کے تجربات کی بنیاد پر ہم نے اپنی سیاست اور جمہوریت کو پیچھے کی طرف دکھیلا ہے۔اب بھی ہم سیاسی مسائل کے حل میں اسی پرانی طرز کی مہم جوئی کی سیاست کا شکار ہیں اوران روائتی سیاسی حکمت عملیوں سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر خیبر پختون خواہ میں ایمرجنسی یا گورنر راج یا اسمبلی کی تحلیل کا کھیل کھیلا جاتا ہے تو پھر یہ کھیل محض ایک صوبے تک محدود نہیں رہے گا اور ہمیں پورے نظام میں تبدیلی کی جھلک دیکھنے کو ملی گی اور خود اس مہم جوئی کا ایک بڑا سخت ردعمل کے پی کے کی سیاست میں دیکھنے کو ملے گا۔ ایک طرف حکومت یہ جواز بناتی ہے کہ کے پی کے میں دہشت گردی سے نمٹنے میںصوبائی حکومت ناکام ہوگی ہے اوروہاں گورنر راج لگانا ناگزیر ہوگیا ہے۔کیا اسی منطق کو وفاقی حکومت بلوچستان کے تناظر میں بھی دیکھے گی جہاں وہاں کی صوبائی حکومت بھی صوبہ میں دہشت گردی کو روکنے میں مسلسل ناکام ہے۔ بلوچستان میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی مشترکہ بنیاد پر حکومت ہے اور وہ وہاں کی ہونے والی دہشت گردی کی ذمے داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اس پورے کھیل میں ہمیں پی ٹی آئی کا اپنا داخلی بحران یا تنظیمی بحران بھی دیکھنے کو مل رہا ہے جس سے ان کی اپنی سیاست بھی متاثر ہورہی ہے بالخصوص لانگ مارچ یا دھرنے پر پارٹی میں ایک واضح تقسیم ہے۔ایک گروپ لانگ مارچ کا مخالف ہے اور سمجھتا ہے کہ ہمیں موجودہ حالات میں اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے۔جب کہ سخت مزاج گروپ لانگ مارچ کا حامی ہے اور سمجھتا ہے کہ ان تین برسوں کی اسٹیبلیشمنٹ سے مفاہمت کی سیاست سے ہمیں کچھ نہیں مل سکا۔دوسری طرف کے پی کے میں پی ٹی آئی کے مختلف دھڑے بھی پارٹی کی عملی سیاست کو نقصان پہنچارہے ہیں۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی قیادت4اکتوبر کو لانگ مارچ کرے گی یا اسے ایک بار پھر ملتوی کیا جائے گا۔

اس عمل کا اہم دار مدار اگلے چند دنوں میں ہونے والی دونوں اطراف کی بات چیت پر منحصر ہے اور اگر کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو یا پھر وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کے خلاف مہم جوئی ہوگی یا صوبائی حکومت خود وفاق کو بڑا سرپرائز دے گی۔ اصل میں لانگ مارچ اگر ملتوی ہونا ہے تو یہ عمل دونوں اطراف سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوگا،یعنی اگر کوئی سمجھ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو ریلیف دیے بغیر یہ ختم ہوجائے گا،ممکن نہیں۔دوسری جانب جو کچھ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے خلاف سوچ رہی ہے اور وہ واقعی عملی طور پر پی ٹی آئی کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرتی ہے تو اس کا نقصان پی ٹی آئی سے زیادہ وفاق کو ہوگا اور وہاں ہونے والی دہشت گردی یا سکیورٹی کے عملی حالات کی ذمے داری ان کے کندھوں پر آئے گی۔ایک طرف سکیورٹی اور دہشت گردی سے جڑے مسائل اور دوسری طرف صوبہ میں موجود گورننس کے مسائل اورتیسری طرف سیاسی تقسیم کی موجودگی میں پی ٹی آئی کا سیاسی ردعمل بہت سے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔

اس لیے اس وقت کے پی کے، کی سیاست میں کسی کی جانب سے مہم جوئی اور ایڈونچرز کی سیاست کی ضرورت نہیں۔صوبہ کے حالات کافی سنگین ہیں اور خاص طور پردہشت گردی کا سامنا ہے، ایسے میں حکومت اور حزب اختلاف کا ایک دوسرے پر چڑھائی کرنا اور ان کی ملک سے محبت کو چیلنج کرنا اور یہ کہنا کہ آپ افغانستان اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں درست حکمت عملی کا حصہ نہیں ہوگا۔ جب سیاست کسی نازک موڑ پر کھڑی ہو تو حکومت زیادہ بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرکے سیاسی مخالفین کے لیے گنجائش پیدا کرتی ہے تاکہ ٹکراؤ کی پالیسی سے بچا جائے مگر یہاں تو بہت سے وزراء خود لڑائی اور ٹکراؤ کی دعوت دے رہے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں کوئی پہلی بار دھرنا اور لانگ مارچ نہیں ہورہا اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن اب کافی عرصہ سے ہم ان لانگ مارچ کی سیاست کو ملک دشمنی سے بھی جوڑ رہے ہیں جو سیاست میں اور زیادہ تلخیوں کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

حالانکہ حکومت اور پی ٹی آئی مل کر کوئی ایسا راستہ نکال سکتے تھے جو دونوں کے لیے پرامن بھی ہوتا اور قابل قبول بھی۔اسی طرح ہم اب یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان معاملات میں عدالتیں بھی فریق بن گئی ہیں اور جو کام حکومتوں کو خود کرنے چاہیے تھے وہ عدالتوں کی مدد سے کروائے گئے ہیں۔ بہرحال اگلے چند دن باقی ہیں اور اب بھی موقع ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی اس لانگ مارچ کا کوئی درمیانہ راستہ نکالیں تاکہ یہ ملک اس وقت جس سیاسی افراتفری اور داخلی انتشار کا شکار ہے اس سے ہماری سیاست کو باہر آنا چاہیے۔ہمیں اپنی توجہ ان سیاسی لڑائیوں کی بجائے ملک کے اہم سنگین مسائل جو ہمیں دہشت گردی، گورننس،معیشت اور سیاسی سطح پر استحکام کی طرف دینی چاہیے تاکہ معاملات درست سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }