طالبان کا دہرا کھیل

14

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے مہلک بھنور میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے، ملک کے دو سب سے زیادہ شورش زدہ صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان اس تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بن رہے ہیں، جہاں حملوں کی تعداد اور شدت میں تشویش ناک اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم، اس تشدد کے دو مختلف پہلو ہیں، خیبرپختونخوا میں شورش کی بنیادی وجہ مذہبی انتہاپسندی ہے جبکہ بلوچستان میں اس کی جڑیں سیکولر علیحدگی پسندی میں پیوست ہیں، نظریات الگ، مقاصد مختلف لیکن دونوں کی جنگ کا میدان تیزی سے یکجا ہوتا جا رہا ہے۔

ان دونوں کے درمیان ایک خطرناک اتحاد ابھر کر سامنے آیا ہے، نظریاتی اختلافات کے باوجود یہ دہشت گرد ایک مشترک دشمن کے خلاف متحد ہیں، پاکستانی حکام کے مطابق دونوں گروہوں نے سرحد پار افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں، جہاں کابل کے عملاً حکمران طالبان کی سرپرستی اور ملی بھگت سے انہیں سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی سے بہت پہلے بھی افغانستان پاکستان کے اندر دہشت گردی کے حملوں کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا تھا، اسلام آباد الزام عائد کرتا تھا کہ افغانستان کا اس وقت کا انٹیلی جنس ادارہ نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) بھارت کے خفیہ ادارے را کے ساتھ مل کر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت کاری کرتا تھا۔

چنانچہ طالبان کی اقتدار میں واپسی اسلام آباد میں سلامتی کی صورت حال ازسرنو ترتیب دینے کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھی گئی، توقع تھی کہ نئی افغان حکومت دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کرے گی اور پاکستان کے دیرینہ تحفظات دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

توقعات کے برعکس صورت حال

اسلام آباد نے انہی توقعات کے پیش نظر طالبان کی حکومت کو سہارا دینے اور اس کے ساتھ روابط برقرار رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں، پاکستان نے عالمی سطح پر طالبان حکومت کے لیے معاشی معاونت کی حمایت کی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی میں سہولت کاری کی اور سیاسی و سفارتی رابطے برقرار رکھے، ان رابطوں میں مذہبی علما، قبائلی عمائدین، وزرا، انٹیلی جنس حکام اور خصوصی نمائندے شامل تھے، پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے کیمپوں سے متعلق انٹیلی جنس معلومات اور شواہد بھی طالبان کے ساتھ شیئر کیں اور انہیں کارروائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن طالبان کا ردعمل غیر واضح رہا۔

 کبھی وہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کی پیش کش کرتے اور کبھی اس بات سے ہی انکار کر دیتے کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہے۔

افغانستان کے امور پر گہری نظر رکھنے والے سینئر مبصر حسن خان کہتے ہیں کہ ’’ٹی ٹی پی کی موجودگی سے انکار دراصل ذمہ داری سے بچنے کا طریقہ ہے، افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کی موجودگی تسلیم کرنے کا مطلب طالبان کو اپنے ہی صفوں میں گہری جڑیں رکھنے والے گروہ کے خلاف کارروائی کرنا ہوگا، خصوصاً ان کمانڈروں کے خلاف جو درمیانی اور نچلی سطح پر موجود ہیں‘‘۔

ان کے مطابق طالبان کو خدشہ ہے کہ ایسی کارروائی ان کے اپنے جنگجوؤں کو ان کے خلاف کھڑا کر سکتی ہے، اسی لیے وہ ٹی ٹی پی کی موجودگی سے یکسر انکار کرتے ہیں۔

عوامی سطح پر طالبان ٹی ٹی پی کی موجودگی تسلیم نہیں کرتے لیکن پاکستان کے ساتھ نجی مذاکرات میں، خواہ وہ دوطرفہ ہوں یا قطر، ترکیہ اور چین جیسے ثالثوں کی موجودگی میں کثیرالجہتی، وہ اس گروہ کی موجودگی تسلیم کرنے اور کارروائی کی آمادگی ظاہر کرتے رہے ہیں، تاہم، عملی اقدامات مسلسل مؤخر ہوتے رہے، جس سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہوگیا۔

طالبان کے متضاد طرزعمل کا بنیادی سوال یہی ہے کہ آیا وہ افغان سرزمین پر پروان چڑھنے والے عسکریت پسندوں کا نیٹ ورک ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یا ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے، پاکستانی حکام انٹیلی جنس معلومات اور شواہد کی بنیاد پر دوسرے امکان کو زیادہ قرین قیاس قرار دیتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی اور پاکستان مخالف دیگر گروہوں نے افغانستان میں محفوظ ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں، پاکستان کے اندر حملوں میں افغان شہریوں کی شمولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور طالبان انہیں سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے جگہ فراہم کر رہے ہیں۔

سرحد پار خطرے کی قیمت

طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق 2021 میں جب کابل طالبان کے قبضے میں آیا تو پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر تھا، 2022 میں ساتویں، 2023 میں چوتھے، 2024 میں دوسرے اور 2025 میں پہلے نمبر پر آ گیا۔

اس دوران انسانی جانوں کا نقصان بھی بڑھتا رہا، پاکستانی اعدادوشمار کے مطابق 2026 میں اب تک افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 1,327 افراد جاں بحق اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔

سیکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) رضا محمد کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں، جن میں ویڈیوز، آڈیو ریکارڈنگز اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس شامل ہیں، یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جبکہ بھارت پاکستان کے اندر مہلک حملوں کے ذمہ دار گروہوں کی مالی معاونت کر رہا ہے‘‘۔

تاہم تشویش ناک اعدادوشمار سے بھی زیادہ پریشان کن پہلو پاکستان میں حملے کرنے والے دہشت گردوں کی صفوں میں افغان شہریوں کی مبینہ موجودگی ہے، انٹیلی جنس معلومات کے مطابق، دراندازی کرنے والے جنگجوؤں میں تقریباً 70 فیصد افغان شہری ہیں، اطلاعات کے مطابق 2026 میں پاکستان میں مارے جانے والے 260 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت نام، پتہ اور خاندانی تفصیلات کی مدد سے کی جا چکی ہے۔

یہ اعدادوشمار بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے کیونکہ ان میں ایسے دہشت گرد شامل نہیں جن کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی، وہ لاشیں بھی شامل نہیں جن کی شناخت حتمی طور پر ممکن نہیں ہوئی اور نہ ہی ان افغان شہریوں کا شمار ہے جو اب بھی سرگرم دہشت گرد گروہوں کا حصہ ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق بعض واقعات خاص طور پر حساس نوعیت کے ہیں، جنوری 2025 میں بدرالدین یوسف، جو بادغیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد محمدی کے بیٹے تھے، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی آپریشن کے دوران مارے گئے بعد ازاں انہیں افغانستان کے صوبے بادغیس میں دفن کیا گیا۔

فروری 2026 میں احمد عرف قاری عبداللہ یا ابوزر، جو افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا سابق رکن تھا، نے باجوڑ میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش حملہ کیا، مئی میں بیت اللہ اور جلال الدین، جنہیں طالبان کے سابق ارکان قرار دیا گیا، اسی ضلع میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر ہونے والے دو خودکش دھماکوں میں ملوث تھے۔

یہ واقعات اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں میں بھرتی کا دائرہ عام افغان شہریوں تک محدود نہیں بلکہ طالبان حکومت سے وابستہ خاندانوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

بین الاقوامی سلامتی کے امور کے تجزیہ کار خرم عباس کہتے ہیں کہ’’یہ معاملہ محض ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں سے چشم پوشی تک محدود نہیں، طالبان ٹی ٹی پی کو فعال طور پر مالی معاونت اور گولہ بارود فراہم کر رہے ہیں جبکہ کئی افغان صوبوں میں افغان شہریوں کو بھرتی کرنے کی مہمات بھی جاری ہیں، بھرتی کیے جانے والے افراد کو سرحد پار بھیجا جاتا ہے، جس سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوتا ہے‘‘۔

نظریاتی رشتے، مشترکہ جنگ

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ طالبان حکومت ایک دہشت گرد گروہ کو تحفظ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ اپنے اہم تعلقات کو خطرے میں کیوں ڈال رہی ہے؟ تجزیہ کار اس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور علی خان کہتے ہیں کہ ’’افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گہرے نظریاتی روابط اور ایک ساتھ جنگ لڑنے کی طویل تاریخ موجود ہے، یہی تعلقات طالبان کے لیے اپنے سابق ساتھیوں کے خلاف کارروائی کرنا مشکل بناتے ہیں اور ٹی ٹی پی کے لیے ان کی مسلسل حمایت کی وضاحت کرتے ہیں‘‘۔

حسن خان کے مطابق ٹی ٹی پی طالبان کی صفوں میں گہرائی تک سرایت کر چکی ہے، خصوصاً درمیانی اور نچلی سطح کے ان کمانڈروں میں جو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف 20 سالہ جنگ کے دوران ٹی ٹی پی کی معاونت کے احسان مند ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’’دونوں کی نظریاتی بنیادیں، مذہبی عقائد اور جہاد کے بارے میں تصورات مشترک ہیں، ٹی ٹی پی طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو اپنا امیر بھی تسلیم کرتی ہے‘‘۔

ان کے بقول ’’قبائلی روابط سے بڑھ کر دونوں کے سماجی اور مذہبی نیٹ ورک ایک دوسرے میں پیوست ہیں، کبھی انہیں ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھا جاتا تھا لیکن اب ان کا باہمی اختلاط اس قدر بڑھ چکا ہے کہ دونوں کے جنگجوؤں میں فرق کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے‘‘۔

اپنے ہی صفوں میں بغاوت کا خوف

نظریاتی قربت اور میدان جنگ میں مشترکہ جدوجہد کے علاوہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کی صورت میں اپنی صفوں میں بے چینی، داخلی اختلافات اور بالآخر کابل میں اپنے اقتدار کے لیے خطرات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

سیکیورٹی تجزیہ کار منظر زیدی کہتے ہیں کہ’’طالبان کو ایک تزویراتی مخمصے کا سامنا ہے، ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی ایسے گروہ کی جانب سے ردعمل کو جنم دے سکتی ہے جو ایک طاقت ور قوت بن چکا ہے، طالبان قیادت کے بعض حلقوں کو خدشہ ہو سکتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو محدود کرنے سے ایسا ردعمل پیدا ہوگا جس پر قابو پانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گا‘‘۔

خرم عباس کے مطابق، طالبان کو یہ خدشہ بھی ہو سکتا ہے کہ ٹی ٹی پی پر زیادہ دباؤ ڈالنے سے وہ ایک حریف شدت پسند تنظیم، داعش خراسان (آئی ایس کے پی)، کے ساتھ اتحاد کر سکتی ہے جو افغان طالبان کی مخالف ہے۔

افغانستان میں عسکریت پسندوں کا پورا نظام

تاہم، خطرہ صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہے، افغانستان علاقائی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، ان میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم)، اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) اور القاعدہ شامل ہیں، طالبان کے دور حکومت میں یہ گروہ ایسے ماحول میں سرگرم ہیں جہاں انہیں کام کرنے کی گنجائش حاصل ہے۔

جنرل رضا محمد کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اپنے اقتدار کو مستحکم رکھنے کے لیے ان گروہوں پر انحصار کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’افغانستان صرف ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ بی ایل اے، بی آر اے، مجید بریگیڈ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی بھی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، یہ گروہ طالبان کے لیے طاقت کا ذریعہ ہیں، جو انہیں اقتدار برقرار رکھنے اور اپنا اثرورسوخ بڑھانے میں مدد دیتے ہیں‘‘۔

اقوام متحدہ کی تشویش ناک رپورٹیں

یہ محض پاکستان کے دعوے یا متنازع انٹیلی جنس اعدادوشمار نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 35ویں، 36ویں، 37ویں اور 38ویں رپورٹس میں بھی افغانستان سے ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے کی اسی نوعیت کی تصویر پیش کی گئی ہے، ان رپورٹس میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی عملی آزادی اور القاعدہ و داعش خراسان کی موجودگی کی نشان دہی کی گئی ہے۔

ایک جائزے میں افغانستان کی سرزمین پر 20 سے زائد عسکریت پسند گروہوں اور 13 ہزار تک غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 6,000 ٹی ٹی پی ارکان، داعش خراسان کے 2,000 سے 3,000 جنگجو اور القاعدہ کے 400 سے 1,500 ارکان شامل ہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ خطرے کی نشان دہی صرف اسلام آباد نہیں کر رہا۔

حسن خان کہتے ہیں کہ’’افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی اب ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے، اقوام متحدہ، امریکا، چین اور خطے کے دیگر ممالک کے جائزوں میں بھی اسی نوعیت کے خدشات سامنے آئے ہیں‘‘۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اقوام متحدہ کی تازہ ترین مانیٹرنگ رپورٹ ٹی ٹی پی، القاعدہ اور افغان طالبان کے درمیان رابطوں اور تعاون کی بھی نشان دہی کرتی ہے، القاعدہ تربیت، رسد اور مالی معاونت فراہم کرتی ہے جبکہ طالبان تحفظ کا حصار مہیا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں پاکستان میں ٹی ٹی پی کی دراندازی میں سہولت کاری کا بھی ذکر ہے۔

تصویر واضح ہے: ایک ایسا دہشت گرد نیٹ ورک جسے محفوظ پناہ گاہیں، معاونت اور سرحد پار حملے کرنے کی صلاحیت حاصل ہے‘‘۔

روس کی وزارت خارجہ، جو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا واحد ملک ہے، نے بھی فروری 2026 میں اندازہ لگایا تھا کہ افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار تک دہشت گرد سرگرم ہیں، جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی شہری ہیں۔

اسلام آباد کے لیے ان جائزوں کی اہمیت یوں ہے کہ وہ طالبان کے اس مسلسل دعوے کو چیلنج کرتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی ہے۔

افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے جون 2026 میں خبردار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں تربیتی کیمپوں، اسلحے، مالی وسائل اور محفوظ ٹھکانوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے، یورپی یونین کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ژیل برتران نے بھی افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی کیمپوں، اسلحے کے نیٹ ورکس اور مالی معاونت کے ڈھانچوں کی نشان دہی کی تھی۔

سفارت کاری کی راہیں مسدود

طالبان کے انکار کے باوجود پاکستان نے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیے رکھا، اس امید پر کہ کابل کے عملاً حکمران اس کے تحفظات دور کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

جولائی 2022 میں علما کے 8 رکنی وفد کے کابل کے دورے سے لے کر وزارتی وفود، قبائلی جرگوں، علما کی ملاقاتوں اور سیکیورٹی سطح کے مذاکرات تک، اسلام آباد مسلسل طالبان پر ٹی ٹی پی کو لگام دینے کے لیے زور دیتا رہا۔

پاکستان کے مطابق، 2025 کے اختتام تک اعلیٰ سطح کے متعدد دوروں اور ملاقاتوں کے علاوہ سرحدی امور پر 225 فلیگ میٹنگز، 836 احتجاجی مراسلے اور 13 باضابطہ سفارتی احتجاجی نوٹس بھی دیے جا چکے تھے، پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے پانچ درجن سے زائد مبینہ کیمپوں، کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے مقامات اور رسدگاہوں سے متعلق معلومات بھی فراہم کیں۔

پاکستان کے مطالبات واضح اور مسلسل ایک جیسے رہے ہیں کہ ٹی ٹی پی کا بنیادی ڈھانچہ ختم کیا جائے، سرحد پار دراندازی روکی جائے اور کارروائی کے لیے ناقابل تردید شواہد فراہم کیے جائیں۔

خرم عباس کہتے ہیں کہ پاکستان اندرونی رابطوں سے لے کر دوطرفہ، سہ فریقی اور کثیرالجہتی فورمز تک سفارت کاری کے تمام راستے آزما چکا ہے، اس کے باوجود افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کے خلاف زمینی سطح پر بااعتماد تعاون فراہم کرنے سے گریز کیا ہے، جس کے باعث سفارت کاری مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے‘‘۔

مذاکرات سے انسداد تک

دوحہ، استنبول اور ارومچی میں ہونے والے مذاکرات سمیت برسوں کی سفارتی کوششوں کے بعد پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ’’محدود سرجیکل کارروائیوں‘‘ کا راستہ اختیار کیا، جن میں شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کا ردعمل نپا تلا اور جائز تھا۔

جنرل رضا محمد کہتے ہیں کہ’’جب کسی ملک پر حملہ ہوتا ہے اور اس کے شہریوں کی جانیں جاتی ہیں تو اسے جواب دینے کا حق حاصل ہے، پاکستان کی سرجیکل کارروائیاں جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کی ہیں، حملوں کا آغاز ہم نے نہیں کیا، ہم امن چاہتے ہیں، اسی لیے ہمارے حملے محدود ہیں لیکن ہمارا جواب جائز ہے‘‘۔

افغان طالبان نے ان حملوں کو ’’خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور پاکستانی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنانے، ڈرون حملے کرنے اور دھمکیاں دینے کا سلسلہ تیز کر دیا۔

خرم عباس کہتے ہیں کہ ’’افغان طالبان رہنماؤں کی جانب سے پاکستان پر حملوں کی حالیہ دھمکیاں اس تشویش کو تقویت دیتی ہیں کہ ٹی ٹی پی کو تزویراتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ٹی ٹی پی کو اپنے دائرۂ اثر میں رکھ کر کابل یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان کی سلامتی، خارجہ پالیسی اور افغانستان سے متعلق پالیسیوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے‘‘۔

وعدے ٹوٹے، اعتماد ختم ہوا

طالبان کے غیر واضح اور غیر سنجیدہ طرزعمل نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، انہوں نے 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے اس عہد کی پاسداری نہیں کی کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس کے برعکس طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا، جن میں سے کئی دوبارہ میدان جنگ میں واپس آ گئے۔

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی2022  میں کابل کے ایک محفوظ گھر میں ہلاکت نے بھی طالبان کی یقین دہانیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، بعد ازاں قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اسلام آباد نے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے تحریری ضمانت نامے اور آزادانہ تصدیق کا مطالبہ کیا تاہم، کابل کے حکمرانوں نے انکار کرتے ہوئے صرف زبانی یقین دہانیوں پر اکتفا کیا۔

حسن خان کہتے ہیں کہ’’اگر طالبان دوحہ معاہدے کی پاسداری نہیں کر سکے تو پاکستان ان کی زبانی یقین دہانیوں پر کیوں اعتماد کرے؟ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے کام کرتی ہے، مقامی سطح پر بھرتی کرتی ہے اور پاکستان کے خلاف جہاد کے نام پر دیہات اور شہروں میں چندہ جمع کرتے ہیں‘‘۔

حکومت کی تبدیلی کا خطرہ

اگر طالبان اپنا طرزعمل تبدیل کرنے سے انکار کر دیں تو راستہ کیا ہوگا؟ اس حوالے سے زیر بحث امکانات میں مزید سفارتی دباؤ، طالبان مخالف مزاحمتی قوتوں کی حمایت اور کابل میں وسیع تر سیاسی تبدیلی کی کوششیں شامل ہیں۔

حسن خان مزاحمتی قوتوں کی حمایت کو آخری چارہ کار سمجھتے ہیں لیکن سابق سفیر منصور علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر افغانستان کے داخلی تنازع میں مداخلت یا بیرونی ذرائع سے حکومت تبدیل کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔

جنرل رضا محمد بھی منصور علی خان سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’میرے خیال میں حکومت کی تبدیلی دانش مندانہ راستہ نہیں، عراق، لیبیا، شام اور دیگر ممالک میں امریکا کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسی مداخلتیں کس قدر خطرناک ہو سکتی ہیں، کوئی ملک کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، دوسرے ملک کی حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کے سنگین اور غیر متوقع نتائج برآمد ہو سکتے ہیں‘‘۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سفارت کاری اب بھی ایک قابل نفاذ سلامتی انتظام تشکیل دے سکتی ہے؟ دونوں پڑوسی ممالک اور ان کے عوام کے درمیان اعتماد میں کمی کے باوجود سابق سفیر منصور علی خان پرامید ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’سفارت کاری ناکام نہیں ہوئی، پاکستان کے پاس اب بھی اتنا اثرورسوخ موجود ہے کہ تعلقات کو دوبارہ درست سمت میں لایا جا سکے‘‘۔

بھارت کا افغان کارڈ

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ افغان طالبان پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کو بطور ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں، اس قربت کے نتیجے میں کابل کو ڈرون اور نگرانی کی ٹیکنالوجی تک رسائی ملنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، بعض تجزیہ کار دو محاذوں پر دباؤ ڈالنے کی ممکنہ حکمت عملی کی نشان دہی بھی کررہے ہیں، جس میں نئی دہلی کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ التوا میں رکھنا اور افغانستان کی جانب سے پاکستان کے سلامتی اور آبی وسائل سے متعلق خدشات میں اضافہ شامل ہے۔

تاہم، سابق سفیر منصور علی خان کو شبہ ہے کہ نئی دہلی کابل کو اسلام آباد سے دور کرنے میں کامیاب ہو سکے گی، ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بنیادیں گہری ہیں، جبکہ کابل کے ساتھ بھارت کا تعلق حالات کے تابع ہے، بھارت طویل عرصے سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، اگر ہم اسے یہ موقع نہ دیں تو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اس کی صلاحیت محدود ہو جائے گی‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’افغانستان میں پاکستان کا اثرورسوخ بھارت یا کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے‘‘۔

حملوں سے قابل تصدیق ضمانتوں تک

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سلامتی سے متعلق خدشات حقیقی ہیں جبکہ طالبان کے غیر واضح طرزعمل نے اسلام آباد کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے، ان کے مطابق، پاکستان کا تنازع طالبان قیادت سے ہے، افغان عوام سے نہیں، جو کئی دہائیوں کی جنگ اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں، پاکستان تاریخی طور پر افغان شہریوں کو پناہ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، صحت، تعلیم اور تجارت تک رسائی فراہم کرتا رہا ہے۔

تاہم، اب اسلام آباد محض زبانی یقین دہانیوں پر انحصار کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا، پاکستان کے سرجیکل حملے اس بات کا اشارہ ہیں کہ اس کی حکمت عملی محدود طاقت کے استعمال کے ذریعے دشمن کو کارروائی سے باز رکھنے کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔

خرم عباس کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان بنیادی طور پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جسے بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں مؤثر جواب کے ذریعے روک تھام کرنا کہا جاتا ہے، میرے خیال میں یہ حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے‘‘۔

تاہم، سابق سفیر منصور علی خان کا مؤقف ہے کہ محض فوجی طاقت کے استعمال سے یہ تنازع حل نہیں ہو سکتا اور ان کا کہنا تھا کہ ’’میری رائے میں بہتر راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے‘‘، ان کے نزدیک دوطرفہ تنازعات پر مرکوز ثالثی کے بجائے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کو باہم جوڑنے کے لیے علاقائی معاشی انضمام کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔

اس کے برعکس خرم عباس کا کہنا ہے کہ معاشی انضمام سے پہلے سلامتی کو یقینی بنانا ضروری ہے، ان کے مطابق پاکستان اس وقت تک مزید جانی نقصان برداشت نہیں کر سکتا جب تک علاقائی تعاون کے ثمرات سامنے آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’’آغاز کابل میں موجود ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کی حوالگی سے ہونا چاہیے، اس کے بعد افغان طالبان، پاکستان، چین اور دیگر علاقائی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ نگرانی کمیٹی قائم کی جائے، جو ٹی ٹی پی کے خلاف کابل کی کارروائیوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرے‘‘۔

پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کو ایک قابل تصدیق سلامتی انتظام میں تبدیل کرے اور افغانستان کے داخلی تنازعات میں الجھنے سے گریز کرے، محدود حملے طالبان کی جانب سے عدم کارروائی کی قیمت بڑھا سکتے ہیں لیکن صرف ہدفی کارروائیوں کے ذریعے نہ دہشت گردوں کے پورے نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اعتماد بحال ہو سکتا ہے، اسی طرح، سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ حل کیے بغیر معاشی انضمام کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

آگے بڑھنے کا راستہ مسلسل سفارتی روابط اور واضح اہداف کو یکجا کرنے میں ہے، ان اہداف میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ، دہشت گردوں کی بھرتی اور مالی معاونت کے نیٹ ورکس توڑنا اور سرحد پار دراندازی روکنا شامل ہونا چاہیے، ماہرین کے مطابق، مشترکہ علاقائی نگرانی کا نظام ان اقدامات پر عمل درآمد کی تصدیق میں مدد دے سکتا ہے۔

بالآخر، کابل کو ایک ذمہ دار ریاست کی طرح عمل کرنا ہوگا، نہ کہ کسی مسلح ملیشیا کی طرح، اسے ابہام اور دوغلے پن سے نکلنا ہوگا، دہشت گرد گروہوں کو اسٹریٹجک اثاثے سمجھنا ترک کرنا ہوگا اور زبانی یقین دہانیوں کے بجائے ٹھوس اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ افغان سرزمین پڑوسی ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

بصورت دیگر، طالبان حکومت کی عالمی تنہائی مزید گہری ہو سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی اس کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو جائیں گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

@media print { body { color: inherit; /* Ensures that the color is maintained */ } }